کراچی کے علاقے گلشنِ حدید کے رہائشی نوجوان زین العابدین کے اغوا اور قتل کا افسوسناک انکشاف ہوا ہے۔ زین العابدین کو 14 اکتوبر کو اغوا کیا گیا تھا، جبکہ 15 اکتوبر کو تھانہ اسٹیل ٹان میں مقدمہ درج ہوا۔ ملزمان نے مغوی کا ہاتھ کاٹ کر اہلِ خانہ کو بھیجا اور رہائی کے بدلے پانچ لاکھ روپے تاوان طلب کیا، جو اہلِ خانہ نے ادا بھی کر دیا۔ اسٹیل ٹان پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا، جن کی نشاندہی پر تھانہ بن قاسم کی حدود میں اسٹیل مل گیٹ نمبر چار کے قریب جنگل سے بوری میں بند زین العابدین کی لاش برآمد کر لی گئی۔ والد کے مطابق نامعلوم افراد بیٹے کا موبائل فون، اے ٹی ایم کارڈ، گاڑی کے کاغذات اور چپل پھینک گئے تھے، والد سامان لیکر تھانے پہنچا، ایس ایچ اوکو صورتحال بتائی، این سی کٹوائی، اس رات کو اغوا کاروں کی بیٹے کے موبائل پر کال آئی اور تاوان کا مطالبہ کیا، اس کے بعد ملزمان نے میرے بیٹے کا کٹا ہوا ہاتھ بھیج دیا، والد کے مطابق ملزمان کو پانچ لاکھ روپے دے چکا ہوں، میرا بیٹا سعودی عرب میں درزی کا کام کرتا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا جن کی نشاندہی پر23 سالہ نوجوان زین العابدین کی لاش گلشنِ حدید کے قریب جھاڑیوں سے برآمد کر لی۔ پولیس حکام کے مطابق زین العابدین 14 اکتوبر کو گھر سے موٹر سائیکل پر نکلا تھا، جس کے بعد واپس نہیں آیا۔ اغوا کاروں نے اہلِ خانہ کو دھمکانے کیلئے نوجوان کا کٹا ہوا ہاتھ بھی بھیجا تھا، ہاتھ کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے بھیجے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق زیرِ حراست دونوں ملزمان نے تفتیش کے دوران نوجوان کو قتل کرنے کا بیان دیا ہے۔ زیرِ حراست افراد میں سے ایک مقتول کا قریبی رشتے دار ہے۔ پولیس کے مطابق معاملہ اغوا برائے تاوان کا نہیں، ملزمان اور مقتول رشتے دار ہیں جن کے درمیان لڑکی کے معاملے پر جھگڑا چل رہا تھا، واقعے کو اغوا برائے تاوان کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






