مشرقِ وسطی کی موجودہ صورتحال پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خطے میں ایک بڑی جنگ ہوگی یا حالات جلد معمول پر آ جائیں گے، کیونکہ عالمی سیاست میں بیانات، فیصلے اور سفارتی حکمت عملیاں لمحوں میں بدل جاتی ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پورا خطہ اس وقت بے چینی، غیر یقینی اور اضطراب کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ اس وقت مشرقِ وسطی میں صرف میزائل ہی نہیں چل رہے، بلکہ بے یقینی بھی گردش کر رہی ہے، اور بے یقینی ہمیشہ معیشت کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے ہر نیا بیان، ہر سفارتی ملاقات اور ہر فوجی نقل و حرکت عالمی منڈیوں، سرمایہ کاروں اور عام لوگوں کی دھڑکنیں تیز کر دیتی ہے۔ اسی بے یقینی نے تیل کی قیمتوں، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی معیشت پر ایک مستقل سایہ ڈال رکھا ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر ممالک تک محسوس کیے جا رہے ہیں سوال یہ ہے ؟؟کہ کیا ایران امریکہ کے مذاکرات کامیاب ہونگے امن برقرار رہے گا ؟؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے بھی خطے کی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ سخت مقف اختیار کرتے ہوئے مزید کارروائی کی بات کرتے ہیں، تو دوسری جانب مذاکرات کے دروازے بھی مکمل طور پر بند نہیں کرتے۔ یہی تضاد عالمی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھتا ہے۔ سرمایہ کار، تیل کی منڈیاں اور عام لوگ سب اسی انتظار میں ہیں کہ آنے والا لمحہ امن کا پیغام لائے گا یا ایک نئی کشیدگی کا آغاز کرے گا۔ اگرچہ جنگ کے خطرات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا،امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ کا خاتمہ اور حتمی مذاکرات تاحال غیر یقینی ہیں۔ حال ہی میں طے پانے والا سیز فائر ٹوٹ چکا ہے اور دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع کے باعث ایک بار پھر براہ راست حملوں میں الجھے ہوئے ہیں مشرق وسطی ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں تیل کے ذخائر، مذہبی اہمیت، جغرافیائی محلِ وقوع اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ یہاں ہونے والی ہر پیش رفت پوری دنیا پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جنگیں ہوں، جنگ بندی ہو، یا سفارتی مذاکرات، دنیا کی نظریں اسی خطے پر لگی رہتی ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس تمام کشمکش کے بعد مشرق وسطی کا اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا؟ کیا خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا، یا یہ تنازعات ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں؟حالیہ برسوں نے ثابت کیا ہے کہ صرف فوجی طاقت مسائل کا مستقل حل نہیں۔ ایک تنازع ختم ہونے سے پہلے دوسرا جنم لے لیتا ہے، اور سب سے زیادہ قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوتی ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے دنیا کے غریب ممالک بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔اس خطے میں ہر ملک اپنی سلامتی، اپنے مفادات اور اپنے اتحادیوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں بھی اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے مطابق کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطی کا ہر بحران صرف علاقائی نہیں رہتا بلکہ عالمی مسئلہ بن جاتا ہے۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگیں وقتی برتری تو دلا سکتی ہیں، مگر پائیدار امن صرف مذاکرات، اعتماد سازی، انصاف اور
باہمی احترام سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ نفرت اور انتقام کا سلسلہ جتنا طویل ہوگا، اتنا ہی امن دور ہوتا جائے گا۔آج پوری دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آنے والے دنوں میں سفارت کاری غالب آتی ہے یا طاقت کی زبان۔ اگر عقل، تدبر اور مذاکرات کو ترجیح دی گئی تو مشرق وسطی صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے استحکام کی علامت بن سکتا ہے۔ لیکن اگر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو اس کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن سب متاثر ہوں گے۔شاید اسی لیے آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ مشرق وسطی کا اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس کا جواب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز، سیاسی بصیرت اور امن کو ترجیح دینے والے فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔مشرقِ وسطی میں جب بھی ایک میزائل فضا کو چیرتا ہے تو اس کی گونج صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے اس حساس خطے میں ذرا سی کشیدگی پیدا ہو تو خام تیل کی قیمتیں اچھلنے لگتی ہیں، پٹرول مہنگا ہو جاتا ہے، نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مہنگائی کا ایک نیا طوفان عام آدمی کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر میزائل کے ساتھ مہنگائی کا خطرے کا سائرن بھی بج اٹھتا ہے، جس کی سب سے زیادہ قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں، ایک نئی آزمائش میں مبتلا ہو جاتے ہیں جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی ہیں، مگر ان کی قیمت دنیا بھر کے عام لوگ اپنی روزی، اپنی روٹی اور اپنے بچوں کے مستقبل سے ادا کرتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ مشرقِ وسطی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس اونٹ کی ہر کروٹ کا بوجھ آخر کب تک دنیا کا عام انسان اٹھاتا رہے گا؟ جنگ کا فیصلہ چند ایوانوں میں ہوتا ہے، مگر اس کی قیمت کروڑوں لوگ اپنی خالی جیبوں، مہنگی روٹی، بڑھتے ہوئے پٹرول، بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں معیشت مستحکم ہو، بازاروں میں اطمینان ہو، اور عام آدمی کو یہ خوف نہ ہو کہ ہزاروں میل دور چلنے والی جنگ کل اس کے گھر کے بجٹ کو تہس نہس کر دے گی۔ اگر عالمی قیادت نے اپنے اختلافات کو مذاکرات اور تدبر سے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو ہر نیا میزائل صرف ایک شہر کو نہیں، بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں خاندانوں کے معاشی سکون کو بھی نشانہ بنائے گا۔اس لیے دعا بھی یہی ہے اور ضرورت بھی کہ مشرقِ وسطی کا اونٹ ایسی کروٹ بیٹھے جو بارود نہیں، امن کا پیغام لے کر آئے؛ کیونکہ جب امن جیتتا ہے تو صرف ایک ملک نہیں، پوری انسانیت جیتتی ہے
مشرقِ وسطی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟صبیحہ خان صبیحہ






