واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔ایران نے تجویز دی تھی کہ جنگ بندی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جاسکتا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ تاہم ٹرمپ کی جانب سے پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد سرمایہ کاروں میں خطے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے۔ایشین ٹریڈنگ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 3.1 فیصد اضافے کے ساتھ 107.51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 2.1 فیصد بڑھ کر 94.32 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔خام تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر رہا ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر اشیا کی پیداواری لاگت متاثر ہوسکتی ہے۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش نے گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں عارضی کمی پیدا کی تھی، تاہم امریکی انکار کے بعد قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں۔ تازہ ترین تجارتی اعداد و شمار میں بھی برینٹ 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہاآبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے خطے میں جنگ یا سمندری آمدورفت میں رکاوٹ کے خدشات عالمی توانائی کی منڈی پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






