جدید جنگی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ طاقت کا معیار بدل چکا ہے۔ اب صرف ایٹمی ہتھیار، ٹینکوں کی قطاریں یا جدید لڑاکا طیارے ہی برتری کی ضمانت نہیں رہے، بلکہ ذہانت، حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی بدلتی دنیا کو معروف دفاعی تجزیہ کارخریف اکرم نے اپنی کتاب In The Shadow Of The Shahedنہایت گہرائی سے بیان کیا ہے، جہاں ایران کی ڈرون صنعت کو ایک نئے عالمی رجحان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ایران کی مثال اس حوالے سے غیر معمولی ہے۔ ایک ایسا ملک جو دہائیوں سے معاشی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری تنہائی کا شکار رہا، اس نے محدود وسائل کے باوجود اپنی کمزوری کو طاقت میں بدل دیا۔ روایتی فضائی قوت میں کمی کو ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پورا کیا اور آج وہ اس میدان میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
اکرم خریف کے مطابق، ایران نے ڈرونز کو محض ایک ہتھیار کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ایک مکمل حکمت عملی کے طور پر اپنایا۔ اس حکمت عملی کی بنیاد کم لاگت، زیادہ اثر اور مسلسل اپ گریڈیشن پر رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے ڈرونز نہ صرف نگرانی بلکہ حملے، انٹیلی جنس اور نفسیاتی دباؤ کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ایران کے ڈرونز نے عالمی طاقتوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ وہ ممالک جو اربوں ڈالر خرچ کر کے جدید جنگی نظام تیار کرتے ہیں، انہیں کم لاگت ایرانی ڈرونز سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیاں بنانا پڑ رہی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ‘‘سپر پاور’’ کا روایتی تصور چیلنج ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ایران کی اس کامیابی کے پیچھے ایک واضح فلسفہ کارفرما ہے
‘‘جنگ وسائل سے نہیں، سوچ سے جیتی جاتی ہے۔’’
ایران نے اس سوچ کو عملی شکل دیتے ہوئے اپنی دفاعی پالیسی کو تبدیل کیا۔ اس نے مہنگے لڑاکا طیاروں کے بجائے ایسے ڈرونز تیار کیے جو کم خرچ، آسانی سے تیار ہونے والے اور بیک وقت بڑی تعداد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے اسے ایک نئی قسم کی عسکری
طاقت فراہم کی جسے ‘‘اسیمٹرک وارفیئر’’ کہا جاتا ہے۔
اکرم خریف اپنی کتاب میں ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران نے ڈرونز کو صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بھی بنا لیا۔ مختلف خطوں میں اس ٹیکنالوجی کا اثر دکھائی دیتا ہے، جہاں ڈرونز کے ذریعے نہ صرف عسکری برتری حاصل کی جا رہی ہے بلکہ سیاسی اثر و رسوخ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایران اس میدان میں اتنی تیزی سے کیسے آگے بڑھا؟ اس کا جواب پابندیوں میں چھپا ہے۔ جب کسی ملک پر ٹیکنالوجی کی رسائی محدود کر دی جائے تو وہ مجبوراً خود انحصاری کی طرف جاتا ہے۔ ایران نے بھی یہی کیا۔ اس نے مقامی انجینئرز، یونیورسٹیوں اور ریسرچ اداروں کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا نظام بنایا جو مکمل طور پر داخلی صلاحیتوں پر مبنی ہے۔
یہی خود انحصاری آج اس کی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہے۔ ایران نہ صرف اپنے لیے ڈرون بنا رہا ہے بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک ماڈل بن چکا ہے کہ کس طرح کم وسائل میں جدید ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ایران کے ڈرون پروگرام کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی لچک ہے۔ روایتی ہتھیاروں کے برعکس، ڈرونز کو آسانی سے اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کو شامل کر کے انہیں مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران مسلسل اس میدان میں ترقی کر رہا ہے اور پیچھے نہیں ہٹ رہا۔
اکرم خریف کے تجزیے کے مطابق، مستقبل کی جنگیں مکمل طور پر بدل جائیں گی۔ میدان جنگ میں انسانوں کی جگہ مشینیں لیں گی، اور فیصلہ کن عنصر رفتار اور ڈیٹا ہوگا۔ ایران نے اس تبدیلی کو وقت سے پہلے سمجھ لیا اور اسی لیے آج وہ اس دوڑ میں شامل ہی نہیں بلکہ کئی حوالوں سے آگے دکھائی دیتا ہے۔
تاہم، یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ اس میدان میں چیلنجز موجود ہیں۔ جدید اینٹی ڈرون سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجی ایران کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ لیکن ایران کی حکمت عملی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ وہ ہر چیلنج کو ایک نئے موقع میں بدل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی پیش رفت رکنے کے بجائے مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی کو صرف جنگ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سول مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ زراعت، ریسکیو آپریشنز، سرحدی نگرانی اور قدرتی آفات میں مدد کے لیے بھی ڈرونز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ یہ پہلو اس صنعت کو مزید پائیدار اور مفید بناتا ہے۔
اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ایران کی ڈرون صنعت ایک سبق بھی دیتی ہے۔ یہ سبق ہے خود انحصاری کا، جدت کا اور حالات سے فائدہ اٹھانے کا۔ ایک ایسا ملک جسے کمزور سمجھا جاتا تھا، اس نے اپنی حکمت عملی سے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی صرف ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری کامیابی بھی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مقصد واضح ہو اور حکمت عملی درست ہو تو محدود وسائل بھی بڑی کامیابی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ایرانی ڈرونز نے واقعی سپر پاور کے ‘‘چھکے چھڑا دیے’’ ہیںاور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں، بلکہ مزید تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
