معصوم بیٹیوں کی چیخیں اور بے حس معاشرہ
تعویز گلے میں تھا مِرے ردِّ بلا کا
آدم سے بچاؤ کا نہ تھا وِرد کوئی یاد!
ناصرہ زبیری
سرگودھا کی ننھی منتہا ہو یا کراچی کی معصوم کلثوم، نام بدل جاتے ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کی کہانی وہی رہتی ہے۔ ہر چند روز بعد ایک نئی بیٹی ظلم و درندگی کا شکار بنتی ہے، پورا ملک غم و غصے سے بھر جاتا ہے، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز چلتے ہیں، ٹی وی چینلز پر بحثیں ہوتی ہیں، حکمران سخت بیانات دیتے ہیں، اور پھر چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ صرف ایک چیز نہیں بدلتی: کسی ماں کی گود ہمیشہ کے لیے اجڑ جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں سرگودھا کی منتہا اور کراچی کی کلثوم کے مبینہ زیادتی کے واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان واقعات پر پولیس نے مقدمات درج کیے اور تحقیقات کا آغاز کیا، تاہم ان کی مکمل عدالتی حقیقت اور تمام ذمہ داران کا تعین ابھی قانونی عمل کے تحت ہونا باقی ہے۔
یہ صرف دو بچیوں کی داستان نہیں، بلکہ پاکستان کی ہزاروں معصوم بچیوں کی اجتماعی فریاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہماری بیٹیاں کب محفوظ ہوں گی؟ کب ایک بچی بلا خوف اپنے گھر سے نکل سکے گی؟ کب والدین اپنے بچوں کو سکون سے کھیلنے بھیج سکیں گے؟
یہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ معاشرتی زوال کا بھی ہے۔ جب گھروں میں تربیت کمزور ہو، تعلیمی اداروں میں اخلاقیات نظرانداز ہوں، منشیات اور فحاشی کا پھیلاؤ ہو، اور مجرم کو سزا کے بجائے سفارش یا تاخیر ملے، تو ایسے سانحات جنم لیتے ہیں
۔
حیا صرف عورت کا زیور نہیں ہے
یہ مردوں کے کردار میں بھی سجائیں
رخسانہ سحر
ہمارے عدالتی نظام میں برسوں تک مقدمات چلتے رہتے ہیں۔ متاثرہ خاندان انصاف کے انتظار میں تھک جاتے ہیں جبکہ مجرم اکثر قانونی پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔
ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ ہے۔ اگر معصوم بچے بھی محفوظ نہ ہوں تو ترقی، معیشت اور سیاست کی تمام بحثیں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ والدین کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی۔ بچوں کو “گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ” کی تعلیم دینا، ان کی بات کو سنجیدگی سے سننا، اور انہیں خوف کے بغیر اپنی بات کہنے کا اعتماد دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ بچوں کی شناخت کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے اور ایسے واقعات کو صرف ریٹنگ یا سنسنی خیزی کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ عوام میں شعور اجاگر کیا جائے۔
منتہا اور کلثوم صرف دو نام نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، قانون پر مؤثر عمل درآمد نہ کیا، اور مجرموں کو بروقت و منصفانہ سزا نہ ملی، تو کل کسی اور معصوم کا نام ہماری سرخیوں میں ہوگا۔
آئیے عہد کریں کہ ہر بچہ، ہر بچی، ہر گھر اور ہر گلی محفوظ ہوگی۔ کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی عمارتیں نہیں بلکہ اس کے بچوں کا تحفظ ہوتا ہے۔
“منتہا اور کلثوم کے لیے انصاف صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔”
ان درندوں سے نجات کیسے ممکن ؟؟؟
بیٹیوں کی جن سے عصمت ہی نہیں محفوظ ہو
ایسے نامردوں پہ لعنت ہے ہماری بار بار
فر حا نہ اشرف فرحانہ
درندہ صفت مجرموں سے مکمل نجات کسی ایک اقدام سے ممکن نہیں، بلکہ قانون، معاشرت، تعلیم اور ریاستی عمل درآمد کے امتزاج سے ہی ایسے جرائم میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
جب تک مجرم کو یہ یقین رہے گا کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ سکتا ہے، ایسے جرائم ختم نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
بچوں سے زیادتی کے مقدمات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔
اگر عدالت میں جرم ثابت ہو جائے تو قانون کے مطابق سخت اور بروقت سزا دی جائے، تاکہ دوسروں کے لیے بھی عبرت ہو۔
عصمتِ زن پہ جو کرے حملہ
بیچ کی ٹانگ کاٹ دو اس کی
فرحانہ اشرف فرحانہ
پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کو مؤثر اور تیز رفتار بنایا جائے۔
والدین بچوں کو ذاتی حفاظت، “گڈ ٹچ” اور “بیڈ ٹچ” کی تعلیم دیں اور ایسا ماحول بنائیں کہ بچے بلا خوف اپنی بات بتا سکیں۔
اسکولوں میں بچوں کے تحفظ اور اخلاقی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
جو بیٹوں کو دیتے ہیں ہر اک رعایت
ذرا ان کو بھی حد میں رہنا سکھائیں
رخسانہ سحر
اس موضوع پر فیصل عشرت کے خیالات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتے ہیں
تحریر: محمد فیصل عشرت
(ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن سندھ،کراچی)
پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں (جیسے ساحل) کی سالانہ رپورٹس کے مطابق، ہر روز اوسطاً 8 سے 11 بچوں اور بچیوں کو جنسی زیادتی (ریپ اور بدفعلی) کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے نصف کے قریب متاثرین کم سن لڑکیاں اور نصف لڑکے ہوتے ہیں
آسمان کے نیچے بستی اس دنیا میں، سب سے زیادہ مقدس اور پاکیزہ چیز کسی بچے کی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جہاں یہ مسکراہٹیں اب محفوظ نہیں رہیں؟ پاکستان کی فضاؤں میں آج ایک ایسا سوال گونج رہا ہے جس کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہماری روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ سوال کسی سیاستدان یا کسی پالیسی کا نہیں، بلکہ ان ہزاروں معصوم روحوں کا ہے جو ہماری غفلت، ہماری خاموشی اور ہمارے ٹوٹے ہوئے معاشرتی نظام کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
منتہا یا کلثوم یا ان جیسے دوسرے معصوم پھول۔۔۔اف۔۔۔۔ ایک ایسے زخم جو کبھی نہیں بھریں گے۔۔
جب ہم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی بات کرتے ہیں، تو یہ صرف اعداد و شمار کی جنگ نہیں ہوتی۔ یہ درد، یہ چیخیں اور یہ سسکیاں ہوتی ہیں جو ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔ منتہا کا کیس اسی درد کی ایک تازہ اور دل دہلا دینے والی علامت ہے۔ وہ چھوٹی سی بچی، جس کی زندگی کے خواب صرف کھلونوں اور سکول کے بستے تک محدود ہونے چاہیے تھے، ایک ایسی تاریکی میں دھکیل دی گئی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ اگر ہم منتہی کے کیس کی بات کریں تو
منتہی کا کیس محض ایک جرم نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک ایسا کلنک کا ٹیکہ ہے جو کبھی نہیں مٹے گا۔ اس کے معصوم چہرے کی تصویر جب بھی سامنے آتی ہے، تو دل سے صرف ایک ہی صدا نکلتی ہے: “ہم اسے بچانے میں ناکام کیوں رہے؟” اس کے والدین کی بے بسی، اس کے گھر کا سناٹا اور اس ننھی روح کی تڑپ ہم سب سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں۔
ہم میں سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ “یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے،” یا پھر “بدنامی کے ڈر سے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔” لیکن یہی خاموشی دراصل اس عفریت کو ہوا دیتی ہے۔ جب ہم کسی واقعے پر احتجاج نہیں کرتے، جب ہم مجرم کو سماجی طور پر مسترد نہیں کرتے، تو ہم دراصل اگلا راستہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں
۔
یہ اندھیرا کیسے چھٹے گا؟
یہ مضمون کوئی سرکاری رپورٹ نہیں، بلکہ ایک دل گرفتہ اپیل ہے۔ اس اندھیرے کو ختم کرنے کے لیے ہمیں صرف قوانین کی ضرورت نہیں، ہمیں ایک سماجی انقلاب کی ضرورت ہے:
ہمیں اپنے بچوں کو “Good Touch” اور “Bad Touch” کا فرق سمجھانے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں ان کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا کہ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات ہمیں بتا سکیں۔
عوامی شعور بھی اس کا ایک بہترین حل ہے۔ جب تک ہر محلے، ہر گاؤں اور ہر شہر میں لوگ اپنے بچوں کے محافظ نہیں بنیں گے، کوئی بھی قانون تنہا کچھ نہیں کر پائے گا۔ ہمیں ہر اس شخص کو بے نقاب کرنا ہوگا جو بچوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا ہے۔
اگر ایسے کیسز میں جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے، تو معاشرے کا قانون پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ:
Justice delayed is justice denied” “انصاف میں تاخیر، انصاف نہ ملنے کے مترادف ہے” یا “انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی ظلم ہے
انصاف کا جلد اور سخت ہونا ہی مجرموں کے لیے اصل عبرت ہے۔۔۔
آخر میں بس یہ ہی کہوں گا ہماری بچے صرف ہمارے لئے بچے ہیں دوسروں کے لئے نہیں۔۔۔ ۔۔
اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں۔۔ آمین
_______
یہ تھے فیصل عشرت اختتام میں بس یہ ہی کہ
معاشرے میں خاموشی کے بجائے ایسے جرائم کی فوری رپورٹنگ اور متاثرہ خاندان کی مدد کو فروغ دیا جائے۔
ایسے مجرموں کی ذہنی وجوہات کو سمجھنے، خطرناک افراد کی بروقت نشاندہی اور ضرورت کے مطابق علاج و نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط کیا جائے۔
ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ شدید غصے میں لوگ ماورائے عدالت یا غیر قانونی سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن پائیدار انصاف صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔ اگر قانون مضبوط، تحقیقات شفاف اور سزا یقینی ہو، تو ایسے جرائم کی روک تھام میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
“جس معاشرے میں معصوم بچوں کا تحفظ سب سے بڑی ترجیح بن جائے، وہاں درندے نہیں، صرف قانون کی حکمرانی نظر آتی ہے۔
نہ الزام ہر بار لڑکی پہ رکھیں
درندوں کے چہروں سے پردے اٹھائیں
رخسانہ سحر






