کینیڈا اور امریکہ کا تعلق ساس بہو والا ہوگیا ہے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جنگل کی آگ کا ساس بہو سے کیا تعلق؟ مگر عالمی سیاست پر نظر ڈالیں تو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ بعض ممالک کے تعلقات بھی ہمارے معاشرے کے ساس بہو کے رشتے سے ملتے جلتے ہیں۔ بہو لاکھ احتیاط کرے، ساس کو کوئی نہ کوئی خامی ضرور مل جاتی ہے۔ ادھر جنگل میں آگ لگی، ادھر الزاموں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیاکبھی کبھی امریکہ کا انداز کینیڈا کے لئے ساس جیسا لگتا ہے جو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اپنی بہو میں کیڑے نکالنے میں زرا دیر نہیں کرتی بعض اوقات بین الاقوامی تعلقات بھی ساس بہو کے رشتے کا منظر پیش کرتے ہیں، جہاں بہو جو بھی کرے، ساس کو کوئی نہ کوئی خامی ضرور نظر آ جاتی ہے۔جب گھر میں آگ لگتی ہے تو دھواں سے پڑوسی کا گھر کیسے محفوظ رہ سکتا ہے تو بجائے پڑوسی کی مدد آتی اس کے بجائے الزامات کی بوچھاڑ ہوگئی جیسا کہ حالیہ کینیڈا کے جنگل کی آگ کا زمہ دار کینیڈا حکومت پر ڈال کر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ قدرتی آفات نہ سرحدیں دیکھتی ہیں اور نہ سیاسی بیانات ان سے نمٹنے کے لیے الزام نہیں بلکہ تعاون درکار ہوتا ہے ۔ کینیڈا دنیا کے سب سے زیادہ جنگلات والے ممالک میں شامل ہے۔ یہاں تقریبا 369 ملین ہیکٹر (3.69 ملین مربع کلومیٹر) جنگلات ہیں، جو کینیڈا کی زمینی سطح کا تقریبا 40 فیصد بنتے ہیں۔ یہ دنیا کے کل جنگلات کا لگ بھگ 9 فیصد ہے اگر آپ مشرق سے مغرب تک سفر کریں تو ہزاروں کلومیٹر تک مسلسل جنگلات، جھیلیں اور دریا ملتے ہیں۔اور برف سے ڈھکے پہاڑ میدان اور جھیلیں سمندر ہیں کینیڈا کے بیشتر شمالی علاقے آج بھی تقریبا غیر آباد ہیں، جہاں صرف جنگلات، پہاڑ، جھیلیں اور جنگلی حیات ہے۔یہاں صرف چار ماہ گرم موسم رہتا ہے باقی سرد موسم اور برفباری کا راج ہوتا ہے ۔گرمیوں کا موسم آتے ہی دنیا کے مختلف ممالک میں جنگلات کی آگ کی خبریں عام ہونے لگتی ہیں۔ کہیں ہزاروں ایکڑ جنگل جل جاتے ہیں، کہیں قیمتی جنگلی حیات متاثر ہوتی ہے اور کہیں لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے حالات میں اکثر سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہر جنگل کی آگ حکومت کی ناکامی ہوتی ہے یا بعض اوقات یہ واقعی ایک قدرتی آفت ہوتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ قدرتی جنگلات کسی باغ کی طرح نہیں ہوتے جہاں ہر خشک پتہ اور ہر گری ہوئی شاخ روزانہ ہٹا دی جائے۔ کینیڈا کے طویل رقبے پر پھیلے جنگلات یہ جنگل کے قدرتی نظام کا حصہ ہوتے ہیں، جہاں بے شمار پرندے، جانور اور کیڑے مکوڑے انہی درختوں اور جھاڑیوں سے اپنی بقا کا سامان کرتے ہیں۔جب کئی ہفتوں یا مہینوں تک بارش نہ ہو، درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جائے اور تیز ہوائیں چلنے لگیں تو یہی خشک جھاڑیاں آگ کے لیے ایندھن بن جاتی ہیں۔ بعض اوقات بجلی گرنے سے آگ لگ جاتی ہے، اور کبھی انسانی لاپرواہی بھی اس کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ہر واقعے کو صرف ایک وجہ سے جوڑ دینا حقیقت کا مکمل عکس نہیں۔حالیہ دنوں میں بعض سیاسی بیانات میں جنگلات کی آگ کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دیا گیا۔ لیکن ایسے پیچیدہ مسئلے کو صرف ایک فریق کی گردن میں ڈال دینا انصاف پر مبنی تجزیہ نہیں۔ جنگلات کی آگ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں قدرتی عوامل، موسمی تبدیلیاں، انتظامی تیاری اور انسانی رویے سب اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کینیڈا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لاکھوں مربع کلومیٹر پر جنگلات پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک کا دوسرا نام ہی جنگل ہو، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں انسان نے جنگل کو ختم نہیں کیا بلکہ جنگل کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھ لیا ہے۔ شہروں کو اس انداز سے آباد کیا گیا ہے کہ فطرت بھی محفوظ رہے اور شہری بھی۔اس کے باوجود جب غیر معمولی گرمی، خشک سالی اور تیز ہوائیں مل جائیں تو جنگلات کی آگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی قدرتی آفت کو مکمل طور پر روکنا شاید کسی بھی ملک کے بس کی بات نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے غافل ہے۔ کینیڈا میں جدید وارننگ سسٹم، تربیت یافتہ فائر فائٹرز، فضائی امداد، بروقت انخلا کے انتظامات اور شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی جان کو اولین ترجیح دی جاتی ہے سیاست اپنی جگہ، مگر فطرت کے اپنے قوانین بھی ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حکومتوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ جدید نگرانی کا نظام، بروقت وارننگ، فائر فائٹرز کی مناسب تربیت، آگ بجھانے کے وسائل، اور جہاں ممکن ہو وہاں خشک جھاڑیوں کی صفائی جیسے اقدامات نقصان کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن یہ توقع کرنا کہ لاکھوں ایکڑ پر پھیلے جنگلات کے ہر درخت اور ہر جھاڑی کی مکمل حفاظت کی جا سکتی ہے، حقیقت پسندانہ سوچ نہیں جہاں تک امریکہ کے بیانات کا تعلق ہے، سیاست دان بعض اوقات کسی مسئلے پر مختلف زاویے سے تنقید کرتے ہیں۔ اگر وہ کینیڈا کی حکومت پر جنگلات کے انتظام یا آگ سے نمٹنے کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں بجائے اس کی مدد کرنے کے تو یہ ایک سیاسی مقف ہو سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ کی ریاستوں کو بھی قدرتی آفات کا سامنا رات دن کرنا پڑتا ہے اور کینیڈا ہمیشہ اچھے پڑوسی کا رول ادا کرتا ہے ۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ کینیڈا کی کوشش ہے کہ انسانی جانیں محفوظ رہیں کیونکہ جنگلات کی آگ میں قدرتی حالات، موسم، خشک سالی،موسمیاتی عوامل اور انسانی سرگرمیاں سب کردار ادا کر سکتے ہیں ،قدرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن بہتر منصوبہ بندی، سائنسی تحقیق، ماحول دوست پالیسیوں اوراجتماعی ذمہ داری سے ان کے نقصانات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ الزام تراشی سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کے تحفظ اور ہنگامی تیاری کے لیے مل کر کام کرے۔ کیونکہ آگ یہ نہیں دیکھتی کہ سرحد کہاں ختم ہوتی ہے؛ وہ صرف وہیں پھیلتی ہے جہاں اسے ایندھن اور سازگار حالات مل جائیں جنگلات کی آگ (Wildfires) کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، اور ہر آگ کا سبب ایک جیسا نہیں ہوتا بعض آگیں قدرتی وجوہات سے لگتی ہیں، مثلا بجلی گرنا، شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہوائیں۔جبکہ بہت سی آگ انسانی سرگرمیوں سے بھی لگتی ہیں، جیسے کیمپ فائر کو مکمل طور پر نہ بجھانا،کینیڈا جیسے وسیع ملک میں لاکھوں ایکڑ پر پھیلے جنگلات کی ہر جھاڑی اور ہر درخت کی حفاظت عملی طور پر ممکن نہیں۔ اگر مہینوں تک بارش نہ ہو، درجہ حرارت بہت زیادہ ہو اور ہوائیں تیز ہوں تو ایک چھوٹی سی چنگاری بھی بڑی آگ میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔مگر اس کے باجود کینیڈین حکومت الرٹ رہتی ہے اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت زمہ داری ان کی اولین کوشش ہوتی ہے جس سے وہ غافل نہیں رہتے ۔ See less
موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی آگ صبیحہ خان صبیحہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل






