عالمی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب کسی ایک پیش رفت سے پورا منظرنامہ بدل جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد جو جنگ بندی ہوئی، اس میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسا موڑ ہے جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں رائے کو مثبت انداز میں تبدیل کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس حکمت عملی کے ساتھ سفارتی محاذ پر پیش رفت کی، اس نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے۔ اس پیش رفت کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان نے اس موقع پر ایک متوازن اور دانشمندانہ پالیسی اپنائی۔ ایک طرف اس نے چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھا، تو دوسری جانب امریکا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے مضبوط کیے۔ یہی توازن اسے ایک قابل اعتماد پل بناتا ہے جو مختلف عالمی طاقتوں کو ایک میز پر لا سکتا ہے۔
عالمی میڈیا میں بھی اس پیش رفت کو نمایاں جگہ ملی ہے۔ متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہایت خاموشی مگر مؤثر انداز میں وہ کام کر دکھایا ہے جو بڑی طاقتیں بھی نہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا نام ایک ایسے ملک کے طور پر لیا جا رہا ہے جو تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں حل کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
اس نئی صورتحال کا ایک اہم پہلو بھارت میں پیدا ہونے والا ردعمل بھی ہے۔ وہاں کے میڈیا اور تجزیہ کاروں میں ایک بے چینی دیکھی جا رہی ہے، اور وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ بھارتی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب خطے کے اہم معاملات طے ہو رہے تھے تو بھارت اس عمل سے باہر کیوں رہا؟
بھارتی تجزیہ کار سوشانت سنگھ جیسے افراد پہلے ہی اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ بھارت کی سفارتی حکمت عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ اب جبکہ پاکستان کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، بھارت میں اس صورتحال کو ایک سفارتی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی جو کوششیں کی گئیں، وہ اب دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک، خصوصاً وہ جو جغرافیائی لحاظ سے اہم ہو، مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اس کی سفارتی مہارت اور اس کا متوازن رویہ اسے ایک ناگزیر فریق بنا رہے ہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں جذباتی بیانات کے بجائے عملی اقدامات پر زور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے اس کی کوششوں کو سنجیدگی سے لیا۔ سفارتکاری میں الفاظ سے زیادہ عمل کی اہمیت ہوتی ہے، اور پاکستان نے اس اصول کو بخوبی اپنایا ہے۔
اگر اس صورتحال کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیے، مگر حالیہ پیش رفت نے اسے ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی قیادت نے داخلی استحکام اور خارجی پالیسی کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی مضبوط خارجہ پالیسی اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے اندرونی حالات مستحکم ہوں۔
دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ مثبت اور متوازن سفارتکاری ہمیشہ اپنا اثر دکھاتی ہے۔ یہ کامیابی وقتی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں صبر، تدبر اور درست فیصلوں کا عمل دخل ہے۔
تاہم، اس کامیابی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان کو اب اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی اور اپنی سفارتی پالیسی کو اسی سمت میں جاری رکھنا ہوگا۔
یہ کالم کسی جذباتی ردعمل کا اظہار نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس بدلتی دنیا میں پاکستان نے ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم اور بااثر ملک کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ حالیہ پیش رفت نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی جہت پیدا کر دی ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب بھارت کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دونوں ممالک اپنی اپنی پالیسیوں کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں، لیکن فی الحال منظرنامہ واضح طور پر پاکستان کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
