برداشت کا فقدان: اختلافِ رائے سے دشمنی تک…تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا
آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا
ساجد اثر
کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے شہریوں کا اخلاق، برداشت اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کا ظرف ہوتا ہے۔ جب ایک معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی بات سننے، مختلف سوچ کو سمجھنے اور دلیل کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو وہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ لیکن جب اختلافِ رائے کو جرم، تنقید کو بغاوت اور مختلف سوچ رکھنے والوں کو دشمن سمجھا جانے لگے تو یہ کسی بھی قوم کے لیے ایک خطرناک موڑ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ اسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔
چند برس پہلے تک اختلاف کے باوجود رشتے برقرار رہتے تھے۔ دوست مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی ہوتے تھے مگر ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک رہتے تھے۔ خاندانوں میں نظریاتی اختلاف موجود ہوتا تھا مگر محبت اور احترام کی ڈور مضبوط رہتی تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ، ایک تبصرہ یا ایک مختلف رائے برسوں پرانے تعلقات کو ختم کر دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے برداشت ہماری سماجی لغت سے آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع فراہم کیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عدم برداشت، نفرت اور جلد بازی کو بھی فروغ دیا۔ لوگ کسی خبر کی تصدیق کیے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں، مخالف آواز کو سننے کے بجائے اسے خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور دلیل کے بجائے طنز، تضحیک اور گالم گلوچ کا سہارا لیتے ہیں۔

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے
مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے
اسے تو اپنی بھی صورت نظر نہیں آتی
وہ اپنے شیشہء دل کی تو گرد صاف کرے

اعجاز رحمانی

یہ رویہ نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ نوجوان نسل کی سوچ اور کردار پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں۔ گھروں میں والدین بچوں کی بات سننے کے بجائے حکم سناتے ہیں، تعلیمی اداروں میں سوال کرنے والے طالب علم کو نافرمان سمجھا جاتا ہے، دفاتر میں اختلاف رکھنے والے ملازم کو ناپسند کیا جاتا ہے اور سیاسی میدان میں مخالف جماعت کو دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ جب معاشرے کے ہر شعبے میں برداشت کم ہونے لگے تو اس کے اثرات قومی وحدت، انصاف اور ترقی پر بھی پڑتے ہیں۔
اسلام نے بھی اختلاف کو اخلاق اور حکمت کے دائرے میں رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ کریم میں حکمت اور بہترین انداز سے گفتگو کرنے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ رسولِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی برداشت، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کی روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے سخت ترین مخالفت کے باوجود مخالفین کے ساتھ عدل، احترام اور رحمت کا رویہ اختیار کیا۔ اگر ہم واقعی اسلامی معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے بھی اس تعلیم کو اپنانا ہوگا۔
عدم برداشت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے لگے ہیں۔ ہمیں یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ سچائی کا ایک سے زیادہ زاویہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم سننے سے زیادہ بولنے کو اہمیت دیتے ہیں اور سمجھنے سے زیادہ جواب دینے کی تیاری کرتے رہتے ہیں۔ یہی رویہ فاصلے پیدا کرتا ہے اور معاشرے کو تقسیم در تقسیم کی طرف لے جاتا ہے۔
تعلیم، تربیت اور میڈیا اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسکولوں اور جامعات میں مکالمے کی روایت کو فروغ دیا جائے، بچوں کو اختلاف کے باوجود احترام کرنا سکھایا جائے، میڈیا سنسنی کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد اپنی تحریروں اور تبصروں میں شائستگی اختیار کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی اظہار کا مطلب دوسروں کی تذلیل نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اپنی بات پیش کرنا ہے۔
آج پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ فکری اور اخلاقی استحکام کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو عزت دیں، جہاں دلیل کو غصے پر ترجیح دی جائے، جہاں مکالمہ نفرت کی جگہ لے لے اور جہاں تعلقات نظریات کی نذر نہ ہوں، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے۔
آئیے ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ کیا ہم واقعی دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم اختلاف کو سیکھنے کا موقع سمجھتے ہیں یا اپنی انا کی شکست؟ اگر ہر فرد اپنے حصے کی برداشت، شائستگی اور احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو یقینا ہمارے گھروں، اداروں اور پورے معاشرے میں محبت، اعتماد اور یکجہتی کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
اختلافِ رائے کبھی بھی دشمنی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو مختلف آوازوں کو دبانے کے بجائے سننا جانتی ہیں، دلیل سے جواب دیتی ہیں اور احترام کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مہذب، پرامن اور مضبوط معاشرہ بنا سکتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں