کراچی بمقابلہ لاہور: سیاسی نعرہ یا حکمرانی کی ناکامی؟ تحریر: نشید آفاقی

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں ایک ایسا جملہ کہا جس نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ کراچی کے شہریوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کشمیری، کشمیر کو کراچی نہیں بننے دیں گے، وہ کشمیر کو لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔”
یہ محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی بیان ہے جو پاکستان کے دو بڑے شہروں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کشمیر لاہور جیسا بنے گا یا کراچی جیسا، اصل سوال یہ ہے کہ کراچی کو اس حال تک آخر کس نے پہنچایا؟ اگر لاہور ترقی کی مثال ہے تو کراچی محرومی کی علامت کیوں بنا؟ کیا یہ عوام کی ناکامی ہے یا دہائیوں پر محیط حکمرانی کی غلط ترجیحات کا نتیجہ؟
کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے۔ ملکی برآمدات، درآمدات، صنعت، بندرگاہیں، بینکاری، اسٹاک مارکیٹ اور قومی ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ اسی شہر سے وابستہ ہے۔ یہی شہر ملک کے ہر کونے سے آنے والوں کو روزگار دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی شہر آج پانی، سیوریج، ٹریفک، صفائی، ٹوٹی سڑکوں اور بنیادی شہری سہولتوں کے شدید بحران کا شکار ہے۔
اگر آج کوئی سیاست دان کراچی کو ایک منفی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے تو اسے پہلے یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس شہر کی یہ حالت پیدا کس نے کی؟ کراچی نے تو ہمیشہ پاکستان کو دیا ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان نے کراچی کو کیا دیا؟
دوسری جانب لاہور یقینا پاکستان کے ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ جدید انفراسٹرکچر، میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، فلائی اوورز، انڈر پاسز، بہتر پارکس اور شہری منصوبہ بندی اس کی شناخت بن چکی ہے۔ یہ ترقی قابلِ تعریف ہے، لیکن ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہی معیار کراچی، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، ملتان اور دیگر شہروں کو بھی ملا؟ اگر نہیں، تو پھر یہ قومی ترقی نہیں بلکہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا سوال ہے۔
اصل مسئلہ لاہور کی ترقی نہیں بلکہ کراچی کی مسلسل نظراندازی ہے۔ لاہور کا ترقی کرنا پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، مگر کراچی کی بدحالی کو سیاسی طنز کا استعارہ بنا دینا کسی بھی قومی رہنما کے شایانِ شان نہیں۔
احسن اقبال اگر یہ کہتے کہ “ہم کشمیر کو لاہور جیسا ترقی یافتہ اور کراچی کو بھی اسی معیار کا شہر بنائیں گے” تو شاید یہ ایک قومی سوچ کی عکاسی ہوتی۔ مگر جب ایک پاکستانی شہر کو دوسرے کے مقابل ناکامی کی علامت بنا دیا جائے تو اس سے صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے، قومی یکجہتی نہیں۔
کراچی کی موجودہ حالت کسی ایک جماعت یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں۔ یہ کئی دہائیوں کی سیاسی کشمکش، اختیارات کی جنگ، ناقص بلدیاتی نظام، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مسلسل غفلت کا نتیجہ ہے۔ وفاق، صوبہ اور بلدیاتی ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے، مگر اس دوران سب سے زیادہ نقصان کراچی کے شہریوں نے اٹھایا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی معیشت کا سہارا دیا۔ دہشت گردی ہو، معاشی بحران ہو یا قدرتی آفات، کراچی نے ہمیشہ قومی معیشت کا پہیہ چلایا۔ مگر بدلے میں اسے اکثر سیاسی بیانات، وعدے اور محرومیاں ہی ملیں۔
آزاد کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ انہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ جس جماعت کو بہتر سمجھیں، اسے ووٹ دیں۔ لیکن انتخابی جلسوں میں ایسے تقابلی جملے جو ایک پاکستانی شہر کی تضحیک کا تاثر دیں، قومی سیاست کو مزید تقسیم کرتے ہیں۔
کراچی اور لاہور ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی کے دو اہم ستون ہیں۔ اگر لاہور مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا، اور اگر کراچی کمزور ہوگا تو اس کا اثر پوری قومی معیشت پر پڑے گا۔ اس لیے ایک شہر کی کامیابی کو دوسرے کی ناکامی سے جوڑنا دانشمندی نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ترقی کا تصور بھی سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ ایک جماعت لاہور کی مثال دیتی ہے، دوسری کسی اور شہر کی۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر پاکستان کے تمام شہروں کو یکساں ترقی کب ملے گی؟ کیا ترقی صرف ان شہروں کا حق ہے جہاں سیاسی مفاد زیادہ ہو؟
ایک وفاقی وزیر کا منصب پورے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے، کسی ایک شہر کی نہیں۔ ایسے منصب پر بیٹھے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی بات کریں، محرومیوں کو بڑھانے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی حکمت عملی پیش کریں۔
آج کراچی کو کسی سیاسی استعارے کی نہیں بلکہ ایک جامع قومی منصوبے کی ضرورت ہے۔ ایسا منصوبہ جو اس شہر کو پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، بلدیاتی نظام، صنعت، رہائش اور شہری سہولتوں کے بحران سے نکال سکے۔ کیونکہ کراچی کی بحالی صرف کراچی کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بقا کی ضرورت بھی ہے۔
انتخابی نعرے چند دن زندہ رہتے ہیں، مگر شہروں کی تقدیر نسلوں تک اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے سیاست دانوں کو الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔ کروڑوں شہریوں کے شہر کو طنز کا نشانہ بنانا آسان ہے، مگر اسے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اصل قیادت کا امتحان ہے۔
آخر میں سوال پھر وہی ہے جس کا جواب ہر حکومت کو دینا ہوگا۔
لاہور کی ترقی پر پورا پاکستان خوش ہے، مگر کراچی کی بدحالی پر آخر کس کو جواب دینا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جو صرف آزاد کشمیر کے ووٹر نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں