کیا اکیسویں صدی “ایشیائی صدی” ثابت ہوگی یا دنیا ایک نئے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟
ایک وقت تھا جب دنیا کا نقشہ لندن، پیرس اور واشنگٹن کی میزوں پر بنتا تھا۔ عالمی معیشت، سیاست، جنگ، امن، تجارت اور ٹیکنالوجی کے فیصلے مغربی طاقتیں کرتی تھیں اور باقی دنیا ان فیصلوں کے اثرات قبول کرنے پر مجبور ہوتی تھی۔ لیکن اب منظر بدل رہا ہے۔ خاموشی سے، مگر انتہائی تیزی کے ساتھ۔
آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقت کا مرکز آہستہ آہستہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس تبدیلی کی رفتار کیا ہوگی اور اس کے اثرات دنیا پر کتنے گہرے ہوں گے۔
یہ تبدیلی اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی معاشی منصوبہ بندی، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور عالمی تجارت کے نئے راستے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرا۔ یورپ نے بھی اپنی تباہ حال معیشت کو دوبارہ کھڑا کیا۔ عالمی مالیاتی ادارے، اقوام متحدہ، عالمی بینک، آئی ایم ایف اور عالمی تجارتی نظام سب بڑی حد تک مغربی قیادت کے زیر اثر رہے۔ دنیا کا ڈالر پر انحصار بڑھتا گیا اور امریکہ عالمی معیشت کا محور بن گیا۔
لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔
چین نے خاموشی سے وہ کام کیا جسے دنیا نے ابتدا میں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایک زرعی معیشت سے دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت بننے تک کا سفر صرف چند دہائیوں میں طے کیا گیا۔ آج دنیا کی بے شمار مصنوعات “میڈ اِن چائنا” ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، چین اب صرف فیکٹری نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، خلائی تحقیق، سیمی کنڈکٹرز، فِن ٹیک اور جدید انفراسٹرکچر میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔
اسی دوران بھارت بھی خاموشی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، خلائی پروگرام، اسٹارٹ اپ کلچر اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت نے اسے عالمی طاقتوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ کئی عالمی کمپنیاں اپنی سپلائی چین کا رخ چین کے ساتھ ساتھ بھارت، ویتنام اور دیگر ایشیائی ممالک کی طرف بھی موڑ رہی ہیں۔
جاپان اور جنوبی کوریا پہلے ہی ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام ہیں۔ سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام بھی عالمی سرمایہ کاری کے اہم مراکز بنتے جا رہے ہیں۔
گویا ایشیا اب صرف آبادی کا نہیں بلکہ سرمایہ، صنعت، ٹیکنالوجی اور تجارت کا بھی مرکز بنتا جا رہا ہے۔
دوسری طرف مغرب کو ایسے چیلنجز درپیش ہیں جو پہلے کبھی اس شدت سے سامنے نہیں آئے تھے۔
امریکہ کو بڑھتے ہوئے قومی قرضے، سیاسی تقسیم، صنعتی نقل مکانی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا ہے۔ یورپ کو توانائی کے بحران، مہنگائی، عمر رسیدہ آبادی، ہجرت اور روس۔یوکرین جنگ کے بعد نئے معاشی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مغرب ختم ہو رہا ہے۔ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت، سب سے بڑی اختراعی معیشت اور عالمی مالیاتی نظام کا اہم ستون ہے۔ یورپی یونین بھی ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
اصل تبدیلی طاقت کے خاتمے کی نہیں بلکہ طاقت کی تقسیم کی ہے۔
اب دنیا یک قطبی نہیں رہی۔ نہ ہی مکمل طور پر دو قطبی ہے۔ بلکہ ایک ایسی کثیر قطبی دنیا تشکیل پا رہی ہے جہاں کئی طاقتیں مختلف شعبوں میں اثر انداز ہوں گی۔
اسی لیے چین کا “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” صرف سڑکوں اور بندرگاہوں کا منصوبہ نہیں بلکہ عالمی اثرورسوخ کی نئی حکمت عملی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درجنوں ممالک کو تجارتی راہداریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکہ بھی خاموش تماشائی نہیں۔ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئی معاشی اور دفاعی شراکت داریاں قائم کر رہا ہے تاکہ بحرالکاہل اور ایشیا میں اپنا اثر برقرار رکھ سکے۔
روس بھی اس نئی عالمی صف بندی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ اسے مغربی پابندیوں کا سامنا ہے، لیکن اس نے توانائی، دفاع اور سفارتی تعلقات کے ذریعے ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ میں اپنے روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔
اسی دوران برکس (BRICS) جیسے اتحاد بھی عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ کئی ترقی پذیر ممالک اس پلیٹ فارم کو مغربی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت، نئے ترقیاتی بینک اور معاشی تعاون جیسے اقدامات عالمی نظام میں نئی بحث چھیڑ رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی بھی اس عالمی تبدیلی کا اہم میدان بن چکی ہے۔
اب جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ چِپس، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ڈیٹا، سیٹلائٹس اور سائبر صلاحیتوں سے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ جو ملک ٹیکنالوجی پر برتری حاصل کرے گا، مستقبل کی عالمی سیاست میں بھی اسی کا وزن زیادہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مقابلہ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔
اس سارے منظرنامے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صرف سفارت کاری میں نہیں بلکہ قومی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں چین، بھارت، روس، وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور مشرق وسطی ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ جغرافیہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے معاشی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔
اگر پاکستان سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات، معیاری تعلیم، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دے تو وہ اس بدلتی عالمی معیشت کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر داخلی سیاسی کشمکش، غیر یقینی پالیسیوں اور کمزور معاشی فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تاریخی موقع ہاتھ سے نکل بھی سکتا ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ عالمی طاقت صرف فوج سے نہیں بنتی۔ معیشت، علم، تحقیق، صنعت، اختراع، مضبوط ادارے اور سیاسی استحکام ہی کسی قوم کو دیرپا عالمی مقام دلاتے ہیں۔
آج ایشیا کی کئی معیشتیں اسی اصول پر آگے بڑھ رہی ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا اب “ایشین سنچری” یعنی ایشیائی صدی کی بات کر رہی ہے۔
تاہم ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت کی منتقلی کبھی آسان نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ایک بڑی طاقت کی جگہ دوسری طاقت ابھرتی ہے تو عالمی کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ تجارتی جنگیں، سفارتی محاذ آرائیاں، دفاعی اتحاد اور پراکسی تنازعات اسی عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اس لیے آنے والے برسوں میں دنیا کو مقابلے اور تعاون، دونوں کا امتزاج دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کہیں اقتصادی شراکت داری ہوگی تو کہیں ٹیکنالوجی پر پابندیاں۔ کہیں مشترکہ منصوبے ہوں گے تو کہیں جغرافیائی سیاست نئی صف بندیاں پیدا کرے گی۔
طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونے کا عمل محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عالمی معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری میں نظر آنے والی ایک حقیقت ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغرب کا دور ختم ہو گیا ہے، بلکہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت پہلے کی نسبت زیادہ تقسیم شدہ ہوگی۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ تبدیلی ایک آزمائش بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی۔ اگر ہم درست سمت کا انتخاب کریں، داخلی استحکام پیدا کریں اور علم، معیشت اور ٹیکنالوجی کو اپنی قومی ترجیح بنائیں تو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ایک باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر ہمارے سامنے سے گزر جائے گی، اور ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔






