ترقی کے لیے کیا ملک میں نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے؟نشید آفاقی

پاکستان میں جب بھی ترقی، انتظامی اصلاحات یا وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات ہوتی ہے تو نئے صوبوں کے قیام کا موضوع ضرور زیر بحث آ جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اگر ملک میں مزید صوبے بن جائیں تو عوام کے مسائل ان کی دہلیز تک حل ہوں گے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نئے صوبے مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ترقی کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، یا پھر اصل مسئلہ کہیں اور ہے؟
یہ بحث نئی نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں کئی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ کبھی ون یونٹ بنا، کبھی ختم ہوا، پھر صوبائی خودمختاری میں اضافہ کیا گیا۔ اس کے باوجود آج بھی ملک کے مختلف حصوں سے نئے صوبوں کے مطالبات سنائی دیتے ہیں۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور اور دیگر علاقوں میں وقتا فوقتا یہ آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا سب سے مضبوط موقف یہ ہے کہ آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی ڈھانچہ بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ اگر ایک صوبہ کروڑوں لوگوں پر مشتمل ہو تو حکومت کے لیے ہر علاقے تک یکساں سہولیات پہنچانا آسان نہیں رہتا۔ دور دراز علاقوں کے لوگ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبے صرف بڑے شہروں تک محدود رہتے ہیں جبکہ چھوٹے شہر اور دیہی علاقے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
یہ دلیل اپنی جگہ وزن رکھتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بہتر انتظامی نظام کے لیے نئے صوبے، ریاستیں یا انتظامی اکائیاں بنائی گئی ہیں تاکہ عوامی خدمات زیادہ مثر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔ اگر حکومت عوام کے قریب ہو تو فیصلے بھی نسبتا جلد ہوتے ہیں اور مسائل بھی تیزی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ صرف نئے صوبے بنا دینے سے ترقی خود بخود نہیں آتی۔ اگر گورننس کمزور ہو، ادارے غیر موثر ہوں، کرپشن موجود ہو اور منصوبہ بندی کا فقدان ہو تو چار کی جگہ آٹھ یا دس صوبے بھی بنا دیے جائیں، نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت نظام کو بہتر بنانے کی ہے، نہ کہ صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کی۔
اس موقف کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ اگر کسی علاقے میں ہسپتال، اسکول، سڑکیں اور روزگار کے مواقع موجود نہیں تو اس کی وجہ صرف صوبے کی بڑی آبادی نہیں بلکہ منصوبہ بندی، وسائل کے استعمال اور حکومتی ترجیحات بھی ہیں۔ کئی ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں بہت بڑے انتظامی یونٹس کے باوجود ترقی کی رفتار قابل رشک ہے۔
ایک اہم پہلو وسائل کی تقسیم کا بھی ہے۔ نئے صوبے بننے کی صورت میں بجٹ، ملازمتوں، سرکاری اداروں، اسمبلیوں، گورنر ہاوسز، سیکریٹریٹ اور دیگر انتظامی ڈھانچوں کے لیے اضافی اخراجات درکار ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت اس بوجھ کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ اگر وسائل محدود ہوں تو نئی عمارتوں سے زیادہ اہمیت تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کو دینی چاہیے۔

تاہم اس کے برعکس بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدائی اخراجات ضرور ہوں گے لیکن اگر نئے صوبے بہتر انتظامی کارکردگی کا باعث بنیں تو طویل مدت میں یہی سرمایہ کاری فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ موثر انتظام، مقامی منصوبہ بندی اور بہتر نگرانی ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتی ہے۔
ایک اور حساس پہلو شناخت کا ہے۔ بعض علاقوں میں نئے صوبے کی خواہش انتظامی ضرورت سے زیادہ ثقافتی یا تاریخی شناخت سے جڑی ہوتی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت کو زیادہ نمائندگی ملے۔ اگر اس احساس کو مثبت انداز میں سنبھالا جائے تو قومی یکجہتی مضبوط ہو سکتی ہے، لیکن اگر معاملہ سیاسی کشمکش میں بدل جائے تو اختلافات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
یہاں سیاست کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے بعض اوقات نئے صوبوں کا مطالبہ عوامی ضرورت سے زیادہ سیاسی نعرہ بن جاتا ہے۔ انتخابات قریب ہوں تو وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن بعد میں معاملہ سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس رویے نے عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہییں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ کیا فیصلہ آبادی کی بنیاد پر ہوگا؟ جغرافیہ دیکھا جائے گا؟ انتظامی سہولت اہم ہوگی یا تاریخی حیثیت؟ اگر واضح اصول نہ ہوں تو ہر چند سال بعد نئے مطالبات سامنے آتے رہیں گے۔
پاکستان جیسے وفاقی ملک میں یہ بھی ضروری ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رہے۔ اگر موجودہ صوبوں کو مکمل اختیارات، وسائل اور مضبوط مقامی حکومتیں میسر ہوں تو شاید کئی شکایات خود بخود کم ہو جائیں۔ بعض ماہرین تو یہ رائے دیتے ہیں کہ نئے صوبوں سے پہلے بااختیار بلدیاتی نظام زیادہ ضروری ہے، کیونکہ شہری کو سب سے پہلے اپنے شہر اور ضلع کی سطح پر موثر حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عام شہری کی ترجیح اکثر بہت سادہ ہوتی ہے۔ اسے اس سے زیادہ غرض نہیں کہ صوبے کتنے ہیں، بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے کو اچھا اسکول ملے، مریض کو بروقت علاج، کسان کو پانی، نوجوان کو روزگار اور شہری کو صاف سڑکیں اور محفوظ ماحول۔ اگر یہ سہولیات موجود ہوں تو شاید انتظامی تقسیم کا موضوع اتنا اہم محسوس نہ ہو۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نئے صوبوں کی بحث غیر ضروری ہے۔ اگر کسی علاقے کی آبادی، رقبہ اور انتظامی ضروریات واقعی اس بات کا تقاضا کرتی ہوں کہ وہاں الگ صوبہ بنایا جائے، اور اس سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچنے کی توقع ہو، تو اس پر سنجیدہ، غیر سیاسی اور قومی مفاد میں گفتگو ہونی چاہیے۔ لیکن اگر مقصد صرف سیاسی فائدہ یا وقتی مقبولیت حاصل کرنا ہو تو ایسے فیصلے دیرپا مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقی کسی ایک فیصلے کا نام نہیں۔ ترقی اچھی حکمرانی، شفافیت، قانون کی بالادستی، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، امن، مضبوط اداروں اور عوامی اعتماد کے مجموعے سے جنم لیتی ہے۔ نئے صوبے اس عمل کا ایک حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن پورا حل نہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے حق اور مخالفت، دونوں کے پاس قابل غور دلائل موجود ہیں۔ اس لیے اس حساس معاملے پر جذبات سے زیادہ اعداد و شمار، انتظامی ضرورت، آئینی تقاضوں اور قومی مفاد کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ اگر نئے صوبے واقعی عوام کی
زندگی آسان بنا سکتے ہیں تو ان پر ضرور غور ہونا چاہیے، لیکن اگر موجودہ نظام میں اصلاحات ہی وہی نتائج دے سکتی ہیں تو پہلے ان راستوں کو آزمانا زیادہ دانشمندانہ ہوگا۔
ملک کی ترقی کا سفر نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنے سے کم اور نظام میں نئی سوچ پیدا کرنے سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔ شاید یہی وہ نکتہ ہے جس پر تمام فریق آسانی سے متفق ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں