ایران جنگ کا دائرہ پھیلنے لگا، آبنائے ہرمز بندش سے دنیا بھر میں تیل کا بحران!
کراچی:پاکستان واچ رپورٹ
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگی کشیدگی نے آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر جیسے اہم بحری راستوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سعودی تیل پائپ لائن پر حملے، حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے قریب پیش قدمی، تجارتی جہازوں کے لیے محدود حفاظتی اوقات اور تیل بردار جہازوں کے کرایوں میں ریکارڈ اضافہ عالمی توانائی بحران کی شدت ظاہر کرتے ہیں۔ اگر یہ صورتحال طویل رہی تو تیل، گیس، شپنگ، خوراک اور صنعتی پیداوار کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ پاکستان سمیت درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ نے اب خطے کے اہم بحری راستوں، تیل کی عالمی ترسیل اور خلیجی ممالک کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک جانے، سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے اور یمن میں ایران کے حامی حوثی جنگجوؤں کی بحیرۂ احمر کے قریب پیش قدمی نے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل، گیس، شپنگ اور خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جبکہ دنیا کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اسی آبی گزرگاہ سے وابستہ تھا۔ تاہم ایران جنگ کے بعد اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ Reuters کے مطابق 10 ستمبر کو آبنائے ہرمز سے صرف سات جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ اوسطاً تقریباً 125 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔ اگرچہ بعض جہاز اپنے tracking systems بند کرکے سفر کرسکتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر تجارتی آمدورفت میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعووں اور مخصوص بحری علاقوں میں پابندیوں کے اعلان نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ امریکا نے تجارتی ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مخصوص اوقات اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انہیں فضائی دفاعی تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز رانی اب معمول کی تجارتی سرگرمی نہیں رہی بلکہ اسے عسکری تحفظ اور خطرے کے تفصیلی جائزے کے ساتھ انجام دینا پڑ رہا ہے۔
بحری راستوں کی بندش کے باعث سعودی عرب نے اپنی East-West تیل پائپ لائن کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا تھا۔ یہ تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل پائپ لائن سعودی تیل کو خلیج فارس کے بجائے بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ Reuters کے مطابق اس پائپ لائن سے حالیہ مہینوں میں روزانہ تقریباً 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جارہا تھا، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔ تاہم عراق سے مبینہ طور پر آنے والے ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب نے اسے احتیاطی طور پر عارضی طور پر بند کردیا۔ حملے کے مقام کے قریب دھواں اٹھنے کی اطلاعات ملیں، جبکہ نقصان اور برآمدات پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروہ نے قبول نہیں کی، تاہم سعودی عرب اور عراق کے حکام نے بتایا کہ حملہ عراق کی سرزمین سے شروع ہوا۔ عراق نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے متعلقہ علاقے کے بعض سکیورٹی حکام کو برطرف کیا اور ایران کے ساتھ ایک اہم سرحدی گزرگاہ بھی بند کردی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کا الزام ایران پر عائد کیا، جبکہ تہران نے اس حوالے سے براہِ راست ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس پیش رفت نے ایران، عراق اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔








