سپر اسٹار ماہرہ خان نے کہا ہےکہ انہیں زندگی کے اس حصے میں دوبارہ ماں بننے کی توقع نہیں تھی۔ماہرہ خان نے انسٹاگرام پر ایک روز قبل اعلان کیا کہ وہ جلد ایک مرتبہ پھر ماں بننے والی ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر اداکارہ کو مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔بعدازاں اداکارہ نے ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کے موقع پر دیے گئے انٹرویو میں اپنے امید سے ہونے کی خوشخبری اور تجربات کے بارے میں تفصیلی بات کی۔خاتون صحافی کو دیے گئے انٹرویو میں ماہرہ خان نے بتایا کہ مجھے زندگی کے اس حصے میں دوبارہ ماں بننے کی توقع نہیں تھی، اس وقت میری زندگی پہلے ہی ایک خاص سمت میں آگے بڑھ رہی تھی، میرا بیٹا بڑا ہو چکا ہے جب کہ میں اپنے کام، معمولات اور خودمختاری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں۔اداکارہ نے کہا کہ اس مرحلے پر میں نے اپنی زندگی کے ایک مخصوص انداز کا تصور کر رکھا تھا تاہم کئی برس بعد دوبارہ اس سفر کا آغاز میرے لیے ایک حقیقی جذباتی تبدیلی کا باعث بنا۔ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ انسان اپنی زندگی کے لیے بہت کچھ سوچتا اور منصوبہ بناتا ہے لیکن پھر اللّٰہ کی اپنی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور یقیناً اس کا منصوبہ سب سے برتر ہے۔
/
پہلی بار ماں بننے کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرہ خان نے بتایا کہ جب میں پہلی بار ماں بنی تھی تو میری عمر 24 سال تھی جب کہ اب میں 41 سال کی ہوں اور جذباتی و جسمانی طور پر ایک مختلف عورت ہوں، میں نے 24 سال کی عمر میں یہ تجربہ ایک خاص معصومیت کے ساتھ کیا تھا، صحت اچھی تھی اور میں ان تمام ممکنہ مشکلات کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتی تھی، اس بار یہ صورتحال جسمانی طور پر زیادہ مشکل ثابت ہوئی ہے، بعض دنوں میں جسم مجھے وہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا جو میرا ذہن کرنا چاہتا ہے جب کہ میں ہمیشہ مصروف رہنے، کام کرنے، سفر کرنے اور بیک وقت کئی کام کرنے کی عادی رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جذباتی طور پر بھی یہ تجربہ مختلف ہے کیونکہ اس عمر میں انسان کے اندر زیادہ شعور ہوتا ہے، وہ زیادہ جانتا ہے، زیادہ فکر مند ہوتا ہے اور زندگی کی نزاکت اور اہمیت کو زیادہ سمجھتا ہے۔
پہلی بار ماں بننے کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرہ خان نے بتایا کہ جب میں پہلی بار ماں بنی تھی تو میری عمر 24 سال تھی جب کہ اب میں 41 سال کی ہوں اور جذباتی و جسمانی طور پر ایک مختلف عورت ہوں، میں نے 24 سال کی عمر میں یہ تجربہ ایک خاص معصومیت کے ساتھ کیا تھا، صحت اچھی تھی اور میں ان تمام ممکنہ مشکلات کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتی تھی، اس بار یہ صورتحال جسمانی طور پر زیادہ مشکل ثابت ہوئی ہے، بعض دنوں میں جسم مجھے وہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا جو میرا ذہن کرنا چاہتا ہے جب کہ میں ہمیشہ مصروف رہنے، کام کرنے، سفر کرنے اور بیک وقت کئی کام کرنے کی عادی رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جذباتی طور پر بھی یہ تجربہ مختلف ہے کیونکہ اس عمر میں انسان کے اندر زیادہ شعور ہوتا ہے، وہ زیادہ جانتا ہے، زیادہ فکر مند ہوتا ہے اور زندگی کی نزاکت اور اہمیت کو زیادہ سمجھتا ہے۔










