یہ کون سا حساب ہے؟نشید آفاقی

ملک میں ایک عجیب سا حساب چل رہا ہے، ایسا حساب جسے نہ ریاضی والے سمجھ پا رہے ہیں نہ عوام۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کم ہو رہی ہے، مگر بازار جائیں تو لگتا ہے دکانداروں نے شاید کسی اور ہی کیلکولیٹر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے ‘‘ریلیف مل رہا ہے’’، دوسری طرف جیب پوچھتی ہے ‘‘وہ کہاں ہے؟’’
سبزی والے سے پوچھیں تو وہ کہتا ہے بھائی جی، ریٹ کم نہیں ہوئے، اوپر سے آئے ہیں۔ آٹے والے کا اپنا دکھ ہے، چینی والے کی اپنی کہانی، اور گھی والا تو ایسے دیکھتا ہے جیسے ہم اس سے ادھار مانگنے آئے ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر مہنگائی کم ہو رہی ہے تو پھر یہ مہنگی چیزیں کہاں سے آ رہی ہیں؟ یا پھر شاید مہنگائی صرف فائلوں میں کم ہوئی ہے، زمین پر نہیں۔ دکان دار بھی بیچارہ یہی کہتا ہے کہ ‘‘ہم نے بھی تو مہنگا خریدا ہے’’، اور یوں یہ حساب آگے سے آگے منتقل ہوتا جاتا ہے۔
سڑکوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کاغذوں میں شاہراہیں چمک رہی ہیں، حقیقت میں گلیاں اور سڑکیں ایسے لگتی ہیں جیسے کسی نے جان بوجھ کر ‘‘آف روڈ ڈرائیونگ’’ کا تجربہ دینے کے لیے بنائی ہوں۔ ہر دوسرا گڑھا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمیں یاد دلا رہا ہو کہ ‘‘احتیاط کریں، آپ پاکستان میں ہیں!’’ گاڑی چلانے والا ڈرائیور کم اور کرتب دکھانے والا زیادہ لگتا ہے۔ بارش ہو جائے تو یہی گڑھے چھوٹے تالاب بن جاتے ہیں، اور سڑک کا اصل نقشہ ڈھونڈنا بھی ایک ہنر بن جاتا ہے۔
اور گیس… اس کا تو ذکر ہی نہ کریں۔ گیس اب نعمت سے بڑھ کر کسی خواب جیسی چیز بن چکی ہے۔ صبح کے وقت چولہا جلانا ایسے لگتا ہے جیسے کسی امتحان میں پاس ہونا ہو۔ کبھی آتی ہے، کبھی نہیں، اور جب آتی ہے تو اتنی کمزور کہ چائے بھی سوچ میں پڑ جاتی ہے کہ بنوں یا نہ بنوں۔ گھروں میں اب کھانا پکانے کے اوقات بھی گیس کی مرضی سے طے ہوتے ہیں، نہ کہ گھر والوں کی ضرورت سے۔
بجلی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ بل آئے تو لگتا ہے جیسے کسی نے محبت نامہ بھیجا ہو—لمبا، تفصیلی اور دل دہلا دینے والا۔ یونٹس کم استعمال ہوں تب بھی بل زیادہ آتا ہے، اور اگر زیادہ استعمال کریں تو پھر تو لگتا ہے بجلی نہیں، کوئی لگڑری آئٹم استعمال کر رہے ہیں۔ عوام اب پنکھا چلانے سے پہلے بھی سوچتی ہے کہ ‘‘یہ ہوا کتنے کی پڑے گی؟’’ اور ایئر کنڈیشنر تو ویسے ہی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔
ایسے میں عام آدمی کیا کرے؟ کام کرے تو کمائی مہنگائی کے سامنے ہار جاتی ہے، بچت کرے تو ضروریات منہ چڑاتی ہیں۔ ایک طرف کہا جاتا ہے ‘‘صبر کریں’’، دوسری طرف حالات کہتے ہیں ‘‘اور کتنا؟’’ متوسط طبقہ سب سے زیادہ پس رہا ہے، نہ وہ اتنا امیر ہے کہ آسانی سے سب برداشت کر لے، نہ اتنا غریب کہ کسی امداد کا مستحق ٹھہرے۔
حکومت کی طرف سے اعلانات کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ کبھی سبسڈی، کبھی ریلیف پیکیج، کبھی نئی اسکیم۔ مگر عوام کے حصے میں آتا کیا ہے؟ وہی پرانا سوال: ‘‘یہ ریلیف کہاں ہے؟’’ شاید یہ ریلیف بھی کسی خفیہ مقام پر رکھا ہوا ہے، جہاں پہنچنے کے لیے خاص اجازت درکار ہے۔ ہر اعلان سن کر امید تو بنتی ہے، مگر جلد ہی حقیقت اسے توڑ دیتی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہر مسئلے کا حل بھی موجود ہوتا ہے، مگر صرف بیانات میں۔ سڑکیں بن رہی ہیں، گیس کے منصوبے آ رہے ہیں، بجلی سستی ہو رہی ہے—یہ سب سننے میں تو بہت اچھا لگتا ہے، مگر حقیقت میں عوام اب بھی اسی جگہ کھڑی ہے جہاں پہلے تھی۔ وقت گزرتا جا رہا ہے، مگر حالات کا دائرہ وہیں گھوم رہا ہے۔
عوام کی حالت اس طالب علم جیسی ہو گئی ہے جو ہر سال یہ سن کر خوش ہوتا ہے کہ ‘‘اس بار امتحان آسان ہوگا’’، مگر جب پرچہ سامنے آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سوالات ہی بدل گئے ہیں۔ یہاں بھی ہر بار امید دی جاتی ہے، مگر نتیجہ وہی نکلتا ہے۔ لوگ اب وعدوں سے زیادہ اپنے تجربے پر یقین کرنے لگے ہیں۔
یہ کون سا حساب ہے جس میں آمدنی وہی رہتی ہے مگر خرچے بڑھتے جاتے ہیں؟ یہ کون سا فارمولا ہے جس میں مہنگائی کم ہوتی ہے مگر چیزیں مہنگی رہتی ہیں؟ یہ کون سی ترقی ہے جس میں سڑکیں ٹوٹتی ہیں، گیس غائب ہوتی ہے اور بجلی مہنگی ہوتی جاتی ہے؟ یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں، پوری قوم کا ہے۔
شاید یہ نیا معاشی ماڈل ہے، جسے سمجھنے کے لیے عوام کو ابھی کچھ اور صبر کرنا ہوگا۔ یا پھر یہ وہی پرانا حساب ہے جس میں جمع ہمیشہ اوپر والوں کے لیے ہوتی ہے اور تفریق نیچے والوں کے حصے میں آتی ہے۔ اس حساب میں توازن کہیں نظر نہیں آتا، بس بوجھ ایک طرف جھکا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
آخر میں عوام کے پاس ایک ہی آپشن بچتا ہے: یا تو وہ اس حساب کو سمجھنے کی کوشش چھوڑ دے، یا پھر خود کو اس کے مطابق ڈھال لے۔ کیونکہ یہاں سوال پوچھنے سے زیادہ ضروری ہے زندہ رہنا، اور زندہ رہنے کے لیے ہر دن ایک نیا حساب سیکھنا پڑتا ہے۔
تو جناب، اگر آپ کو کبھی یہ لگے کہ آپ اس حساب کو نہیں سمجھ پا رہے، تو پریشان نہ ہوں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ پورا ملک یہی سوچ رہا ہے:
‘‘یہ کون سا حساب ہے؟’’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں