کراچی (پاکستان واچ نیوز)ہمدرد یونی ورسٹی کے زیر اہتمام شہید حکیم محمد سعید کی حیات و خدمات اور مدینۃ الحکمہ کے علمی و فکری ورثے پر مبنی تصویری کتاب ’’اے لیگیسی آف وزڈم: مدینۃ الحکمہ، اے سٹی آف لرننگ اینڈ کلچر‘‘ کی رونمائی کی پُروقار تقریب ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر سعدیہ راشد، مہمانِ خصوصی جاوید جبار، وائس چانسلرہمدرد یونی ورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عمران امین اور سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن نے کتاب کی رونمائی کی۔ تقریب میں ہمدرد پاکستان منیجنگ ڈائریکٹر /سی او او فاطمہ منیر احمد، سینئر سیاست دان نثار کھوڑو، ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل فرخ امدا دسمیت علمی، ادبی اور سماجی شعبوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
مہمانِ خصوصی جاوید جبار نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں تقریباً 25 برس تک شہید حکیم محمد سعید کو قریب سے جاننے اور ان کی شخصیت سے سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے سعدیہ راشد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 28 برس کے دوران اپنے والد کی میراث کو نہایت خاموشی، عاجزی اور مستقل مزاجی سے نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اسے وسعت بھی دی۔ ان کے بقول، یہ کتاب محض ایک کافی ٹیبل بک نہیں بلکہ علم و جمال کی ایک ایسی ضیافت ہے جو مدینۃ الحکمہ کی تاریخ، وژن اور علمی سفر کو دل نشیں انداز میں پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کتاب کی تیاری میں ڈاکٹر شبیب الحسن، تناز منوالہ، نفیسہ رضوی، ملاحت کلیم شیروانی، نظام صدیقی اور نوشاد عالم سمیت تمام معاونین کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو آزادانہ فکر، تحقیق، مکالمے اور اختلافِ رائے کے مراکز ہونا چاہیے، جہاں روایت کے احترام کے ساتھ جدید علوم اور نئے خیالات کے لیے بھی گنجائش ہو۔
محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ یہ کتاب ان کے والد شہید حکیم محمد سعید کے وژن، جدوجہد اور تاحیات مشن کا عکس ہے۔ ان کے لیے یہ معاشرے کی بہتری اور پاکستانی عوام کی فلاح کے لیے والد کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک ذاتی کاوش بھی ہے۔ انہوں نے مدینۃ الحکمہ کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں بنجر زمینوں اور دشوار گزار راستوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا، مگر ان کے والد مستقبل میں اسی مقام پر بچوں کو کھیلتے اور تعلیمی اداروں کو آباد دیکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی والدہ کی معاونت اور ڈاکٹر نویدالظفر کی خدمات و کاوشوں کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ مدینۃ الحکمہ کی تعمیر و ترقی ایک اجتماعی کاوش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب نئی نسل کو شہید حکیم محمد سعید کے افکار سے روشناس کرائے گی اور نوجوانوں کو بامقصد خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت بنانے کی ترغیب دے گی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین نے کہا کہ دریائے حب کے قریب تین سو ایکڑ سے زائد بنجر رقبے کو سرسبز و شاداب خطے میں تبدیل کرنا شہید حکیم محمد سعید کے عظیم وژن کی عملی تصویر ہے۔ مدینۃ الحکمہ کا تصور محض ایک جامعہ کی تعمیر تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ علم، تحقیق اور خدمتِ انسانیت کا مرکز قائم کرنے کا خواب تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ ہمدرد ایک ہزار سے زائد تعلیمی پروگرام پیش کر رہی ہے اور تحقیق کو عملی و معاشی افادیت سے جوڑنے کے لیے کوشاں ہے۔
معروف سائنس دان ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے علم، تحقیق اور انسانی وسائل کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مدینۃ الحکمہ شہید حکیم محمد سعید کے علمی وژن اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
سابق کمشنر کراچی شفیق الرحمٰن پراچہ نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید نے بنجر علاقے میں مدینۃ الحکمہ قائم کرکے علم و تعلیم کے نئے امکانات پیدا کیے۔ بالخصوص مقامی بچوں کے لیے ہمدرد ولیج اسکول کے ذریعے تعلیمی سہولتوں کی فراہمی ان کے وژن کا اہم حصہ تھی۔
ہمدرد پاکستان کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر نویدالظفر نے شہید حکیم محمد سعید کی وقت کی پابندی، نظم و ضبط، سادگی اور بے لوث خدمت کے جذبے کو یاد کیا، جب کہ مہتاب اکبر راشدی نے مدینۃ الحکمہ کے ابتدائی دنوں اور حکیم صاحب کے تعلیمی خواب کو خراجِ تحسین پیش کیا۔شہید حکیم محمد سعید کی بڑی نواسی اور ہمدرد پاکستان کی متولیہ ڈاکٹر ماہم منیر احمد نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مدینۃ الحکمہ ان کے نانا کے اس خواب کی زندہ مثال ہے جس کا مقصد پاکستان کو تعلیم یافتہ اور باشعور ملک بنانا تھا۔ انہوں نے اس عظیم مشن کو آگے بڑھانے میں حصہ لینے والے تمام افراد کی خدمات کو سراہا۔حکیم صاحب کی منجلی نواسی اور ہمدرد پاکستان کی متولیہ آمنہ ہمایوں میاں نے بھی ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ کتاب مدینۃ الحکمہ کی تاریخ، علمی و تعلیمی خدمات اور شہید حکیم محمد سعید کے وژن کو تصویری اور تحریری انداز میں محفوظ کرتے ہوئے آنے والی نسلوں تک ان کی میراث پہنچانے کی ایک اہم کاوش ہے۔
ہمدرد پاکستان کے سی او او فیصل ندیم، گروپ ڈائریکٹر ایچ آر ابو طالب بھٹو سمیت ہمدرد پاکستان کے سینئر ڈائریکٹران اور کارکنان بھی شریک ہوئے۔ تقریب میں مدینۃ الحکمہ کی علمی کاوشوں اور سہولیات پر مختصر دورانیے کی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔







