خبر میں خبر…..ماجد علی سید

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور اسلام آباد اس اہم سفارتی عمل کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق دونوں ممالک پاکستان کی تجویز پر بات چیت کے لیے آمادہ ہوئے، جبکہ اس پیش رفت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا ہے۔
قارئین کے لئے یہ خبر محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک نیا امتحان بھی ہے۔ ماضی میں ہم نے کئی بار عالمی معاملات میں ’’اہم کردار‘‘ ادا کرنے کا دعویٰ سنا، مگر اس بار فرق یہ ہے کہ بیانیہ زیادہ مربوط اور پْراعتماد نظر آتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان صرف ردعمل دینے والی ریاست نہیں بلکہ پیش قدمی کرنے والا فریق بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
لیکن اصل سوال یہاں بھی وہی ہے جو ہر بڑی کامیابی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، کیا یہ لمحاتی سفارتی کامیابی ہے یا مستقل پالیسی کا آغاز؟
کیونکہ ثالثی صرف ملاقات کروانے کا نام نہیں، بلکہ اعتماد برقرار رکھنے، غیر جانبداری ثابت کرنے اور نتیجہ خیز پیش رفت یقینی بنانے کا ایک طویل عمل ہے۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو نئی بلندی دے سکتا ہے۔ ہم عالمی طاقتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر اپنے سیاسی مخالفین کو ایک کمرے میں بٹھانا اب بھی مشکل کام لگتا ہے۔
خبر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے ڈیزل 135 روپے اور پٹرول 12 روپے فی لیٹر سستا کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں نمایاں حد تک کم ہو گئی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا گیا ہے۔
یہ خبر براہِ راست عوام کے معاشی مسائل سے جڑی ہے اور اسی لیے سب سے زیادہ اہم بھی محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، کیونکہ اس کا اثر زراعت سے لے کر ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ تک جاتا ہے۔
حکومت کا یہ قدم قابلِ تعریف ہے کہ اس نے عالمی کمی کو عوام تک منتقل کیا، مگر یہاں سوال اْٹھتا ہے کیا یہ ریلیف ایک مستقل معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے یا وقتی دباؤ کا نتیجہ؟
ماضی کا تجربہ کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ قیمتیں بڑھانے میں تاخیر نہیں ہوتی، مگر کم کرنے میں اکثر ’’حساب کتاب‘‘ لمبا ہو جاتا ہے۔ اگر اس بار واقعی نیت یہ ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے تو اس کے اثرات ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ اشیاء￿ کی قیمتوں میں بھی نظر آنے چاہئیں۔
ورنہ یہ کمی صرف پٹرول پمپ کی سکرین تک محدود رہ جائے گی اور عوام پھر وہی پرانا سوال پوچھیں گے، ‘‘ہمیں اصل فائدہ کب ملے گا؟‘‘
خبر ہے کہ سندھ حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت کاروباری مراکز کے اوقات کار محدود کر دیے ہیں، جس کے مطابق بڑے شہروں میں رات 9 بجے اور دیگر اضلاع میں رات 8 بجے دکانیں بند کرنا لازم قرار دیا گیا ہے، تاکہ توانائی کی بچت اور اخراجات میں کمی ممکن ہو
سکے۔
کفایت شعاری بلاشبہ ایک ضروری قدم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک معاشی دباؤ کا شکار ہو۔ مگر مسئلہ نیت کا نہیں، اطلاق کا ہے۔
پاکستان میں کفایت شعاری اکثر ایک ’’یک طرفہ پالیسی‘‘ بن جاتی ہے، جس کا آغاز بھی عام آدمی سے ہوتا ہے اور اختتام بھی وہیں ہو جاتا ہے۔ دکانیں جلد بند کرنے کا فیصلہ بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کی روزی روٹی شام کے کاروبار سے جڑی ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ریاست خود بھی اسی جذبے سے کفایت شعاری کر رہی ہے؟ کیا سرکاری اخراجات، پروٹوکول اور مراعات میں بھی اسی طرح کمی آ رہی ہے؟
طنز یہاں خود پیدا ہو جاتا ہے، ہمیں کہا جاتا ہے بجلی بچائیں، مگر وہ نظام نہیں بدلا جاتا جو سب سے زیادہ بجلی ’’کھاتا‘‘ ہے۔
پاکستان بیک وقت عالمی سفارت کاری، معاشی ریلیف اور داخلی نظم و ضبط کے تین محاذوں پر کھڑا ہے۔ یہ ایک مثبت سمت بھی ہو سکتی ہے، اگر ان اقدامات میں تسلسل، ہم آہنگی اور نیت کی یکسانیت ہو، ورنہ یہی خبریں کل سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہوں گی۔
کیونکہ آخرکار، ریاست کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ وہ کتنے بڑے دعوے کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے فیصلوں کا اثر عام آدمی کی زندگی میں کتنا واضح اور دیرپا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں