ڈیڈ لائنوں کی سیاست اور زمینی حقائق….تحریر:شیخ راشد عالم

پاکستان کی سیاست میں ایک اصطلاح ایسی ہے جو گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی مقبول ہوئی ہے، اور وہ ہے “ڈیڈ لائن”۔ حکومتوں کے قیام کے فورا بعد ان کے خاتمے کی تاریخیں دینا، چند ماہ کے اندر بڑی سیاسی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کرنا، اور پھر ان تاریخوں کے گزر جانے کے بعد نئی ڈیڈ لائن جاری کر دینا، اب ہمارے سیاسی مباحثے کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان صرف ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ تقریبا ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔
8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اتحادی حکومت بھی اسی طرز کے سیاسی تجزیوں کا مرکز بنی۔ حکومت کے آغاز ہی سے مختلف سیاسی حلقوں، ٹی وی پروگراموں، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا رہاہے کہ موجودہ سیٹ اپ زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گا۔ کبھی نوے دن، کبھی چھ ماہ اور کبھی کسی مخصوص سیاسی یا معاشی مرحلے کو حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہر نئی ڈیڈ لائن اپنی مدت پوری کرتی رہی اور اس کی جگہ ایک نئی پیش گوئی سامنے آتی رہی۔
یہاں سوال کسی ایک پیش گوئی کے درست یا غلط ہونے کا نہیں بلکہ اس رجحان کا ہے کہ آخر حکومتوں کے بارے میں مسلسل ایسی تاریخیں کیوں دی جاتی ہیں جن کی بنیاد زیادہ تر قیاس آرائیوں پر ہوتی ہے؟ کیا یہ محض سیاسی تجزیہ ہے یا پھر سنسنی خیزی کے اس ماحول کا نتیجہ جس میں ہر نئی خبر کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ یقینا غیر معمولی واقعات سے بھری پڑی ہے۔ کئی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکیں، سیاسی اتحاد اچانک ٹوٹ گئے اور ایسے فیصلے بھی ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست کا رخ بدل دیا۔ یہی تاریخی پس منظر شاید آج بھی بہت سے تجزیہ کاروں کو ہر سیاسی بحران میں حکومت کے خاتمے کے آثار دکھاتا ہے۔ لیکن ہر دور کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے ماضی کے تجربات کو ہر موجودہ صورتحال پر منطبق کرنا درست نہیں۔
گزشتہ دو برس کے دوران جب بھی کوئی اہم معاشی مرحلہ آیا، اس کے ساتھ حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی بھی سامنے آ گئی۔ آئی ایم ایف کے جائزے کو فیصلہ کن قرار دیا گیا، پھر بجٹ کو آخری امتحان کہا گیا، اس کے بعد اتحادی جماعتوں کے اختلافات کو حکومت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں بعض حلقوں نے نئے صوبوں کے قیام جیسے آئینی معاملے کو بھی سیاسی ڈیڈ لائن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ لیکن آئینی ماہرین مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے کہ نئے صوبوں کا قیام ایک انتہائی پیچیدہ آئینی عمل ہے، جس کے لیے صرف سیاسی خواہش کافی نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت بھی ضروری ہے۔ اس لیے ایسے دعووں کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اتحادی حکومتوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ دنیا کی بیشتر پارلیمانی جمہوریتوں میں اتحادی جماعتیں کئی معاملات پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی ہیں، سخت بیانات بھی دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومتیں چلتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف
سیاسی جماعتوں کے درمیان تنا واور بیانات کو فوری طور پر حکومت کے خاتمے سے جوڑ دینا ہمیشہ درست تجزیہ ثابت نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ آج ایک مختصر ویڈیو، ایک غیر مصدقہ اطلاع یا کسی نامعلوم ذریعے سے منسوب دعوی چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ الگورتھم بھی سنسنی خیز مواد کو زیادہ فروغ دیتے ہیں، اس لیے ایسی خبریں زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں جن میں کسی بڑی تبدیلی، خفیہ منصوبے یا فوری سیاسی ہلچل کا ذکر ہو۔ بعد میں اگر وہ اطلاعات درست ثابت نہ ہوں تو ان پر اتنی بحث نہیں ہوتی جتنی ان کے ابتدائی دعوے پر ہوئی تھی۔
جمہوریت میں حکومت پر تنقید کرنا اپوزیشن، میڈیا اور عوام کا بنیادی حق ہے۔ حکومت کی معاشی کارکردگی، مہنگائی، روزگار، گورننس، امن و امان اور عوامی مسائل پر سخت سوالات بھی اٹھنے چاہییں۔ لیکن تنقید اور پیش گوئی میں فرق ہوتا ہے۔ تنقید حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہوتی ہے، جبکہ پیش گوئی مستقبل کے امکانات پر۔ جب امکانات کو یقینی نتائج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر ضروری بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔
اسی لیے سیاسی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی تجزیہ یا پیش گوئی بار بار غلط ثابت ہو تو اس کا جائزہ لینا بھی صحافتی دیانت کا حصہ ہونا چاہیے۔ معتبر صحافت صرف خبریں دینے کا نام نہیں بلکہ اپنی معلومات اور تجزیوں کا احتساب بھی کرتی ہے۔ یہی رویہ میڈیا پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حکومتیں صرف سیاسی بیانات سے نہیں گرتیں۔ آئینی نظام میں حکومت کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمانی اکثریت، آئینی طریقہ کار، عدالتی فیصلوں، عوامی مینڈیٹ اور سیاسی حالات کے مجموعی اثرات سے ہوتا ہے۔ کسی حکومت کے خلاف عوامی بے چینی، معاشی مشکلات یا اتحادی اختلافات یقینا اہم عوامل ہو سکتے ہیں، مگر ان کی بنیاد پر فوری نتیجہ اخذ کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔
دوسری طرف حکومتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف اس وجہ سے مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے کہ پیش گوئیاں غلط ثابت ہو رہی ہیں۔ اصل کامیابی عوامی مسائل کے حل، معیشت کی بہتری، مہنگائی میں کمی، سرمایہ کاری کے فروغ، شفاف طرز حکمرانی اور ادارہ جاتی استحکام سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر عوام کی زندگی میں بہتری نہ آئے تو محض سیاسی استحکام بھی دیرپا اعتماد پیدا نہیں کر سکتا۔
پاکستان کی سیاست اس وقت سنجیدہ مکالمے کی متقاضی ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی روزمرہ زندگی کیسے بہتر ہوگی، معاشی مشکلات کب کم ہوں گی، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں کیا پیش رفت ہوگی۔ اگر قومی بحث کا بڑا حصہ صرف حکومتوں کے خاتمے کی نئی تاریخیں دینے میں صرف ہوتا رہے تو اصل قومی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ سیاسی مباحثے میں سنسنی کے بجائے سنجیدگی کو فروغ دیا جائے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو حقائق، آئین اور زمینی شواہد کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ پیش گوئیوں کی سیاست وقتی توجہ ضرور حاصل کر سکتی ہے، مگر قوموں کی تعمیر حقائق، ذمہ داری اور بالغ نظری سے ہوتی ہے۔
آخرکار حکومتیں آئینی عمل سے بنتی اور اسی عمل کے تحت تبدیل ہوتی ہیں۔ اس لیے شاید اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی مکالمے میں “ڈیڈ لائنوں” سے زیادہ “زمینی حقائق” کو اہمیت دی جائے۔ یہی رویہ نہ صرف جمہوری عمل کو مضبوط کرے گا بلکہ عوام کو بھی افواہوں
اور قیاس آرائیوں کے بجائے حقیقت پر مبنی سیاسی شعور فراہم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں