خوش لباسی کی طرح خوش خوراکی نے بھی فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے … صبیحہ خان صبیحہ

سیانے کہتے ہیں کہ کھانا حیات کو برقرار رکھنے کے لئے کھایا جاتا ہے ،کم کھاؤ اور زیادہ جیو مگر بہت لوگوں کا خیال ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔دیکھا جائے تو خوش لباسی کی طرح خوش خوراکی نے بھی فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے ، جہاں ملک میں مہنگائی اور دیگر مسائل کی بھر مار ہے وہیں مختلف پکوانوں کی یلغار نے لوگوں کو بسیار خوری پر مجبور کر دیا ہے، ہوٹلز ، فوڈ کورٹس ،باربی کیو نائٹ ، غیر ملکی کھانوں کی مقبولیت نے لوگوں کو کریزی بنا دیا ہے ہزاروں روپوں کا کھانا منٹوں میں چٹ کر جاتے ہیں ، شادیوں اور دیگر تقریبات میں کھانوں کی ڈھیروں مختلف اقسام دیکھ کر کہیں سے بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ہم ترقی پذیر ملک کے باشندے ہیں۔ بلکہ لگتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم ایک پیٹو قوم ہیں جن کی سوچ کھانے سے شروع ہوتی ہے اور کھانے پر ختم ، ’’ہوٹلوں، شادی ہالز اور سیاسی جلسوں میں ایسے ہی دیگر مقامات پر ’’کھانے کے دشمن‘‘ با کثرت پائے جاتے ہیں ، کھانا انسان کی کمزوری ماناجاتاہے،اور یہ سچ ہے کہ انسان دنیا میں زیادہ تر جدوجہد کھانے کے لئے کرتا ہے ،ایک طرف لوگ مہنگائی کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف شادیوں اور دیگر تقریبات میں کھانوں کی بے تحاشہ اقسام مہنگائی کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں ،ایک زمانہ تھا کہ زیادہ تر لوگ گھر کے پکے غذائیت سے بھر پور اور متوازن کھانوں کو بہت اہمیت دیتے تھے بلکہ ایسے افراد کو رحم بھری نظر سے دیکھتے تھے جو اپنی فیملی سے دورہونے کے سبب ہوٹلوں میں کھانا کھانے پر مجبور ہوتے تھے،مگر اب لوگ گھر کے کھانوں سے زیادہ ہوٹلنگ کرنا پسندکرتے ہیں ملک میں مہنگائی اس رفتار سے بڑھ رہی ہے کہ عام آدمی کی سانس بھی قسطوں پر چلتی محسوس ہوتی ہے۔آٹا، چینی، بجلی، گیس ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ہر گفتگو کا آغاز اور اختتام مہنگائی کے شکوے سے ہوتا ہے۔ مگر اسی ملک میں جب شام ڈھلتی ہے تو ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور فوڈ کورٹس کا منظر کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے رش ایسا کہ جیسے آج ‘‘کھانا مفت’’ کا عالمی دن منایا جا رہا ہو۔یہ تضاد محض اتفاق نہیں، ہمارے بدلتے ہوئے سماجی رویوں کا آئینہ ہیکبھی کھاناضرورت تھا، اب مشغلہ ہیکبھی دسترخوان گھر کی پہچان ہوتا تھااب لوکیشن اہم ہو گئی ہے آج کا نوجوان یہ کم پوچھتا ہے کہ کھانے میں کیا ہے، زیادہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کھانا کہاں سے آیا ہے۔ ذائقہ ثانوی ہو چکا ہے، برانڈ اور ماحول بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ اب کھانا کھانے سے پہلے کیمرہ ‘‘کھاتا’’ ہے۔ ہر پلیٹ ایک پوسٹ ہے، ہر نوالہ ایک اسٹوری گویا ہم اپنے معدے سے زیادہ اپنے فالوورز کو سیر کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک عام سی کافی بھی تب تک ادھوری ہے جب تک اس کے ساتھ ایک ‘‘پرفیکٹ تصویر’’ نہ لی جائیدلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگائی کا رونا بھی وہی لوگ سب سے زیادہ روتے ہیں جو ہفتے میں کئی بار باہر کھانا کھانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں گویا شکایت بھی برقرار اور شوق بھی زندہ یہ ایک ایسا معاشی اور نفسیاتی تضاد ہے جسے ہم نے معمول بنا لیا ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم ضرورت’’ اور ‘‘نمائش’’ کے درمیان فرق کھو چکے ہیں سادگی اب کمزوری لگتی ہے اور فضول خرچی کو ہم لائف اسٹائل’’ کا نام دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں قرضیلے کرتقریبات کرنا، مہنگے کھانوں کی تصاویر سے اپنی حیثیت بڑھانا یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ہم حقیقت سے زیادہ تاثر کے اسیر ہو چکے ہیں۔یقیناً مشکل حالات میں انسان خوشی تلاش کرتا ہے، اور کھانا ایک آسان خوشی ہے مگر جب یہی خوشی مقابلہ بن جائے تو پھر یہ بوجھ بن جاتی ہے۔
ہم وقتی لطف کے لییمستقل مسائل کو دعوت دے رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر سانی کریں کھانا دکھاوے کے لیے نہیں، جینے کے لیے ہونا چاہیے سادہ دسترخوان میں جو سکون اور برکت ہے، وہ مہنگے ریسٹورنٹس کی چکاچوند میں کہاں؟کھانے کے دشمن، اپنی صحت کے دشمن بن گئے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض افراد اپنی غیر ضروری خوراک کی عادت سے خود اپنے دشمن بن چکے ہیں وہ ہر وقت کھانے کے بارے میں سوچتے ہیں، اور بھی دکھ ہیں زمانے میں کھانے کے سوا،نئے کھانے آزمانے کے شوق میں رہتے ہیں اور پھر مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال نے ماہرینِ صحت کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہیلیکن سوال یہ ہے کہ اس جنون کی قیمت کیا ہے؟ فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ نے نوجوان نسل کی صحت چھین لی ہے۔ موٹاپا، شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض عام ہو گئے ہیں۔ہم جسمانی توانائی سے زیادہ کیلوریز کے قیدی بن چکے ہیں ان افراد کی مرغوب غذائیں زیادہ ترمختلف دعوتوں میں ہی پائی جاتی ہیں جہاں یہ لوگ شرطیں باندھ کر کھاتے ہیں اور پھر کھانا پلیٹوں سے اس طرح غائب ہوتا ہے جیسے سرکاری اسپتالوں سے دوائیں اور سرکاری خزانے سے اس کا خزانہ !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں