کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی مرکز اور کروڑوں لوگوں کا مسکن ہے۔ یہ شہر برسوں سے مختلف مسائل کا شکار رہا ہے جن میں بدامنی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، سیاسی کشیدگی اور اسٹریٹ کرائم سرفہرست ہیں۔ حال ہی میں مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم ہوتے ہیں اور لندن جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی اسٹریٹ کرائمز کی صورتحال موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے گزشتہ چالیس سال انتہائی مشکل رہے ہیں اور شہر نے ایسے چیلنجز کا سامنا کیا جو شاید کسی اور پاکستانی شہر کے حصے میں نہیں آئے۔
مئیر کراچی کا یہ بیان ایک اہم بحث کو جنم دیتا ہے۔ کیا کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو لندن یا دیگر عالمی شہروں سے جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے؟ کیا یہ موازنہ شہریوں کے خدشات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے یا اصل ضرورت مسئلے کے حل پر توجہ دینے کی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی بڑا شہر جرائم سے مکمل طور پر پاک نہیں۔ لندن، نیویارک، پیرس، شکاگو اور دیگر بڑے شہروں میں بھی چوری، ڈکیتی، موبائل اسنیچنگ اور دیگر جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوتی ہیں۔ آبادی میں اضافہ، معاشی دباؤ، بے روزگاری اور سماجی مسائل اکثر جرائم کی شرح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرتضیٰ وہاب کی بات درست ہے کہ بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم ایک حقیقت ہے۔
تاہم کراچی کے شہریوں کا سوال صرف یہ نہیں کہ جرائم کہیں اور بھی ہوتے ہیں۔ ان کا اصل سوال یہ ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی کتنی محفوظ ہے۔ ایک شہری جب گھر سے دفتر یا کاروبار کے لیے نکلتا ہے تو اسے اپنے موبائل فون، نقدی، گاڑی اور حتیٰ کہ جان کے تحفظ کی فکر لاحق رہتی ہے۔ اسٹریٹ کرائم کے دوران مزاحمت پر شہریوں کے قتل کے واقعات نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
کراچی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ شہر واقعی کئی دہائیوں تک بدامنی کی لپیٹ میں رہا۔ ایک وقت تھا جب ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری روزمرہ کی سرخیوں کا حصہ تھے۔ کاروباری طبقہ خوف کا شکار تھا اور شہری شام ڈھلتے ہی گھروں میں محدود ہو جاتے تھے۔ بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور مختلف آپریشنز کے نتیجے میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ شہر میں امن و امان کی فضا بحال ہوئی، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں اور سرمایہ کاری کا رجحان بھی بہتر ہوا۔
لیکن اس کے باوجود اسٹریٹ کرائم ایک ایسا مسئلہ ہے جو مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ موبائل فون چھیننے، موٹر سائیکل چوری ہونے اور راہ چلتے شہریوں سے لوٹ مار کے واقعات اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عوام اپنے مسائل بیان کرتے ہیں تو وہ موازنوں سے زیادہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے اپنے خطاب میں سیف سٹی منصوبے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ شہر میں کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ اس منصوبے کو مزید علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔ بلاشبہ جدید نگرانی کا نظام جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں سی سی ٹی وی کیمروں، مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور ڈیجیٹل پولیسنگ کے ذریعے جرائم کی نشاندہی اور ملزمان کی گرفتاری کو آسان بنایا گیا ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر مختلف شاہراہوں، تجارتی مراکز، حساس مقامات اور رہائشی علاقوں میں مؤثر نگرانی کا نظام قائم ہو تو نہ صرف جرائم کی شرح کم ہو سکتی ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر میں خوف بھی پیدا ہوگا۔ تاہم صرف کیمرے نصب کرنا کافی نہیں۔ ان کی مسلسل نگرانی، ڈیٹا کا مؤثر استعمال اور فوری ردعمل کا نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
جرائم کی ایک بڑی وجہ معاشی مسائل بھی ہوتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم معاشرے میں بے چینی پیدا کرتی ہے۔ اگر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوں تو جرائم کی طرف رجحان بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے صرف پولیسنگ نہیں بلکہ سماجی اور معاشی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
کراچی کی ایک اور اہم ضرورت شہری سہولیات کی بہتری ہے۔ بہتر ٹرانسپورٹ، روشن سڑکیں، فعال بلدیاتی نظام اور کمیونٹی کی شمولیت جرائم میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے تجربات بتاتے ہیں کہ جہاں شہری حکومتیں مقامی سطح پر مؤثر کردار ادا کرتی ہیں وہاں جرائم پر قابو پانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ غیر رسمی بستیوں کا پھیلاؤ، انفراسٹرکچر پر دباؤ اور وسائل کی کمی انتظامی چیلنجز میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایسے میں شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
مرتضیٰ وہاب کا یہ مؤقف کہ کراچی نے گزشتہ چالیس برس میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کیا، تاریخی طور پر درست محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آج کا شہری ماضی کے زخموں سے زیادہ اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی گلی، اس کا محلہ اور اس کا سفر کتنا محفوظ ہے۔ اسے یہ اطمینان درکار ہے کہ اگر کوئی جرم ہوتا ہے تو ملزم جلد گرفتار ہوگا اور قانون حرکت میں آئے گا۔
اسٹریٹ کرائم کے مسئلے پر عوامی اعتماد بحال کرنا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب شہری محسوس کریں گے کہ ریاست اور مقامی حکومت ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے تو خوف کی فضا خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ سیف سٹی منصوبہ، پولیس اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر شہری نظم و نسق اس سمت میں اہم اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کراچی کا لندن سے موازنہ اپنی جگہ، مگر ہر شہر کی اپنی زمینی حقیقتیں ہوتی ہیں۔ شہریوں کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان کی زندگی محفوظ ہو، ان کا مال و جان محفوظ ہو اور وہ بلا خوف و خطر اپنے روزمرہ معاملات انجام دے سکیں۔ کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ہے اور اس شہر کا محفوظ، روشن اور پُرامن ہونا نہ صرف اس کے باسیوں بلکہ پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ اس لیے ضرورت موازنوں سے زیادہ مؤثر حکمت عملی، مستقل مزاجی اور عملی نتائج کی ہے تاکہ کراچی واقعی ایک ایسا شہر بن سکے جس پر اس کے شہری فخر کر سکیں۔
مرتضیٰ وہاب کا دفاع یا اعتراف؟کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر سوالات…نشید آفاقی






