لاہور (ویب ڈیسک ) ڈیفنس کے علاقےمیں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی غیر ملکی خاتون کا جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند کرایا گیا بیان سامنےگیا۔غیر ملکی خاتون نے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا، خاتون کے بیان کی موبائل ریکارڈنگ کرکے اسے یو ایس بی میں ٹرانفسر کیا گیا ہے۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ میرا نام ڈیانا ہے، عمر 22 سال اور تعلق آذربئجان سے ہے، 13 تاریخ کو استنبول سے اسلام آباد آئی تھی، اسلام آباد سے فیصل آباد گئی جہاں 5 دن رہی، فیصل آباد سے لاہور آئی اور آگے اسکردو جانے کا پلان تھا، اکیلی ہونے کے باعث آگےسفر پر نہیں جاسکی۔غیر ملکی خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ نمرہ اور مسکان کو میسج کیا کہ ہم ملتے ہیں، اس دن رات 11 بجے اکیلے کیفے گئی جہاں مسکان سے ملاقات ہوئی، مسکان نےکہا آگے دوست نمرہ انتظار کر رہی ہے وہاں جانا ہے، مسکان کے ہمراہ نمرہ کے پاس چلی گئی، رات 2 بجے کھانا کھایا، کچھ دیر بعد ایک گاڑی میں دو لڑکے آئے، نمرہ نے انہیں بھی کھانے کی دعوت دی، ایک کا نام محسن اور دوسرے کا نام احمد تھا، وہاں سے ہم ایک اپارٹمنٹ میں گئے اور وہاں کھانا کھایا، اس وقت وہاں دو لڑکے اور آگئے، ایک کا نام علی عزیز اور دوسرے کا نام معلوم نہیں ہے۔مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار خاتون نے بتایا کہ نمرہ نے محسن سے 20،30 ہزار روپے لے کر مجھے دیے جسے میں نے لینے سے انکار کیا، اس کے بعد محسن مجھے الگ کمرےمیں لےگیا جہاں 3 لڑکے اور موجود تھے، میں نے نمرہ اور مسکان کا پوچھا تو انہوں نےکہا کہ وہ چلی گئی ہیں، میں نے کہا مجھے بھی جانے کی اجازت دو، انہوں نے کہا آپ نہیں جاسکتی، آپ کی دوست پیسے لے گئی ہیں، میں نے 30 ہزار روپے دینےکا کہا تو انہوں نے کہا وہ زیادہ پیسے لے گئی ہیں۔ڈیانا نے بتایا کہ علی عزیز نے کہا کہ تم ہمیں نہیں جانتی ہم کیا کر سکتے ہیں، علی عزیز نے بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی، علی عزیز نےکہا پولیس کو ون فائیو پر کال کرتا ہوں، میں نے کہا کال کرلو، میں ادھر ہی ہوں، پانچ منٹ تک پولیس نہ آئی تو میں نے کہا مجھے جانے دو، انہوں نےکہا ہم نے شراب منگوائی ہے، ہمارے ساتھ پی لو، میں نےکہا آگر شراب پی لوں تو جانے دوگے؟ انہوں نےکہا، ہاں پھر جانے دیں گے، شراب پینے کے بعد میں نے جانے کا کہا تو انہوں نے کہا ادھر ہی سو جاؤ، نشہ اترےگا تو چلی جانا۔جوڈیشل مجسٹریٹ کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں غیر ملکی خاتون نے کہا کہ اس کے بعد محسن، احمد اور علی عزیز تینوں نے میرے ساتھ زیادتی کی، بعد میں مجھے گاڑی میں ساتھ بٹھایا اور کہیں نکل پڑے، میرے پاس 2 لاکھ پاکستانی کرنسی اور آئی فون تھا، انہوں نے کہا چیزیں اسی صورت میں واپس ہونگی کہ تم پولیس کو شکایت نہیں کرو گی، پھر انہوں نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور مجھے دھکا دے کر اتارا گیا، اس وقت میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا، لوگوں کی مدد سے پولیس کو کال کی۔دوسری جانب غیرملکی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں سہولت کاری کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتارکر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق متاثرہ غیر ملکی لڑکی کے دونوں موبائل ابھی تک نہیں ملے ہیں، 2 ملزمان گرفتار ہیں اور تیسرے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے







