نئی سرد جنگ دنیا کو کہاں لے جائے گی؟تحریر: شیخ راشد عالم

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اگرچہ سرد جنگ کے خاتمے کو تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا دنیا نئی سرد جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اگر ہاں، تو اس کے اثرات کیا ہوں گے، اور اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
بیسویں صدی کی سرد جنگ بنیادی طور پر امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان نظریاتی، عسکری اور سیاسی مقابلے کا نام تھی۔ اس جنگ میں براہِ راست ٹکراؤ کم تھا، لیکن دنیا کے مختلف خطے پراکسی جنگوں، اسلحے کی دوڑ اور سفارتی محاذ آرائی کا میدان بنے رہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ امریکہ ایک واحد عالمی طاقت بن کر ابھر آیا ہے، مگر اکیسویں صدی کے آغاز سے چین کی غیر معمولی معاشی ترقی، روس کی نئی سفارتی و عسکری حکمت عملی اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ابھار نے عالمی توازن کو تبدیل کرنا شروع کر دیا۔
آج کی نئی سرد جنگ ماضی سے مختلف ہے۔ اب مقابلہ صرف فوجی طاقت کا نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق، تجارتی راستوں، توانائی، نایاب معدنیات اور عالمی مالیاتی نظام پر اثرورسوخ کا بھی ہے۔ جو ملک ان شعبوں میں برتری حاصل کرے گا، وہ مستقبل کی عالمی سیاست پر زیادہ اثر انداز ہوگا۔
امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں حیران کن رفتار سے ترقی کی ہے۔ چین نے صنعتی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، عالمی تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طاقتوں کے درمیان مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب روس، اگرچہ معاشی اعتبار سے چین اور امریکہ کے برابر نہیں، لیکن دفاعی صلاحیت، توانائی کے ذخائر اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ نئی سرد جنگ صرف طاقتور ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایسے ممالک کو ایک طرف سرمایہ کاری، تجارت اور ترقی کے نئے مواقع ملیں گے، جبکہ دوسری طرف ان پر مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ صف بندی کرنے کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے ممالک متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے سکیں۔
عالمی معیشت بھی اس کشمکش سے محفوظ نہیں رہے گی۔ تجارتی پابندیاں، درآمدات و برآمدات پر نئی شرائط، ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندیاں اور سپلائی چین میں تبدیلیاں عالمی تجارت کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر معیشتوں پر پڑ سکتا ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
مصنوعی ذہانت اس نئی سرد جنگ کا ایک اہم میدان بن چکی ہے۔ جو ملک مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید کمپیوٹنگ میں برتری حاصل کرے گا، وہ مستقبل میں معاشی اور دفاعی لحاظ سے بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔ اسی لیے دنیا کی بڑی طاقتیں اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
سائبر جنگ بھی ایک نیا خطرہ بن چکی ہے۔ مستقبل کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورکس، مالیاتی نظام، بجلی گھروں، مواصلاتی ڈھانچوں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بھی لڑی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر سکیورٹی اب قومی سلامتی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ، ایشیا، افریقہ اور بحرالکاہل کے خطے بھی عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ توانائی کے ذخائر، سمندری راستے، بندرگاہیں اور معدنی وسائل ان علاقوں کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔ اسی لیے مختلف ممالک اپنے سفارتی اور معاشی اثرورسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ پاکستان ایک اہم جغرافیائی محل وقوع رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ عرب کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر توجہ دے تو وہ بدلتے عالمی حالات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن خارجہ پالیسی اپنائے، تمام اہم عالمی طاقتوں کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھے اور اپنے قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھے۔ کسی بھی عالمی تنازع میں غیر ضروری فریق بننے کے بجائے معاشی ترقی، علاقائی تعاون اور داخلی استحکام پر توجہ دینا زیادہ دانشمندانہ حکمت عملی ہوگی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی سرد جنگ صرف حکومتوں کا معاملہ نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچیں گے۔ مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں، خوراک کی فراہمی، روزگار کے مواقع، ٹیکنالوجی تک رسائی اور بین الاقوامی تجارت میں تبدیلیاں ہر ملک کے عوام کی زندگیوں پر اثر ڈالیں گی۔ اس لیے ہر ریاست کو اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط اور خود انحصار بنانے کی ضرورت ہوگی۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عالمی طاقتوں کی رقابتیں کبھی مستقل نہیں ہوتیں، لیکن ان کے اثرات کئی نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ آج دنیا ایک بار پھر ایسے ہی مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں فیصلے صرف طاقت کے بل پر نہیں بلکہ معیشت، علم، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور قومی حکمت عملی کی بنیاد پر ہوں گے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نئی سرد جنگ دنیا کو مکمل تقسیم کی طرف لے جائے گی یا ایک زیادہ متوازن عالمی نظام تشکیل دے گی، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والا عشرہ عالمی سیاست کی سمت متعین کرے گا۔ جو ممالک بروقت اپنی ترجیحات درست کریں گے، تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، معیشت اور قومی اتحاد پر سرمایہ کاری کریں گے، وہی اس نئے عالمی نظام میں باوقار مقام حاصل کریں گے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اس بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی انہی قوموں کا مقدر ہوگی جو حالات کا ادراک کرتے ہوئے دور اندیش فیصلے کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں