منظرپس منظر،،، حسین خوابوں کی سر زمین کینیڈا …. صبیحہ خان صبیحہ

کالم نگار صبیحہ خان صبیحہ کا تعارف
کینیڈا میں مقیم شاعرہ ، نثر نگار ،کالم نگار ،فری الانس جرنلسٹ صبیحہ خان صبیحہ پاکستان واچ میں کا لم لکھیں گی انھوں نے فکاہیہ مضامین ،معاشرتی ،سماجی ،سیاسی ہر موضوع پر آرٹیکلز لکھے ہیں جو متواتر اردو نیوز ، اردو میگزین جدہ سعودی عرب میں کافی عرصہ شائع ہوتے رہے ہیں نثر کے ساتھ شاعری کا سلسلہ بھی جاری رہا ان کے دو مجموعہ کلام شائع ہوئے پہلا شعری مجموعہ ‘‘نئی اْڑان ‘‘دوسرا شعری مجموعہ ‘‘شعروسخن ہمارے ‘‘ ہیکینیڈا میںان کی ادبی سرگرمیاں جاری ہیں۔یہاں کے اردو اخبارات میں ان کے کالم بھی شائع ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوبصورت موسموں جنگلوں کی سر زمین کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے، مگر آبادی اس کی 38 ملین 3 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ ہے اونٹاریو کینیڈا کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ کینیڈا کا ہر موسم اپنے اندر خوبصورتی دلکشی رکھتی ہے سمر کا موسم کینیڈا کو سرسبز اور پھولوں سے بھر دیتا ہے چیری بلاسم کے پھول درختوں کو ایک انوکھی خوبصورتی سے بھر دیتے ہیں تو فال سیزن جب درختوں کے رنگین پتے زمین پر بکھر کر ایک نرالا حسن بخش دیتے ہیں رنگ ہی رنگ بکھر جاتے ہیں سردی کے ساتھ پورا کینیڈا برف کی چادر اوڑھ لیتا ہے غرض یہاں کا ہر موسم اپنی الگ پہچان رکھتا ہے میپل کے پتوں کی سرزمین کینیڈا نہ صرف اپنے وسیع جنگلات اور رنگین خزاں کے لیے مشہور ہے بلکہ اپنی لاتعداد شاندار جھیلوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ کینیڈا کی ہر جھیل ایک انوکھی خوبصورتی رکھتی ہے، جھیل نیاگرا فال قدرت کا عجوبہ ہے کن اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے میں انسان بھی پیش پیش رہا ہے۔ اسی کی ایک مثال رات کے وقت نیاگرا فالز پر پڑنے والی وہ روشنیاں ہیں جو نیاگرا فالز کو مزید خوبصورت بناتی ہیں۔ اس کا حسن سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے جیسے پہاڑوں اور جنگلوں کے درمیان چھپے ہوئے جواہرات، صاف آسمان کی عکاسی کرتے ہیں اور بے ساختہ بیابان میں جادوئی کہانیوں کو جنم دیتے ہیں کینیڈا میں سرفہرست خوبصورت جھیلوں کو دریافت کرنے کا سفر آپ کو دلکش مناظر کی طرف لے جائے گا جو آپ کے دل کو حیران کر دے گا،جہاں فطرت پانی کی سطح پر ہر ہوا کے جھونکے اور ہر لہر کے ساتھ کہانیاں سناتی دکھائی دیتی ہے۔کینیڈا بلاشبہ اْن ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں نظام اپنی جگہ موجود ہے یہاں زندگی مشکلات سے خالی نہیں، مگر فرق یہ ہے کہ مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ مہنگائی ہو، موسم کی سختی ہو یا عالمی حالات کے اثرات حکومت نہ صرف ان مسائل کو تسلیم کرتی ہے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتی ہے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ کینیڈا کوئی جادوئی دنیا نہیں جہاں قدم رکھتے ہی ہر خواب پورا ہو جائے۔ زندگی یہاں بھی محنت مانگتی ہے، وقت مانگتی ہے اور سب سے بڑھ کر صبر مانگتی
ہے۔نئے آنے والوں کی توقعات کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں دنیا کے کسی بھی ملک میں جائیں ہر ملک کی الگ ترجہات ہوتی ہیں راتوں رات آپ کو ہر چیز حاصل نہیں ہوسکتی اس کے لئے آپ کو صبر تحمل سے پلاننگ کرنی ہوتی ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ نئے نئے کینیڈا آتے ہیں، وہ ایک غیر حقیقت پسندانہ توقع لے کر آتے ہیں کہ شاید چند مہینوں میں ہی سب کچھ بدل جائے گا بڑی نوکری، بڑا گھر، آسودہ زندگی جب ایسا فوری طور پر نہیں ہوتا تو مایوسی جنم لیتی ہیحقیقت اس کے برعکس ہے یہاں کامیابی ایک سفر ہے، منزل نہیں جو لوگ محنت، مستقل مزاجی اور قانون کی پابندی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، وہی کامیاب ہوتے ہیں نظام پر اعتماد کیوں؟کینیڈا کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہاں کا نظام قابلِ بھروسہ ہے اگر کوئی مسئلہ ہو تو اس کے حل کے لیے راستہ موجود ہوتا ہے ادارے کام کرتے ہیں، قوانین لاگو ہوتے ہیں، اورسب سے بڑھ کر یہ کہ عام آدمی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ مہنگائی یا دیگر مشکلات کے باوجود مطمئن دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ بہتری کی کوشش جاری ہیموسم اور زندگی کا توازن کینیڈا کی سردی دنیا بھر میں مشہور ہیکبھی کبھی درجہ حرارت منفی پچاس تک بھی جا پہنچتا ہے۔ مگر یہاں بھی نظام انسان کو سہارا دیتا ہے۔ گھروں کی ہیٹنگ، سڑکوں کی صفائی، اور روزمرہ زندگی کو جاری رکھنے کے انتظامات ایسے ہیں کہ شدید موسم بھی زندگی کو مکمل طور پر مفلوج نہیں کر پاتا۔یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نظام مضبوط ہو تو سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے کینیڈا بلاشبہ اْن ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں نظام اپنی جگہ موجود ہے۔ یہاں زندگی مشکلات سے خالی نہیں مگر نظام بہت عمدہ مضبوط ہے موسم کی سختی ہو یا عالمی حالات کے اثرات حکومت نہ صرف ان مسائل کو تسلیم کرتی ہے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتی ہے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ کینیڈا کوئی جادوئی دنیا نہیں جہاں قدم رکھتے ہی ہر خواب پورا ہو جائے۔ زندگی یہاں بھی محنت مانگتی ہے، وقت مانگتی ہے اور سب سے بڑھ کر صبر مانگتی ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ نئے نئے کینیڈا آتے ہیں، وہ ایک غیر حقیقت پسندانہ توقع لے کر آتے ہیں کہ شاید چند مہینوں میں ہی سب کچھ بدل جائے گابڑی نوکری، بڑا گھر، آسودہ زندگی جب ایسا فوری طور پر نہیں ہوتا تو مایوسی جنم لیتی ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے یہاں کامیابی ایک سفر ہے، منزل نہیں جو لوگ محنت، مستقل مزاجی اور قانون کی پابندی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، وہی کامیاب ہوتے ہیں۔کینیڈا کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہاں کا نظام قابلِ بھروسہ ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو اس کے حل کے لیے راستہ موجود ہوتا ہے۔ ادارے کام کرتے ہیں، قوانین لاگو ہوتے ہیں، حکومت اپنے شہریوں کو ہر طرح کی سہولیات دیتے ہیں جس میں تعلیم ، صحت ، ٹرانسپورٹ ،روزگار ، نظام انصاف ، شخصی آزادی شہری حقوق کی پاسداری اہم ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ دیگر مشکلات کے باوجود مطمئن دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ بہتری کی کوشش جاری ہے۔موسم اور زندگی کا توازن کینیڈا کی سردی دنیا بھر میں مشہور ہیکبھی کبھی درجہ حرارت منفی پچاس تک بھی جا پہنچتا ہے۔ مگر یہاں بھی نظام انسان کو سہارا دیتا ہے گھروں کی ہیٹنگ، سڑکوں کی صفائی، اور روزمرہ زندگی کو جاری رکھنے کے انتظامات ایسے ہیں کہ شدید موسم بھی زندگی کو مکمل طور پر مفلوج نہیں کر پاتا۔یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نظام مضبوط ہو تو سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔یہاں سے ایک سادہ مگر اہم سبق ملتا ہے زندگی کہیں بھی آسان نہیں، مگر جہاں نظام مضبوط ہو، وہاں مشکلات قابلِ برداشت ہو جاتی ہیں۔نئے آنے والوں کے لیے سب سے ضروری چیز یہی ہے کہ وہ حقیقت پسند بنیں، صبر کو اپنا
ساتھی بنائیں، اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے آگے بڑھیں۔کینیڈا کی تعریف کرنا کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں تھوڑی بہت خامیاں بھی ہیں، مگر ڈھیروں خوبیوں کی وجہ سے ان کو سرسری لیا جاتا ہے مگر انہیں تسلیم کر کے بہتر بنانے کی کوشش بھی جاری رہتی ہے۔زندگی یہاں بھی امتحان لیتی ہے، مگر جو لوگ ہمت نہیں ہارتے، وہی کامیابی کی کہانی لکھتے ہیں۔یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نظام مضبوط ہو تو سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔کینیڈا آنا بہت سے لوگوں کے لیے ایک خواب ہوتا ہیاور سچ پوچھیں تو یہ خواب غلط بھی نہیں مگر مسئلہ اْس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم خواب کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں، اور حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔اکثر نئے آنے والے جب کینیڈا کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو اْن کے ذہن میں ایک ہی تصویر ہوتی ہے: اچھی نوکری، خوبصورت گھر، اور چند مہینوں میں سیٹ ہوتی زندگی۔ مگر جیسے ہی وقت گزرتا ہے، یہ خواب آہستہ آہستہ حقیقت کے آئینے میں بدلنے لگتا ہے۔پہلی غلطی جلد بازی میں کامیابی کی خواہش یہاں آتے ہی سب کچھ فوراً حاصل کرنے کی خواہش سب سے بڑی غلطی ہیحقیقت یہ ہے کہ کینیڈا میں کامیابی ایک مرحلہ وار سفر ہے۔ جو لوگ صبر کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، وہی آخرکار اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔دوسری غلطی صرف ڈگری پر انحصاربہت سے لوگ اپنی ڈگری کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، مگر یہاں صرف ڈگری نہیں بلکہ اسکل (مہارت) کی اہمیت زیادہ ہے۔ جب تک آپ مقامی تجربہ اور ہنر نہیں سیکھتے، آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔تیسری غلطی سسٹم کو سمجھے بغیر شکایت کچھ لوگ چند مہینوں میں ہی یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہاں بھی کچھ خاص فرق نہیں۔ حالانکہ وہ ابھی اس نظام کو سمجھ ہی نہیں پاتے یہاں کاسسٹم وقت لیتا ہے، مگر جب سمجھ آ جائے تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں چوتھی غلطی ہر کام کو کمتر سمجھناشروع میں ملنے والے چھوٹے کام کو اکثر لوگ اپنی عزت کے خلاف سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی چھوٹے کام آگے بڑھنے کی سیڑھی بنتے ہیں۔ یہاں محنت کو عزت دی جاتی ہے، کام کو نہیں بلکہ نیت کو دیکھا جاتا ہیاصل راستہ کیا ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ غلطیاں ہیں تو درست راستہ کیا ہے؟ یہاں پلیمبر بننے کے لئے بھی پڑھنا لازمی ہے چاہے آپ اپنے وطن سے کتنی بھی ڈگریاں لائیں یہاں وہ فیل ہوجاتی ہیں یہاں کی ڈگری لینالازمی ہے بہتر ہے کہ صبر کو اپنا ہتھیار بنائیں جلدی نہیں، مستقل مزاجی کامیابی دیتی ہے۔مہارت سیکھیں نئے اسکلز، زبان اور مقامی تجربہ آپ کو آگے لے جاتے ہیں۔فری کلاسز ہیں نیوکمر کے لئے سسٹم کو سمجھیں قانون، طریقہ کار اور مواقع یہ سب سیکھنے میں وقت لگائیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کینیڈا میں اگر آپ محنت کریں، قانون کی پابندی کریں اور سیکھنے کا عمل جاری رکھیں تو آگے بڑھنے کے مواقع ضرور ملتے ہیں۔ یہاں دروازے بند نہیں ہوتے—بس دستک دینے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ کینیڈا کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ ایک موقع ہے—ایک ایسا موقع جو اْن لوگوں کے لیے ہے جو صبر، محنت اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا جانتے ہیں۔خوابوں کی سر زمین کینیڈا کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ ایک موقع ہیایک ایسا موقع جو اْن لوگوں کے لیے ہے جو صبر، محنت اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا جانتے ہیں۔ وہی آخرکار اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔دوسری غلطی صرف ڈگری پر انحصاربہت سے لوگ اپنی ڈگری کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، مگر یہاں صرف ڈگری نہیں بلکہ اسکل (مہارت) کی اہمیت زیادہ ہے۔ جب تک آپ مقامی تجربہ اور ہنر نہیں سیکھتے، آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔تیسری غلطی سسٹم کو سمجھے بغیر شکایت کچھ لوگ چند مہینوں میں ہی یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہاں بھی کچھ خاص فرق نہیں۔ حالانکہ وہ ابھی اس نظام کو سمجھ ہی نہیں پاتے
یہاں کاسسٹم وقت لیتا ہے، مگر جب سمجھ آ جائے تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں چوتھی غلطی ہر کام کو کمتر سمجھناشروع میں ملنے والے چھوٹے کام کو اکثر لوگ اپنی عزت کے خلاف سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی چھوٹے کام آگے بڑھنے کی سیڑھی بنتے ہیں۔ یہاں محنت کو عزت دی جاتی ہے، کام کو نہیں بلکہ نیت کو دیکھا جاتا ہیاصل راستہ کیا ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ غلطیاں ہیں تو درست راستہ کیا ہے؟ یہاں پلیمبر بننے کے لئے بھی پڑھنا لازمی ہے چاہے آپ اپنے وطن سے کتنی بھی ڈگریاں لائیں یہاں وہ فیل ہوجاتی ہیں یہاں کی ڈگری لینالازمی ہے بہتر ہے کہ صبر کو اپنا ہتھیار بنائیں جلدی نہیں، مستقل مزاجی کامیابی دیتی ہے۔مہارت سیکھیں نئے اسکلز، زبان اور مقامی تجربہ آپ کو آگے لے جاتے ہیں۔فری کلاسز ہیں نیوکمر کے لئے سسٹم کو سمجھیں قانون، طریقہ کار اور مواقع یہ سب سیکھنے میں وقت لگائیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کینیڈا میں اگر آپ محنت کریں، قانون کی پابندی کریں اور سیکھنے کا عمل جاری رکھیں تو آگے بڑھنے کے مواقع ضرور ملتے ہیں۔ یہاں دروازے بند نہیں ہوتے بس دستک دینے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ کینیڈا کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ ایک موقع ہے ایک ایسا موقع جو اْن لوگوں کے لیے ہے جو صبر، محنت اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا جانتے ہیں۔خوابوں کی سر زمین کینیڈا کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ ایک موقع ہے ایک ایسا موقع جو اْن لوگوں کے لیے ہے جو صبر، محنت اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا جانتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں