پاکستان، سعودی عرب اور بدلتا ہوا مشرقِ وسطی تحریر : شیخ راشدعالم

فیلڈ مارشل، وزیراعظم اور قومی یکجہتی کا سفارتی پیغام
مشرقِ وسطی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ سمندر میں تیل بردار جہازوں پر حملے، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی معیشت پر منڈلاتے خدشات اور طاقتوں کی نئی صف بندیاں صرف عرب ممالک کا مسئلہ نہیں رہیں بلکہ پاکستان جیسے ممالک بھی ان کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے رابطہ اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کا اعلان ایک معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا واضح پیغام ہے۔
وزیراعظم نے گفتگو میں آئل ٹینکرز پر حملوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل کی جانب سے بھی یہی مقف دہرایا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔
یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق صرف دو ریاستوں کا تعلق نہیں بلکہ عقیدے، تاریخ، معیشت، دفاع اور عوامی جذبات کا رشتہ بھی ہے۔
پاکستان کی لاکھوں افرادی قوت سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستانی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔ مشکل معاشی حالات میں سعودی عرب نے متعدد بار پاکستان کی مالی معاونت کی، تیل کی سہولت فراہم کی اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سعودی عرب کو کسی خطرے کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستان کا ردعمل محض رسمی بیان تک محدود نہیں رہتا۔
آئل ٹینکرز پر حملے دراصل عالمی تجارت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل انہی بحری راستوں سے گزرتا ہے۔ اگر ان راستوں میں بدامنی پیدا ہو تو خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، شپنگ انشورنس مہنگی ہوتی ہے، درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام صارف تک پہنچتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی مہنگائی، توانائی کے بحران اور درآمدی بل کے دبا سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں خلیج میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پاکستان کے لیے صرف سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی چیلنج بھی بن جاتی ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کا سعودی قیادت سے رابطہ ایک بروقت قدم ہے۔ اس سے یہ پیغام گیا کہ پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت توازن رہی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں تو دوسری جانب پاکستان ہمیشہ مسلم دنیا کے اتحاد اور علاقائی امن کی بات کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی کوشش ہوتی ہے کہ کشیدگی کم ہو اور
تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔
فیلڈ مارشل کی موجودگی اور عسکری قیادت کا واضح مقف اس سفارتی پیغام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ تربیت، انٹیلی جنس تعاون، مشترکہ مشقیں اور سیکیورٹی روابط دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔
تاہم موجودہ حالات یہ بھی تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان صرف دفاعی تعاون تک محدود نہ رہے بلکہ معاشی سفارت کاری کو بھی مزید مضبوط بنائے۔ سعودی سرمایہ کاری، توانائی کے منصوبے، معدنی وسائل، آئی ٹی، زراعت اور انفراسٹرکچر میں تعاون دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو امتِ مسلمہ کا اتحاد ہے۔ آج مسلم دنیا کئی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ غزہ کا مسئلہ ہو، شام کی صورتحال ہو، یمن کی جنگ ہو یا خلیج کی کشیدگی، ہر بحران مسلم ممالک کے درمیان بہتر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے ہمیشہ مصالحت اور اتحاد کی آواز بلند کرتا آیا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطی کو صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اوراسڑیٹجک زاویے سے بھی دیکھتی ہیں۔ توانائی کے ذخائر، عالمی تجارتی راستے اور بحری گزرگاہیں اس خطے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ اسی لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔
پاکستان کو اس نازک صورتحال میں انتہائی محتاط خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ کسی بھی فریق کے ساتھ تعلقات استوار رکھتے ہوئے قومی مفاد، علاقائی امن اور اقتصادی استحکام کو اولین ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ امن، استحکام اور سفارت کاری کا حامی بھی ہے۔ آئل ٹینکرز پر حملوں کی مذمت بھی اسی اصولی مقف کا حصہ ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو نشانہ بنانا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی امن کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ قومی اتحاد، مضبوط سفارت کاری اور متوازن خارجہ پالیسی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی حالات میں محفوظ اور مستحکم رکھ سکتا ہے۔
مشرقِ وسطی کے بادل ابھی مکمل طور پر نہیں چھٹے۔ کشیدگی کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا واضح، ذمہ دار اور متوازن مقف نہ صرف اس کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ قومی مفاد، علاقائی استحکام اور دیرینہ دوستوں کے ساتھ وفاداری پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر یہی توازن برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکے گا بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مثر کردار بھی ادا کرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں