کیا کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کیا؟ماجد علی سید

کراچی کے مسائل پر بحث شروع ہو تو چند منٹ کے اندر ایک جملہ ضرور سنائی دیتا ہے: “یہ شہر غیر مقامی افراد نے تباہ کر دیا۔” گویا کراچی کسی زمانے میں ایک مثالی، صاف ستھرا اور منظم شہر تھا جسے باہر سے آنے والوں نے برباد کر دیا۔ یہ مؤقف سننے میں جتنا آسان لگتا ہے، حقیقت اتنی ہی پیچیدہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر غیر مقامی افراد ہی کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں تو پھر شہر کو چلانے، منصوبہ بندی کرنے، قوانین نافذ کرنے اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے کس کام کے لیے موجود تھے؟ کیا سڑکیں، سیوریج، پانی کی فراہمی، پبلک ٹرانسپورٹ، کچرا اٹھانے اور شہری منصوبہ بندی کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر تھی جو روزگار کی تلاش میں کراچی آئے؟
کراچی کی تاریخ دراصل ہجرتوں کی تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد لاکھوں لوگ یہاں آباد ہوئے۔ بعد میں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اندرون سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ اس شہر کا رخ کرتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو آج “غیر مقامی” کہا جاتا ہے، انہی لوگوں نے کراچی کی صنعتوں کو مزدور دیے، فیکٹریوں کو کارکن دیے، بازاروں کو تاجر دیے اور بندرگاہ کو افرادی قوت فراہم کی۔ اگر یہی لوگ نہ آتے تو شاید کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت بھی نہ بن پاتا۔
دنیا کے بڑے شہر نقل مکانی سے تباہ نہیں ہوتے، بلکہ ناقص منصوبہ بندی سے تباہ ہوتے ہیں۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی میں بھی دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں، مگر وہاں حکومتیں یہ اندازہ لگاتی ہیں کہ آنے والے برسوں میں کتنے لوگ آباد ہوں گے، کتنی سڑکیں درکار ہوں گی، کتنے اسکول، کتنے اسپتال اور کتنی پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوگی۔ کراچی میں بدقسمتی سے یہ روایت کبھی مضبوط نہیں ہو سکی۔
شہر کی آبادی بڑھتی رہی، مگر سڑکیں وہی رہیں۔ گاڑیاں بڑھتی گئیں، مگر ٹرانسپورٹ کا نظام سکڑتا گیا۔ بلند و بالا عمارتیں بنتی گئیں، مگر پانی کی لائنیں اور نکاسی آب کا نظام دہائیوں پرانا ہی رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر بارش کے بعد کراچی کسی جدید شہر کے بجائے ایک آبی تجربہ گاہ کا منظر پیش کرنے لگا۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی موجود ہے۔ جب کراچی قومی معیشت کو اربوں روپے دیتا ہے تو سب اسے پاکستان کا معاشی انجن قرار دیتے ہیں، لیکن جب اس کے مسائل کی بات آتی ہے تو الزام عام شہریوں اور غیر مقامی افراد کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا حکمرانوں، منصوبہ سازوں اور متعلقہ اداروں کا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
سندھ حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ادوار میں کراچی کے انتظامی معاملات کی بنیادی ذمہ دار رہی ہے۔ شہری منصوبہ بندی، پانی، نکاسی آب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر کئی شعبے براہ راست یا بالواسطہ صوبائی اداروں کے زیر اثر رہے ہیں۔ اگر شہر میں پانی چوری ہو رہا ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، سیوریج کا نظام ناکام ہے یا کچرے کے ڈھیر لگے ہیں تو یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ متعلقہ ادارے کہاں تھے؟
بلدیاتی اداروں کی حالت اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ اختیارات کبھی دیے جاتے ہیں، کبھی واپس لے لیے جاتے ہیں۔ وسائل کی کمی کا رونا الگ ہے اور سیاسی کشمکش الگ۔ نتیجہ یہ کہ شہری یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ اس کے محلے کی ٹوٹی سڑک کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت، میئر، ضلعی انتظامیہ یا کسی اور ادارے پر؟
کراچی شاید دنیا کا واحد شہر ہے جہاں ایک مسئلے کے کئی مالک اور حل کا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ملتا۔
حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں اضافہ بذات خود کوئی جرم نہیں۔ دنیا کے ہر ترقی پذیر شہر میں آبادی بڑھتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے اس اضافے کے مطابق منصوبہ بندی کی؟ کیا نئے رہائشی علاقوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں؟ کیا ماس ٹرانزٹ سسٹم وقت پر بنایا گیا؟ کیا پانی کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے؟ کیا تجاوزات کے خلاف مستقل پالیسی اختیار کی گئی؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمام تر ذمہ داری غیر مقامی افراد پر ڈال دینا دانش مندی نہیں۔
اس بحث کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ جب کسی شہر کے مسائل کا ذمہ دار کسی خاص گروہ، زبان یا علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے تو اس سے مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ نئی تقسیمیں پیدا ہوتی ہیں۔ کراچی پہلے ہی لسانی اور سیاسی کشیدگی کے کئی ادوار دیکھ چکا ہے۔ ایسے میں مسائل کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹا کر الزام تراشی کا راستہ اختیار کرنا مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
کراچی کی تباہی کی داستان میں غیر قانونی تعمیرات، کمزور ادارے، ناقص منصوبہ بندی، سیاسی مداخلت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور جواب دہی کے فقدان کا کردار کہیں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جن پر گفتگو نسبتاً کم اور الزام تراشی زیادہ کی جاتی ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم آسان جوابات تلاش کرنے کے بجائے مشکل سوالات پوچھیں۔ کراچی کو کس نے تباہ کیا؟ وہ مزدور جو روزگار کی تلاش میں یہاں آیا؟ وہ رکشہ ڈرائیور جو اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا ہے؟ وہ فیکٹری ورکر جو صنعت کا پہیہ چلا رہا ہے؟ یا پھر وہ نظام جو بڑھتے ہوئے مسائل کو دہائیوں تک نظر انداز کرتا رہا؟
ممکن ہے اس سوال کا جواب ہر شخص کے پاس مختلف ہو، لیکن ایک بات واضح ہے: کراچی کو صرف غیر مقامی افراد کی آمد نے نہیں، بلکہ مقامی سطح پر موجود طویل المدتی غفلت، ناقص حکمرانی اور مسلسل غیر منصوبہ بندی نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ جب تک ان بنیادی وجوہات کا سامنا نہیں کیا جاتا، تب تک شہر کے مسائل کا ملبہ کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر ڈالا جاتا رہے گا، مگر کراچی وہیں کھڑا رہے گا جہاں آج کھڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں