بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت: پاکستانی معاشرے میں ایک سماجی رویہ تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

ہماری بیٹیوں کا ظرف دیکھ لے دنیا
ہم اُن کے سامنے بیٹے دعا میں مانگتے ہیں
احمد سلیم

پاکستانی معاشرہ روایات، ثقافت اور خاندانی اقدار کا حامل معاشرہ ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، لیکن آج بھی بعض سماجی رویے ایسے ہیں جو خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم مسئلہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف خواتین کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔
بیٹوں کو ترجیح دینے کی وجوہات
پاکستانی معاشرے میں بیٹوں کو ترجیح دینے کی کئی وجوہات ہیں۔ بعض لوگ بیٹے کو خاندان کا نام اور نسل آگے بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بیٹوں کو معاشی سہارا اور بڑھاپے کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں میں وراثت اور جائیداد کے معاملات بھی اس سوچ کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ صدیوں پرانی روایات اور سماجی دباؤ بھی اس رجحان کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔
بیٹیوں کے ساتھ امتیازی سلوک
بیٹوں کو فوقیت دینے کا اثر اکثر بیٹیوں کی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی حقوق پر پڑتا ہے۔ اکثر خاندانوں میں اچھا کھانا بیٹوں کے لیے الگ کیا جاتا ہے جبکہ جو بچ جاتا ہے وہ بیٹیوں کا حصہ ہوتا ہے۔ کئی خاندانوں میں بیٹوں کی تعلیم پر زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ان کے لیے زیادہ بہترین اور مہنگے تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے جبکہ بیٹیوں کی تعلیم کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کو بیٹوں کے مقابلے میں کم بہتر اور سستے تعلیمی ادراوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
بعض اوقات بیٹیوں کو اپنی پسند کے مطابق تعلیم، ملازمت یا زندگی کے فیصلے کرنے کی آزادی بھی نہیں دی جاتی۔ یہاں تک کہ والدین سے محبت بھی بیشتر بیٹیوں کو یکساں نہیں ملتی۔ بیٹوں کو زیادہ پیار محبت لاڈ ملتا ہے۔
یہ رویے ان کی صلاحیتوں کو محدود کر دیتے ہیں۔
معاشرے پر منفی اثرات
یہ امتیازی سوچ معاشرے میں عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔ جب خواتین کو مساوی مواقع نہیں ملتے تو ملک اپنی آدھی آبادی کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ اس کے نتیجے میں معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی خوشحالی متاثر ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ بیٹیوں کو کمتر سمجھنے کا رجحان ان کی خود اعتمادی پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو برابر عزت اور احترام دیا ہے۔ قرآن و سنت میں بیٹیوں کی پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے بیٹیوں کی اچھی تربیت کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دی۔ لہٰذا بیٹیوں کو کمتر سمجھنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
موجودہ دور میں بیٹیوں کی کامیابیاں
آج پاکستانی خواتین تعلیم، طب، انجینئرنگ، کاروبار، سیاست، صحافت اور کھیلوں سمیت ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔ اس حقیقت نے پرانی سوچ کو چیلنج کیا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔
حل اور تجاویز
اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ والدین بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان مساوات کا رویہ اپنائیں۔ تعلیم کے ذریعے شعور بیدار کیا جائے اور خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور مذہبی رہنما بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت کو بھی ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو خواتین کو مساوی مواقع فراہم کریں۔
نتیجہ
بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینا ایک فرسودہ سماجی رویہ ہے جس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔ جب ہر بچے کو بلاامتیاز تعلیم، عزت اور ترقی کے مساوی مواقع ملیں گے تو ایک مضبوط، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں