ماسی کلچر: ضرورت سے اسٹیٹس سمبل تک..صبیحہ خان صبیحہ

کینیڈا میں رہتے ہوئے ایک بات بہت جلد سمجھ آجاتی ہے کہ یہاں زندگی کی گاڑی ہر شخص کو اپنے ہاتھوں سے چلانی پڑتی ہے۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہوں، انجینئر، استاد یا کاروباری شخصیت، صبح کا ناشتہ بنانا، بچوں کو تیار کرنا، گھر کی صفائی، کپڑے دھونا، برتن صاف کرنا، خریداری کرنا، لان کی گھاس کاٹنا، برف ہٹانا، سب کچھ اپنی ذمہ داری ہے۔ یہاں گھریلو کام کسی کی سماجی حیثیت کا نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ترقی یافتہ ملک کا وزیر اعظم اپنی فیملی کے ساتھ چھٹی پر جاتے ہیں تو اپنا سامان خود اٹھایا ہوتا ہے کوئی ملازمین کی فوج ان کے ساتھ نہیں ہوتی ،لیکن جب وطن عزیز کا رخ ہوتا ہے تو ایک بالکل مختلف منظر سامنے آتا ہے کسی رشتہ دار کے گھر جائیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک ماسی صرف روٹی پکانے کے لیے، دوسری صفائی کے لیے، تیسری برتنوں کے لیے، چوتھی کپڑے استری کرنے کے لیے، اور اگر گھر بڑا ہو توڈرائیور، مالی اور چوکیدار بھی الگ ۔دوسری طرف بیگم صاحبہ کبھی جم میں مصروف ہیں، کبھی بیوٹی سیلون میں، کبھی شاپنگ اور کبھی سوشل تقریبات میں۔سوال یہ نہیں کہ گھریلو ملازم رکھنا غلط ہے۔ اگر کسی کے پاس وسائل ہیں اور وہ ملازمین کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، مناسب تنخواہ دیتے ہیں اور عزت سے پیش آتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ کام جسے ہم خود بآسانی کر سکتے ہیں، اس کے لیے بھی کسی دوسرے انسان پر انحصار ضروری ہے؟لوگوں کو گھریلو کاموں کے لئے ملازماؤں کی جتنی ضرورت موجودہ دور میں ہے پہلے کبھی نہ تھی ،حالانکہ ماضی کے دور میں تو گھروں میں آج جیسی مسالہ پیسنے ، کپڑے دھونے اور مختلف کام سرانجام دینے والی جدید مشینوں کی سہولت بھی نہیں تھی مگر اب ان تمام آسائشوں کے باوجود ملازمہ کے بغیر خواتین کو اپنی زندگی ادھوری لگتی ہے۔ اکثر گھروں میں ماسیوں کا پورا کنبہ مختلف کاموں پرمامورہوتا ہے اور ہمیں یقین واثق ہے کہ اگر یہ خادمائیں ایک دن ہڑتال کر دیں تو بہت سی خواتین ممکن ہے صدمے اور غم کے باعث کوئی انتہائی اقدام نہ کر بیٹھیں کیونکہ گھریلو کام کاج اکثر خواتین کوکسی عذاب سے کم نہیں لگتا۔ ایک دن کام والی نہیں آتی تو گھر میں گویا طوفان کی سی کیفیت بپا ہوجاتی ہے۔ گھر کا ہر فرد ملازمہ کو کوس رہا ہوتا ہے۔ اگر ملازمہ کی بیماری کی اطلاع موصول ہو جائے تو اسے محض بہانے کا نام دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابھی پچھلے ہفتہ تو وہ بیمار ہوئی تھی۔ گھر کی مالکن ملازمہ کی بیماری کے خیال سے ہی لرز اٹھتی ہے کہ اب اسے برتن دھونے پڑیں گے، آٹا گوندھنا پڑے گا۔پوش علاقوں میں رہنے والے اکثر ایلیٹ گھرانے صرف نوکروں کے بل پر چلتے ہیں۔ کچن سمیت پورا گھر ہی ملازماﺅں پرچھوڑدیا جاتا ہے۔ گھر کی بیگمات کا زیادہ تروقت شاپنگ، پارٹیز، سالونز اور جم کی نذر ہوجاتا ہے ۔ نہ انہیں گھریلو کاموں سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی اتنی فرصت کہ ان کاموں میں اپنا وقت گنوائیں ۔گھر کے کام کرنا کوئی شرمندگی کی بات نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ کینیڈا میں بچے بھی کم عمری سے اپنا بستر خود ٹھیک کرنا، برتن ڈش واشر میں رکھنا، کپڑے فولڈ کرنا اور کمرہ صاف کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ یہی عادت انہیں خودمختار اور ذمہ دار بناتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات گھر کے کام کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون خود باورچی خانے میں کام کرے تو بعض لوگ حیرت سے کہتے ہیں، “اتنے بڑے گھر میں ماسی نہیں؟گویا محنت کرنا عزت کم ہونے کی علامت ہو۔ حالانکہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں خود کام کرنا باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بے شمار خواتین گھریلو ملازمت کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں۔ اس لیے یہ پیشہ معاشرے کی معاشی ضرورت بھی ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ انہیں ملازم نہیں بلکہ انسان سمجھا جائے۔ ان کے ساتھ عزت، انصاف، مناسب اجرت اور آرام کا حق بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ہمارے اپنے حقوق ،ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ماسی رکھنا واقعی ضرورت ہے یا صرف ایک سماجی رواج بن چکا ہے؟ اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے لگیں تو نہ صرف خود انحصاری بڑھے گی بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی محنت، سادگی اور ذمہ داری کا شعور پیدا ہوگا۔کیونکہ ہاتھ سے کیا گیا کام کبھی عزت کم نہیں کرتا، بلکہ انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔  کبھی لالی وڈ اور بالی وڈ کی باتیں ہوتی تھیں، اب لگتا ہے ایک نئی انڈسٹری بھی وجود میں آ گئی ہے… ‘ماسی وڈ’! جہاں ہر کام کے لیے الگ کردار، الگ ذمہ داری اور الگ معاوضہ موجود ہے گھریلو ملازماﺅں کی مانگ اتنی ہے کہ ان کی باقاعدہ صنعت یاانڈسٹری”ماسی وڈ“ موجود ہے جہاں ہر عمر کی خادمائیں اور ملازم بکثرت دستیاب ہیں۔ ا آج کل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گھریلو ملازم رکھنا ایک باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صفائی کے لیے الگ ماسی، برتنوں کے لیے الگ، کھانا پکانے کے لیے الگ، کپڑے استری کرنے کے لیے الگ۔ یوں لگتا ہے جیسے بعض گھروں میں انسان کم اور ملازمین زیادہ ہوں۔ “خدا نہ کرے کبھی ‘ماسی وڈ’ میں ہڑتال ہو جائے، ورنہ کچھ گھروں میں چائے کا کپ بھی ایک قومی مسئلہ بن جائے!سب سے افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ کم عمر ملازمین جن کی عمر پڑھنے لکھنے کھیلنے کودنے کی ہے وہ گھروں میں کام کرتے ہیں اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے جن میں کتابیں ہونا چاہیے وہ مالکان کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں ۔تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک طرف مہنگائی کا شور ہے، بجٹ کا رونا ہے، اور دوسری طرف ایسےاخراجات کو بھی ضروری سمجھ لیا گیا ہے جن کے بغیر بھی گزارا ممکن ہے۔ بعض حلقوں میں تو ماسی رکھنا ضرورت سے زیادہ اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ اگر گھر کی خاتون خود چائے بنا لے یا روٹی پکا لے تو گویا اس کی شان میں کمی آ گئی ہو۔حقیقت یہ ہے کہ گھر کے کام کسی کی عزت کم نہیں کرتے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی اپنے گھروں کی صفائی کرتے، کھانا بناتے اور لان سنوارتے ہیں۔ وہاں محنت کو عزت دی جاتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں بعض اوقات دوسروں سے کام کروانا شان سمجھ لیا جاتا ہے۔البتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہزاروں خواتین گھریلو ملازمت کے ذریعے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں، اس لیے مسئلہ خود “ماسی” نہیں بلکہ ہمارا رویہ ہے۔ اگر واقعی ضرورت ہو تو گھریلو ملازم رکھنا بالکل درست ہے، لیکن اگر یہ صرف دکھاوے اور سماجی مقابلے کا حصہ بن جائے تو پھر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم سہولت کے نام پر خود انحصاری تو نہیں کھو رہے ہمارا مقصد ہرگز ان محنت کش خواتین کے خلاف نہیں جو گھروں میں کام کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں۔ وہ ہمارے معاشرے کی باعزت مزدور ہیں اور ان کی محنت قابلِ احترام ہے۔ سوال ان سے نہیں، بلکہ ہم سے ہے۔ کیا واقعی ہم اتنے بے بس ہو گئے ہیں کہ اپنا ایک کپ بھی خود نہیں اٹھا سکتے؟ کیا گھر کے معمولی کام کرنا ہماری شان کے خلاف ہے، یا ہم نے اسے محض ایک اسٹیٹس سمبل بنا لیا ہے،گھر کے کام انسان کو چھوٹا نہیں کرتے، بلکہ دوسروں کی محنت کی قدر کرنا سکھاتے ہیں۔ ماسی کا احترام ضرور کیجیے، لیکن اپنے ہاتھوں کو بھی اتنا بےکار نہ بنائیے کہ ایک کپ چائے بنانے کے لیے بھی کسی اور کا انتظار کرنا پڑے۔ “گھر کے کاموں سے الرجی کا ابھی تک کوئی میڈیکل علاج دریافت نہیں ہوا، البتہ روزانہ آدھا گھنٹہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا بہترین دوا ہے علاج ہے خود انحصاری بھی ایک تہذیب ہے، اور محنت بھی ایک وقار ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں