منجمد اثاثے، گرم سیاست اور خودمختاری کی قیمت…ماجد علی سید

دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ، ایک بیان یا ایک ٹویٹ اتنا وزن رکھتا ہے کہ وہ کئی برسوں کی سفارتی کوششوں کو نئی سمت دے دیتا ہے۔ حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں سے متعلق سامنے آنے والے بیانات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے منجمد اثاثے بحال ہونے کی صورت میں یہ رقم صرف امریکی کسانوں سے گندم، مکئی، سویا بین اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال ہوگی، جبکہ دوسری جانب ایران نے نہ صرف اس دعوے کو مسترد کیا بلکہ اسے اپنی قومی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کا ردعمل محض ایک سفارتی جواب نہیں تھا بلکہ اس میں وہ سیاسی پیغام بھی پوشیدہ تھا جو تہران برسوں سے دنیا کو دیتا آیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا نے دنیا کو اگر کوئی فصل دی ہے تو وہ “بے اعتمادی” ہے۔ یہ جملہ اگرچہ سیاسی طنز تھا، لیکن اس کے پیچھے نصف صدی پر محیط وہ تاریخ کھڑی ہے جس میں ایران اور امریکا ایک دوسرے پر وعدہ خلافی، دباؤ، پابندیوں اور مداخلت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ایران امریکی گندم خریدے گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو اس کی تجارتی پالیسی سے مشروط کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر مالیاتی آزادی، قومی خودمختاری اور آزاد تجارت جیسے بین الاقوامی اصول کہاں کھڑے رہ جائیں گے؟

امریکا کی اپنی داخلی سیاست بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ امریکی کسان ہر انتخاب میں ایک بڑی سیاسی قوت تصور کیے جاتے ہیں۔ گندم، مکئی اور سویا بین پیدا کرنے والی ریاستیں صدارتی انتخابات میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر امریکی صدر زرعی شعبے کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ایران جیسی بڑی منڈی امریکی زرعی مصنوعات خریدتی ہے تو اس کا فائدہ براہِ راست امریکی کسانوں اور بالواسطہ وائٹ ہاؤس کی سیاسی ساکھ کو پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ اسی لیے تہران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اسے اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی ملتی بھی ہے تو وہ فیصلہ خود کرے گا کہ کس ملک سے، کس قیمت پر اور کس معیار کی اشیا خریدنی ہیں۔ یہ مؤقف صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ ایران یہ تاثر ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ وہ پابندیوں کے دباؤ کے بعد اپنی معاشی پالیسی بھی واشنگٹن کے اشاروں پر ترتیب دے رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں۔ اس میں قطر، خلیجی ممالک، یورپی طاقتیں اور عالمی مالیاتی نظام بھی کسی نہ کسی انداز میں شریک ہیں۔ اگر واقعی کوئی ایسا مالیاتی انتظام تشکیل پاتا ہے جس کے تحت منجمد اثاثے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال ہوں، تو یہ مستقبل میں دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتا ہے۔ پھر سوال یہ اٹھے گا کہ کیا کسی ملک کے اثاثے بحال کرتے وقت اس کے اخراجات کی سمت بھی بیرونی طاقتیں طے کریں گی؟

بین الاقوامی تعلقات میں طاقت ہمیشہ صرف فوج یا معیشت سے ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات بینک اکاؤنٹس بھی میزائلوں سے زیادہ مؤثر ہتھیار بن جاتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں امریکا نے پابندیوں، مالیاتی نظام اور ڈالر کی عالمی حیثیت کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہم ترین اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایران، روس، وینزویلا اور دیگر کئی ممالک اس پالیسی کا تجربہ کر چکے ہیں۔ لیکن اس حکمت عملی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ جب پابندیاں طویل ہو جائیں تو متاثرہ ممالک متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ چین، روس اور برکس ممالک کی حالیہ معاشی سرگرمیاں اسی رجحان کی مثال ہیں۔

ایران کا معاملہ بھی شاید اسی سمت جا رہا ہے۔ تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر مذاکرات ہوں گے تو برابری کی بنیاد پر ہوں گے، نہ کہ شرائط کے تحت۔ یہی وجہ ہے کہ باقر قالیباف نے امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے صرف ایک خبر کی نفی نہیں کی بلکہ ایک سوچ کو مسترد کیا۔ وہ سوچ جس میں معاشی ریلیف کے بدلے سیاسی یا تجارتی شرائط قبول کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی توانائی کی منڈیاں، تیل کی قیمتیں، مشرقِ وسطیٰ کا توازن، خلیجی ریاستوں کی حکمت عملی اور حتیٰ کہ عالمی غذائی تجارت بھی اس سے متاثر ہوگی۔ اس لیے ہر بیان، ہر تردید اور ہر اعلان کو صرف سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ٹرمپ کا دعویٰ حقیقت کا روپ دھارتا ہے یا ایران اپنے مؤقف پر قائم رہتا ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ موجودہ دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ آج کل بینکوں، پابندیوں، تجارتی معاہدوں اور منجمد اثاثوں کے ذریعے بھی طاقت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ شاید یہی اکیسویں صدی کی نئی سفارت کاری ہے، جہاں بندوق سے زیادہ بینک اکاؤنٹ کی چابی اہم بن چکی ہے، اور جہاں ہر ڈالر اپنے ساتھ ایک سیاسی پیغام بھی لے کر چلتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں