ترکیہ میں ناکام بغاوت کے دس سال: طاقت، سیاست اور جمہوریت کا بدلتا منظرنامہ ماجد علی سید

15 جولائی 2016 کی رات ترکیہ کی جدید تاریخ کی سب سے فیصلہ کن راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک فوجی بغاوت کی ناکام کوشش نہیں تھی بلکہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے ریاست، سیاست، فوج، عدلیہ، میڈیا اور عوام کے باہمی تعلقات کو نئی شکل دے دی۔ اس واقعے کو آج دس برس گزر چکے ہیں، لیکن اس کے اثرات نہ صرف ترکیہ کی داخلی سیاست بلکہ اس کی خارجہ پالیسی، جمہوری ڈھانچے اور علاقائی کردار پر بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
ترکیہ میں فوج کا سیاست میں مداخلت کا ایک طویل اور پیچیدہ پس منظر موجود رہا ہے۔ گزشتہ صدی میں کئی مرتبہ فوج نے منتخب حکومتوں کو برطرف کیا اور خود کو ریاستی نظریے کا محافظ قرار دیا۔ تاہم 15 جولائی 2016 کی رات پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ عوام نے ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہو کر فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ یہ منظر صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے غیر معمولی تھا۔
صدر رجب طیب اردوان اس وقت چھٹیاں گزار رہے تھے۔ بغاوت شروع ہوتے ہی انہوں نے موبائل فون کے ذریعے ایک نجی ٹی وی چینل پر عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر جمہوریت کا دفاع کریں۔ چند ہی لمحوں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس اور فوج کے وفادار دستوں نے بھی باغی عناصر کا مقابلہ کیا، اور چند گھنٹوں کے اندر بغاوت دم توڑ گئی۔ اس رات دو سو پچاس سے زائد افراد جان سے گئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے، لیکن ترکیہ کا سیاسی نظام بچ گیا۔
یہ واقعہ صدر اردوان کے لیے ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ثابت ہوا۔ بغاوت ناکام ہونے کے بعد حکومت نے اس کا ذمہ دار فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک کو قرار دیا۔ حکومتی مقف تھا کہ گولن کے حامی برسوں سے فوج، عدلیہ، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں خفیہ طور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے رہے تھے۔ اسی بنیاد پر ملک بھر میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع ہوئیں۔
سرکاری ملازمین، فوجی افسران، ججوں، اساتذہ، صحافیوں اور پولیس اہلکاروں سمیت لاکھوں افراد تحقیقات کی زد میں آئے۔ ہزاروں ادارے، تعلیمی مراکز، فلاحی تنظیمیں اور میڈیا ہاسز بند کر دیے گئے۔ حکومت کا مقف تھا کہ یہ اقدامات ریاست کو ایک منظم نیٹ ورک سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے انہیں اختلافِ رائے دبانے اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی قرار دیا۔
اسی دوران ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی جو تقریبا دو برس تک برقرار رہی۔ اس عرصے میں ایسے انتظامی اختیارات استعمال کیے گئے جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ یہی وہ دور تھا جس نے بعد میں ترکیہ کے آئینی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی۔
2017 کے آئینی ریفرنڈم کے ذریعے ترکیہ نے پارلیمانی نظام کو خیرباد کہہ کر صدارتی نظام اختیار کر لیا۔ وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور بیشتر انتظامی اختیارات براہِ راست صدر کے پاس منتقل ہو گئے۔ اس تبدیلی نے صدر اردوان کو ملکی تاریخ کے طاقتور ترین رہنماں میں شامل کر دیا۔
اب کابینہ کی تشکیل، اعلی تقرریاں، انتظامی فیصلے اور کئی اہم ریاستی معاملات صدارتی اختیار کے تحت آگئے۔
حامی حلقوں کے نزدیک اس نئے نظام نے فیصلہ سازی کو تیز، ریاست کو مضبوط اور سیاسی عدم استحکام کو کم کیا۔ ان کا استدلال ہے کہ ترکیہ کو دہشت گردی، سرحدی خطرات، شام کی خانہ جنگی، مہاجرین کے بحران اور معاشی دبا جیسے چیلنجز کا سامنا تھا، جن سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت ناگزیر تھی۔
دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ صدارتی نظام نے اختیارات کا توازن متاثر کیا، پارلیمنٹ اور عدلیہ کا کردار محدود ہوا اور ریاستی اداروں کی خودمختاری کمزور پڑ گئی۔ ان کے مطابق طاقت کا حد سے زیادہ ارتکاز جمہوری نگرانی کے نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اختلافِ رائے کے لیے سیاسی گنجائش سکڑتی جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بغاوت کے بعد جہاں صدر اردوان کی طاقت میں اضافہ ہوا، وہیں اپوزیشن بھی پہلے سے زیادہ منظم ہو کر سامنے آئی۔ مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں نے مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کی، جس کا نتیجہ استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں میں بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن کی تاریخی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ اکرم امام اوغلو سمیت کئی نئے رہنما قومی سطح پر ابھرے، اگرچہ ان میں سے متعدد اب بھی عدالتی مقدمات اور قانونی تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔
گزشتہ دس برسوں میں ترکیہ کی خارجہ پالیسی میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ انقرہ نے دفاعی صنعت میں غیر معمولی سرمایہ کاری کی، مقامی ڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اور خود کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔ شام، لیبیا، آذربائیجان، بحیرہ روم اور افریقہ میں ترکیہ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ فعال دکھائی دیتا ہے۔ دفاعی خود انحصاری نے بھی اردوان حکومت کی سیاسی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ ترکیہ نے دفاع، سفارت کاری اور علاقائی اثرورسوخ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، لیکن معاشی میدان میں اسے سخت مشکلات کا سامنا بھی رہا۔ بلند افراطِ زر، ترک لیرا کی قدر میں مسلسل کمی، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوامی زندگی کو متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں حکومت کو معاشی اصلاحات پر زیادہ توجہ دینا پڑ رہی ہے۔
جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ترکیہ مسلسل عالمی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اظہارِ رائے، صحافتی آزادی اور عدالتی خودمختاری کے بارے میں تحفظات ظاہر کرتی رہی ہیں، جبکہ ترک حکومت ان تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ قومی سلامتی اور ریاستی استحکام ہر چیز پر مقدم ہیں، اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کسی بھی خودمختار ریاست کا حق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بغاوت کی دسویں برسی پر بھی ترکیہ کے تمام 81 صوبوں میں کارروائیاں کی گئیں اور تقریبا ایک ہزار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اب بھی سمجھتی ہے کہ 2016 کی سازش کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور ریاستی اداروں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
دس برس بعد اگر اس واقعے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ 15 جولائی نے ترکیہ کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ اس رات نے فوج کے روایتی سیاسی کردار کو تقریبا ختم کر دیا، مگر اس کے ساتھ ہی ریاستی طاقت کے ارتکاز، سیاسی آزادیوں اور جمہوری توازن کے بارے میں نئی بحثوں کو بھی جنم دیا۔
ترکیہ آج ایک مضبوط صدارتی نظام، فعال دفاعی صنعت، مثر خارجہ پالیسی اور طاقتور قیادت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا مضبوط ریاست اور مضبوط جمہوریت ہمیشہ ایک ہی سمت میں سفر کرتی ہیں، یا ان دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا اصل امتحان ہوتا ہے؟
15 جولائی 2016 کی رات تاریخ بن چکی ہے، مگر اس کے اثرات آج بھی ترکیہ کی سیاست، معیشت، ریاستی ڈھانچے اور عوامی سوچ میں پوری شدت سے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود یہ باب ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ترکیہ کی آئندہ سیاسی سمت بھی بڑی حد تک اسی سوال کے گرد گھومتی رہے گی کہ سلامتی، استحکام اور جمہوری آزادیوں کے درمیان متوازن راستہ کیسے اختیار کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں