فارم ہاوسز شہریوں کے لیے تفریح نہیں، قبرستان بنتے جا رہے ہیں..نشید آفاقی

گندے سوئمنگ پول، نگلیریا کا خوف، ایس او پیز صرف کاغذوں تک محدود… آخر معصوم جانوں کا حساب کون دے گا؟
گرمی کی شدت بڑھتے ہی ہزاروں خاندان سکون اور تفریح کی تلاش میں فارم ہاوسز کا رخ کرتے ہیں۔ والدین بچوں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔ نوجوان دوستوں کے ساتھ تفریح کے لئے نکلتے ہیں۔ کوئی سالگرہ مناتا ہے، کوئی فیملی گیٹ ٹوگیدر کرتا ہے، کوئی ویک اینڈ انجوائے کرنے جاتا ہے۔ مگر افسوس بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ جن سوئمنگ پولز میں وہ خوشیاں تلاش کر رہے ہیں، وہی پول بعض اوقات موت بھی بن سکتے ہیں۔
یہ صرف پانی نہیں، یہ ایک ایسا خطرہ بھی ہو سکتا ہے جو آنکھ سے نظر نہیں آتا، مگر چند دنوں میں ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ دیتا ہے۔
ہر سال نگلیریا جیسے مہلک جرثومے کا نام خبروں کی زینت بنتا ہے۔ کسی نوجوان کی موت، کسی بچے کی زندگی ختم، کسی خاندان کا چراغ گل۔ چند دن شور مچتا ہے، بیانات آتے ہیں، احتیاطی ہدایات جاری ہوتی ہیں، اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ اگلے موسم گرما میں وہی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟
کیا انسانی جان کی قیمت صرف ایک پریس ریلیز رہ گئی ہے؟
کیا حکومت کا کام صرف عوام کو مشورے دینا ہے یا ان کی جان و مال کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داری ہے؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں فارم ہاوس کلچر تیزی سے پھیل رہا ہے، مگر اس کے ساتھ حفاظتی نظام اسی رفتار سے نہیں بڑھا۔ سینکڑوں فارم ہاوسز اور نجی سوئمنگ پولز کام کر رہے ہیں، لیکن کتنے ایسے ہیں جہاں پانی کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ ہوتی ہے؟ کتنی جگہوں پر کلورین کی مقدار روزانہ چیک کی جاتی ہے؟ کتنے پولز کا ریکارڈ موجود ہے؟ کتنے فارم ہاوسز کا باقاعدہ سرکاری معائنہ کیا جاتا ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ڈھونڈنے والا شاید ہی کوئی ہو۔
کاغذوں میں یقینا ایس او پیز موجود ہوں گے۔ قوانین بھی ہوں گے۔ ہدایات بھی جاری ہوتی ہوں گی۔ مگر اگر ان پر عمل درآمد نہ ہو تو قانون صرف ایک فائل بن کر رہ جاتا ہے۔
اصل المیہ یہی ہے۔
اگر کسی ریسٹورنٹ میں صفائی نہ ہو تو کارروائی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی دکان میں غیر معیاری اشیا فروخت ہوں تو جرمانہ لگ جاتا ہے۔ مگر جہاں سینکڑوں لوگ ایک ہی پانی میں نہاتے ہیں، وہاں نگرانی کا نظام اتنا کمزور کیوں ہے؟
کیا کسی سرکاری ادارے نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ موسم گرما شروع ہونے سے پہلے تمام سوئمنگ پولز کا معائنہ کرے؟
کیا کسی نے یہ دیکھا کہ پانی تبدیل کب ہوا؟
کیا فلٹریشن سسٹم چل بھی رہا ہے یا صرف دکھاوے کے لیے لگا ہوا ہے؟
کیا جراثیم کش ادویات مقررہ مقدار میں استعمال ہو رہی ہیں؟
اگر ان سوالوں کا جواب “نہیں” ہے تو پھر خطرہ صرف نگلیریا تک محدود نہیں رہتا۔ جلدی بیماریاں، آنکھوں کے انفیکشن، کان کی بیماریاں، معدے اور آنتوں کے انفیکشن سمیت متعدد مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب قابلِ روک تھام ہے۔
یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔
یہ کوئی ناقابلِ علاج بیماری نہیں۔
یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے بروقت نگرانی، باقاعدہ صفائی، پانی کے معیار کی جانچ اور سخت قانونی عمل درآمد سے بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
لیکن شاید انسانی جان کی اہمیت ہمارے نظام میں آخری درجے پر آ چکی ہے۔
ہر حادثے کے بعد ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے: “تحقیقات کی جائیں گی۔”
یہ تحقیقات آخر کہاں جاتی ہیں؟
کبھی کسی فارم ہاوس کا لائسنس مستقل منسوخ ہوا؟
کبھی کسی غفلت کے ذمہ دار کو مثال بنایا گیا؟
کبھی عوام کو بتایا گیا کہ کون سے فارم ہاوسز حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے؟
خاموشی… صرف خاموشی۔
یہ خاموشی ہی اصل المیہ ہے۔
ایک ماں اپنے بچے کو خوشی دینے کے لیے فارم ہاوس لے جاتی ہے۔ اسے کیا معلوم کہ جس پانی میں اس کا بچہ کھیل رہا ہے، وہ پانی صاف بھی ہے یا نہیں۔ ایک باپ اپنے خاندان کے ساتھ چند خوشگوار لمحے گزارنے جاتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اس جگہ کی آخری بار صفائی کب ہوئی تھی۔
عام شہری کے پاس نہ لیبارٹری ہے، نہ ٹیسٹنگ کٹ، نہ تکنیکی علم۔
اسے تو صرف یہ یقین ہوتا ہے کہ جس جگہ عوام سے پیسے لیے جا رہے ہیں، وہاں بنیادی حفاظتی انتظامات ضرور ہوں گے۔
اگر یہ یقین بھی ٹوٹ جائے تو پھر عوام کس پر اعتماد کریں؟
یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ فارم ہاوس مالکان کی بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ منافع کمانے سے پہلے انسانی جان کی حفاظت کو مقدم رکھیں۔
جو شخص ٹکٹ فروخت کر کے لوگوں کو سوئمنگ پول میں اتارتا ہے، اس پر لازم ہے کہ پانی محفوظ ہو۔

صفائی صرف دیواروں اور لان کی نہیں، پانی کی بھی ہونی چاہیے۔
بدقسمتی سے بعض مقامات پر خوبصورت سجاوٹ، رنگ برنگی لائٹس اور مہنگا فرنیچر تو نظر آتا ہے، مگر پانی کی صفائی پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی ضرورت ہے۔
یہ کاروبار نہیں، امانت ہے۔
اور انسانی جان سے بڑی کوئی امانت نہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف ہدایات جاری کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ ایک موثر نظام قائم کرے۔
ہر فارم ہاوس اور ہر تجارتی سوئمنگ پول کی لازمی رجسٹریشن ہو۔
باقاعدہ انسپکشن کا شیڈول ہو۔
پانی کے معیار کی باقاعدہ لیبارٹری جانچ لازم قرار دی جائے۔
ہر پول کے باہر آخری معائنے اور پانی کی جانچ کی تاریخ واضح طور پر آویزاں کی جائے۔
جو ادارہ قواعد پر عمل نہ کرے، اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے۔
صرف جرمانے کافی نہیں، کیونکہ جرمانہ ادا کر کے کاروبار دوبارہ شروع ہو جاتا ہے، مگر اگر ایک جان چلی جائے تو وہ کبھی واپس نہیں آتی۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ احتیاط صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، عوام کی بھی ہے۔
اگر پانی گدلا نظر آئے، اگر صفائی مشکوک ہو، اگر کلورین کی شدید یا بالکل نہ ہونے والی بو محسوس ہو، اگر انتظامیہ سوالوں کا جواب نہ دے، تو ایسے پول میں داخل ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
چند گھنٹوں کی تفریح پوری زندگی کے غم میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔
آخر میں ایک سوال ہر ذمہ دار ادارے، ہر فارم ہاوس مالک اور ہر متعلقہ افسر کے لیے چھوڑنا چاہتا ہوں۔
جب ایک معصوم بچہ، ایک نوجوان یا ایک شہری مشتبہ آلودہ پانی میں نہانے کے بعد جان کی بازی ہار دیتا ہے، تو اس کے والدین کے آنسووں کا حساب کون دے گا؟
کیا صرف تعزیتی بیان کافی ہے؟
کیا ایک اور انکوائری کافی ہے؟
کیا ایک اور موسم گرما اسی طرح گزر جائے گا؟
یا پھر اس بار واقعی کوئی ایسا نظام بنایا جائے گا جو انسانی جان کو کاروباری مفاد سے زیادہ اہمیت دے؟
کیونکہ یاد رکھیے…
صاف پانی صرف سہولت نہیں، زندگی ہے۔
اور جب صفائی کا نظام مر جائے تو پھر پانی نہیں، موت تیرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں