بڑھتی آبادی، محدود وسائل اور ترقی کا سوال ؟ منظر پس منظر۔۔تحریر صبیحہ خان صبیحہ

پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک ایسا مسئلہ ہے جو تقریباً ہر شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے مقابلے میں وسائل، روزگار کے مواقع، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور بنیادی سہولیات اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ نتیجتاً غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، مگر معیشت اتنی مضبوط نہیں کہ ان کے لیے مناسب ملازمتیں پیدا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار کے لیے پریشان نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔حکومتیں اکثر ترقی کے نام پر سڑکیں، پل، انڈر پاسز اور بڑے بڑے منصوبے پیش کرتی ہیں۔ بلاشبہ انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کی ضرورت ہے، لیکن صرف ہائی ویز اور فلائی اوورز تعمیر کر دینا ترقی کا مکمل معیار نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب عوام کو معیاری تعلیم، بہتر صحت کی سہولیات، صاف پانی، روزگار اور باعزت زندگی میسر ہو۔ اگر شہری بنیادی ضروریات سے محروم ہوں تو بلند و بالا عمارتیں اور شاندار مالز ترقی کی اصل تصویر پیش نہیں کر سکتیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی معیشت کا بڑا حصہ قرضوں کےسہارے چل رہا ہےایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض لیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ترقی کے دعوے عوام کے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتے، کیونکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری محسوس نہیں ہوتی۔ جب تک پیداواری شعبوں،صنعت، زراعت، تعلیم اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی، معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکے گی۔بڑھتی آبادی خود مسئلہ نہیں، اگر اسے تعلیم یافتہ، ہنر مند اور پیداواری قوت میں تبدیل کر دیا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی بڑی آبادی کو معاشی طاقت بنایا ہے، لیکن اس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی،معیاری تعلیم اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آبادی کے مسئلے پر سنجیدگی سے کام کم اور سیاسی نعروں پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی کی تعریف کو صرف کنکریٹ، سیمنٹ اور نمائشی منصوبوں تک محدود نہ رکھا جائے۔ قوموں کی اصل ترقی انسانوں میں سرمایہ کاری سے ہوتی ہے۔ جب ایک بچہ اچھی تعلیم حاصل کرے، ایک مریض کو علاج میسر ہو، ایک نوجوان کو روزگار ملے اور ایک خاندان غربت سے نکل کر خوشحال زندگی گزار سکے، تب ہی ترقی کے دعوے حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ورنہ سڑکیں کشادہ ہوتی رہیں گی، پل بنتے رہیں گے، مالز آباد ہوتے رہیں گے، لیکن عوام کے خواب اور مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔قوموں کی ترقی عمارتوں کی اونچائی سے نہیں، انسانوں کے معیارِ زندگی سے ناپی جاتی ہے۔پاکستان کے بعد یا پاکستان کے آس پاس کے دور میں ترقی کی راہ پر گامزن ہونے والے کئی ممالک آج معاشی، تعلیمی اور صنعتی میدان میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ Malaysia، Bangladesh اور Turkey کی مثالیں اکثر دی جاتی ہیں۔ البتہ Japan پاکستان کے بعد آزاد نہیں ہوا تھا، لیکن دوسری جنگِ عظیم کی تباہی کے بعد اس نے غیر معمولی ترقی ضرور کی۔سوال یہ نہیں کہ ان ممالک کے پاس کون سا جادو تھا، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے کن شعبوں کو ترجیح دی۔ زیادہ تر کامیاب ممالک نے تعلیم، صنعتی ترقی، برآمدات، سائنسی تحقیق، اچھی حکمرانی اور آبادی کی منصوبہ بندی پر مسلسل توجہ دی۔ پالیسیوں کا تسلسل بھی ان کی کامیابی کا ایک اہم سبب رہا۔جہاں تک آبادی کا تعلق ہے، ماہرینِ معیشت عام طور پر آبادی کو بذاتِ خود مسئلہ نہیں سمجھتے۔ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اگر آبادی کی رفتار معیشت، تعلیم، روزگار اور وسائل کی رفتار سے زیادہ ہو جائے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ایک ملک اپنے شہریوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار فراہم کر دے تو یہی آبادی ایک طاقت بن جاتی ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو یہی آبادی ریاست پر بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
ترقی یافتہ قومیں صرف آبادی کو نہیں گنتیں، وہ اپنے ہر شہری کی صلاحیت کو قومی سرمایہ بناتی ہیں۔ جب انسان کو نظرانداز کر دیا جائے تو وسائل بھی کم پڑ جاتے ہیں، اور جب انسان کو سنوار لیا جائے تو محدود وسائل بھی ترقی کی بنیاد بن جاتے ہیں عوام البتہ یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے شعبوں میں وہ نتائج کیوں حاصل نہ ہو سکے جن کی عوام کو توقع تھی۔ جب پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو، ادارے کمزور ہوں، بدعنوانی موجود ہو، اور قومی ترجیحات بار بار تبدیل ہوتی رہیں تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔اصل تشویش یہ ہونی چاہیے کہ آج بھی ملک میں لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں، بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، اور بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں۔ اگر کسی قوم کو مضبوط بنانا ہو تو اسے سڑکوں اور عمارتوں سے پہلے تعلیم، شعور، قانون کی بالادستی اور معاشی مواقع دینے پڑتے ہیں پاکستان کو قدرت نے زرخیز زمینیں، دریاؤں کا وسیع نظام، چار موسم اور نوجوان آبادی جیسی بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی صلاحیتوں کے باوجود ملک معاشی طور پر خود کفیل کیوں نہ بن سکا؟اس کی ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ طویل المدت معاشی منصوبہ بندی اور پالیسیوں کا تسلسل کمزور رہا۔ ہر نئی حکومت نے اکثر نئی ترجیحات متعارف کرائیں، جبکہ صنعت، زراعت، تعلیم اور برآمدات جیسے شعبے مسلسل توجہ چاہتے ہیں۔ جب پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور روزگار کے مواقع بھی مطلوبہ رفتار سے پیدا نہیں ہوتے۔زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی پیداوار کے مسائل، پانی کا غیر مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی کی کمی، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولیات اور کسانوں کو مناسب سہارا نہ ملنے کے باعث پاکستان بعض اشیائے خورونوش درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب صنعتوں کو درپیش توانائی، ٹیکس اور پالیسی کے مسائل نے بھی ملکی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک صرف قرضوں، تعمیراتی منصوبوں یا وقتی معاشی اعداد و شمار سے خوشحال نہیں بنتا۔ پائیدار خوشحالی تب آتی ہے جب نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہو، چھوٹے کاروبار ترقی کریں، صنعتیں چلیں، زراعت منافع بخش ہو اور تعلیم یافتہ افراد کو اپنی صلاحیتیں ملک کے اندر استعمال کرنے کا موقع ملے اکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس زرخیز زمینیں، نوجوان آبادی اور قدرتی وسائل موجود ہوں، وہ خود کفالت کی منزل حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ قومی ترجیحات سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، روزگار، زراعت اور صنعت پر مرکوز ہوں۔ افسوس کہ عوام کو اکثر خوشحالی کے خواب تو دکھائے گئے، مگر ایسی پالیسیاں کم بن سکیں جو ان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتیں۔قومیں وعدوں سے نہیں، مواقع سے ترقی کرتی ہیں۔ جب نوجوان کو روزگار، کسان کو سہارا اور صنعت کو استحکام مل جائے تو خوشحالی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن جاتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران ہے۔ یہاں نوجوان ڈگری لے کر روزگار ڈھونڈتا ہے، کسان اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے، مزدور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، جبکہ سیاسی بحثیں اکثر ایسے موضوعات کے گرد گھومتی رہتی ہیں جن کا عام آدمی کی زندگی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔77سال بعد بھی اگر عوام کی بنیادی ضروریات، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہی سب سے بڑے مسائل ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترقی کا معیار کیا ہے؟ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے شہریوں سے بنتی ہیں جو تعلیم یافتہ، بااختیار اور پُرامید ہوں۔ جب تک انسان کو ترقی کا مرکز نہیں بنایا جائے گا، ترقی کے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ برقرار رہے گا۔کیونکہ توجہ مسائل کے ساتھ ساتھ پالیسی اور ترجیحات پر رہتی ہے، نہ کہ صرف شخصیات پر۔خوشحال ملک وہ نہیں جہاں عمارتیں بلند ہوں، خوشحال ملک وہ ہے جہاں انسان کا معیارِ زندگی بلند ہو۔
دوسری جانب صنعتوں کو درپیش توانائی، ٹیکس اور پالیسی کے مسائل نے بھی ملکی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک صرف قرضوں، تعمیراتی منصوبوں یا وقتی معاشی اعداد و شمار سے خوشحال نہیں بنتا۔ پائیدار خوشحالی تب آتی ہے جب نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہو، چھوٹے کاروبار ترقی کریں، صنعتیں چلیں، زراعت منافع بخش ہو اور تعلیم یافتہ افراد کو اپنی صلاحیتیں ملک کے اندر استعمال کرنے کا موقع ملے اکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس زرخیز زمینیں، نوجوان آبادی اور قدرتی وسائل موجود ہوں، وہ خود کفالت کی منزل حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ قومی ترجیحات سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، روزگار، زراعت اور صنعت پر مرکوز ہوں۔ افسوس کہ عوام کو اکثر خوشحالی کے خواب تو دکھائے گئے، مگر ایسی پالیسیاں کم بن سکیں جو ان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتیں۔قومیں وعدوں سے نہیں، مواقع سے ترقی کرتی ہیں۔ جب نوجوان کو روزگار، کسان کو سہارا اور صنعت کو استحکام مل جائے تو خوشحالی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن جاتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران ہے۔ یہاں نوجوان ڈگری لے کر روزگار ڈھونڈتا ہے، کسان اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے، مزدور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، جبکہ سیاسی بحثیں اکثر ایسے موضوعات کے گرد گھومتی رہتی ہیں جن کا عام آدمی کی زندگی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔77سال بعد بھی اگر عوام کی بنیادی ضروریات، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہی سب سے بڑے مسائل ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترقی کا معیار کیا ہے؟ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے شہریوں سے بنتی ہیں جو تعلیم یافتہ، بااختیار اور پُرامید ہوں۔ جب تک انسان کو ترقی کا مرکز نہیں بنایا جائے گا، ترقی کے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ برقرار رہے گا۔کیونکہ توجہ مسائل کے ساتھ ساتھ پالیسی اور ترجیحات پر رہتی ہے، نہ کہ صرف شخصیات پر۔خوشحال ملک وہ نہیں جہاں عمارتیں بلند ہوں، خوشحال ملک وہ ہے جہاں انسان کا معیارِ زندگی بلند ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں