دنیا سے یااپنے ملک و شہر سے چلے جانے کے بعد انسان معتبر اور اہم ہوجاتا ہے
انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا جانتا تھا۔ کسی کی خوشی میں شریک ہونا، کسی کے غم میں سہارا بننا، کسی کی کامیابی پر داد دینا اور کسی کی جدوجہد کو سراہنا ہماری سماجی اقدار کا حصہ تھا۔
لیکن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور سوشل میڈیا کے بے تحاشا استعمال نے ان اقدار کی صورت بدل دی ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں جذبات بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، رشتے بھی ورچوئل ہوتے جا رہے ہیں اور دکھ بھی اکثر مصنوعی محسوس ہونے لگے ہیں۔
آج اگر کوئی شخص دنیا سے رخصت ہو جائے، کسی شہر کو چھوڑ دے، کسی ادارے سے الگ ہو جائے یا کسی دوسرے ملک منتقل ہو جائے تو اچانک وہی شخص سب کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس کی تصاویر، ویڈیوز، یادیں اور خدمات کا تذکرہ ہر طرف ہونے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا پر طویل تعزیتی پیغامات، جذباتی تحریریں اور تعریفوں کے انبار لگ جاتے ہیں۔ لیکن ایک سوال دل میں بار بار جنم لیتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ اس شخص کے جیتے جی نہیں کیا جا سکتا تھا؟
کتنی عجیب بات ہے کہ جس انسان کی پوسٹ پر کبھی ایک حوصلہ افزا جملہ لکھنے کی فرصت نہیں ہوتی، اس کی وفات کے بعد کئی صفحات پر مشتمل تعزیتی نوٹ لکھ دیے جاتے ہیں۔ جس کی کامیابی پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، اس کے جانے کے بعد اسے عظیم، بے مثال اور ناقابلِ فراموش قرار دیا جاتا ہے۔ گویا ہم نے عزت، محبت اور اعتراف کو موت کے بعد تقسیم کرنے کی روایت بنا لی ہے۔
یہ صرف سوشل میڈیا کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ بھی ہے۔ ہم زندہ انسانوں کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اچانک اس کی تمام خوبیاں یاد آ جاتی ہیں۔ اختلافات ختم ہو جاتے ہیں، شکایتیں مٹ جاتی ہیں اور تعریفوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اگر یہی رویہ ہم اس کی زندگی میں اختیار کریں تو شاید کئی دل ٹوٹنے سے بچ جائیں، کئی لوگ مایوسی کا شکار نہ ہوں اور کئی زندگیاں امید سے بھر جائیں۔
آج سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آسان ضرور بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ دکھاوے کو بھی فروغ دیا ہے۔ بعض لوگ تعزیتی پوسٹ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ انہیں حساس، مخلص یا باخبر سمجھیں۔ بعض اوقات تو ایسے افراد بھی تعزیت کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے مرحوم سے برسوں رابطہ تک نہیں رکھا ہوتا۔ چند لمحوں کے لیے پروفائل تصویر سیاہ کر دینا، افسوس کے دو جملے لکھ دینا یا پرانی تصویر شیئر کر دینا آسان ہے، مگر کسی کی زندگی میں اس کے دکھ بانٹنا، اس کی مالی یا اخلاقی مدد کرنا اور اس کا حوصلہ بڑھانا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
بدقسمتی سے یہی رویہ صرف عام لوگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اہلِ علم، صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، اساتذہ، فنکاروں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ جب تک وہ زندہ ہوتے ہیں، ان کی خدمات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
ان کی محنت کو وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، انہیں قومی اثاثہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ سیمینار منعقد ہوتے ہیں، تعزیتی ریفرنس ہوتے ہیں، خصوصی مضامین لکھے جاتے ہیں اور ان کے نام پر ایوارڈز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ان کے اعزاز میں شام رکھی جاتی ہے
سوال یہ ہے کہ اگر یہی عزت، یہی اعتراف اور یہی محبت ان کی زندگی میں مل جاتی تو کیا وہ زیادہ خوش، زیادہ مطمئن اور معاشرے کے لیے زیادہ مثر کردار ادا نہ کر سکتے تھے؟
ہمارا دین بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ زندہ انسان کی عزت کرو، اس کی دلجوئی کرو، بیمار کی عیادت کرو، رشتوں کو جوڑو، ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور کسی کے دل کو ٹوٹنے نہ دو۔ اسلام نے زندہ انسان کے حقوق کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے، لیکن ہم نے ان تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر رسمی تعزیت کو اصل ہمدردی سمجھ لیا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ اپنے والدین کو ان کی زندگی میں بتائیں کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے اساتذہ کا احترام ان کے سامنے کریں۔ اپنے دوستوں کی کامیابی پر دل سے خوش ہوں۔ اپنے ساتھیوں کی محنت کو سراہیں۔ کسی لکھنے والے کو اس کی زندگی میں داد دیں، کسی فنکار کو اس کے جیتے جی عزت دیں اور کسی خدمت گزار انسان کو اس کی موجودگی میں شکریہ کہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر کل ہم خود اس دنیا سے چلے جائیں تو کیا ہمیں اس بات کی خوشی ہوگی کہ ہماری وفات کے بعد ہزاروں پوسٹیں لکھی جائیں، یا اس بات کی کہ ہماری زندگی میں کسی نے ہمارا ہاتھ تھاما، ہمارا حوصلہ بڑھایا اور ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم اہم ہیں؟
سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں، لیکن اس کا استعمال ہمارے رویوں کی عکاسی ضرور کرتا ہے۔ اگر ہم اسے محبت، حوصلہ افزائی، خیرخواہی اور زندہ انسانوں کی قدر کے لیے استعمال کریں تو یہی پلیٹ فارم معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف مصنوعی سوگ، نمائشی جذبات اور وقتی ہمدردی کا ذریعہ بن جائے تو پھر ہمیں اپنے ضمیر سے ضرور سوال کرنا چاہیے۔
اس موضوع سے متعلق ہم فیصل عشرت صاحب کے بھی خیالات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتے ہیں
: فیصل عشرت*
(ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ)
******
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آج کے اس بے حس اور مشینی دور میں ہمارے جذبات بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں؟ جب تک کوئی شخص
ہمارے درمیان سانس لیتا ہے، ہم اس کی ایک آواز سننے، اس کا حال پوچھنے یا اس کے درد کو بانٹنے کے لیے ایک لمحہ نہیں نکالتے۔ لیکن جونہی وہ اس فانی دنیا سے کوچ کرتا ہے، یا بیروں ملک یا کسی شہر چلا جاتا ہے تو ہمارا سوشل میڈیا اکانٹ اچانک مصنوعی محبت اور آنسووں کے سیلاب سے ڈوب جاتا ہے۔ کیا یہ سچا دکھ ہے یا محض ایک نیا “ورچوئل ٹرینڈ” (Virtual Trend)؟
ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔ زندگی کی اس اندھی دوڑ میں ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنوں کی سانسیں ٹوٹنے کا انتظار کرتے ہیں۔ جیتے جی کوئی فون کال نہیں، کوئی خیریت کا پیام نہیںبس ایک ہولناک خاموشی اور دوری! لیکن جیسے ہی کسی کی موت کا آخری پیغام فیس بک کی وال یا واٹس ایپ اسٹیٹس کی زینت بنتا ہے، ہمارے اندر کا سویا ہوا ضمیر اچانک جاگ اٹھتا ہے۔ ہم فورا طویل اور دکھ بھری ایموشنل پوسٹس (Emotional Posts) کا انبار لگا دیتے ہیں، پرانی تصاویر ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں اور “RIP” کے روایتی الفاظ لکھ کر خود کو دنیا کے سامنے سب سے بڑا درد مند ظاہر کرنے کی ناکام اداکاری کرتے ہیں۔
دل چیر دینے والا سوال تو یہ ہے کہ جب وہ انسان تنہائی کے اندھیروں میں گھٹن جھیل رہا تھا، تب آپ کی یہ محبت کہاں تھی؟ کیا اسے آپ کی اس “ڈیجیٹل سمپتی” (Digital Sympathy) اور ان دکھاوے کے لفظوں کی اس وقت ضرورت نہیں تھی جب وہ زندگی کی کشمکش میں اکیلا تھا؟ جب اسے آپ کے دو محبت بھرے بولوں کی یا صرف ایک خلوص بھرے میسج کی پیاس تھی؟
تلخ مگر عیاں حقیقت یہی ہے کہ ہم اس بے حس معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہم جیتے جی لوگوں کی قدر نہیں کرتے، بلکہ ان کی لاش پر بیٹھ کر اپنی خودساختہ “محبت” کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم کسی کی موت کو بھی اپنے “لائکس” (Likes)، “ویوز” (Views) اور “ہمدردی کے سرٹیفکیٹس” سمیٹنے کا گھٹیا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ یہ کیسا ہولناک تضاد ہے کہ ہم زندگی میں اپنوں کو اپنانے سے کتراتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کے نام پر “پوسٹ اور ری پوسٹ” کا تماشا لگا دیتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ، خدارا اس کھوکھلے، مصنوعی اور کاغذی سوگ کے اسیر بننے سے باہر نکلیں۔ مرنے کے بعد یا کسی کے بیرون ملک یا شہر جانے کے بعد
دکھاوے کے جملوں اور ڈیجیٹل آنسوں سے کہیں بہتر ہے کہ ہم زندگی ہی میں اپنوں کو وقت دیں، ان کی روح کو سکون بخشیں اور ان کے دکھ سکھ میں سچے دل سے شریک ہوں۔ یاد رکھیے، اس دنیا سے جانے والے کو آپ کے “ڈیجیٹل کمنٹس” یا تعزیت کے طویل پیغامات کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی؛ اسے ضرورت ہوتی ہے تو صرف جیتے جی آپ کے خلوص، آپ کے ساتھ اور آپ کی سچی محبت کی!۔۔۔۔
یہ تھے فیصل عشرت صاحب آخر میں بس اتنا کہ
آئیے عہد کریں کہ ہم لوگوں کی قدر ان کی زندگی میں کریں گے، ان کی موجودگی میں ان کا شکریہ ادا کریں گے، ان کی کامیابی پر انہیں مبارک دیں گے، ان کے دکھ میں ان کا سہارا بنیں گے اور ان کے جانے کے بعد افسوس کرنے کے بجائے ان کے جیتے جی محبت بانٹنے کی روایت کو زندہ کریں گے۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ انسان کو اپنے مرنے کے بعد لکھی جانے والی تحریروں سے زیادہ، اپنی زندگی میں بولے جانے والے دو مخلص الفاظ
کی ضرورت ہوتی ہے۔






