پشاور(ویب ڈیسک ) سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی تحریک انصاف کی پارلیمانی سیاست میں واپسی ہورہی ہے، علی امین گنڈا پور کو مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اکثریتی اراکین کی رائے سے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پارلیمانی پارٹی اعلامیے کے مطابق سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جبکہ جنید اکبر پارٹی کے صوبائی صدر ہیں۔ گزشتہ اجلاس میں دونوں عہدوں پر تبدیلی سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔اجلاس کے اعلامیے میں مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیان اور ٹوئٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے سلمان اکرم راجہ سے بیان واپس لینے اور معذرت کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔اعلامیے میں 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا گیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور دیگر پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریوں اور اغوا کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔پارلیمانی پارٹی نے عالمی برادری سے زیر حراست افراد اور مبینہ طور پر اغوا کیے گئے رہنماؤں کی بازیابی کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ عدالتوں سے اپیل کی کہ فوری قانونی کارروائی کے ذریعے ان کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔اعلامیے میں بانی چیئرمین ان کی اہلیہ اور دیگر گرفتار پارٹی رہنماؤں کی رہائی کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر احتجاجی لائحۂ عمل مرتب کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔قبائلی اور بعض بندوبستی اضلاع میں قائم کیے جانے والے نئے انتظامی ڈھانچے کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمانی پارٹی نے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں ایریا ریپریزنٹیٹو ڈویلپمنٹ کونسلز کے ذریعے غیر منتخب نمائندوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی مخالفت بھی کی گئی۔پارلیمانی پارٹی نے نئے انتظامی نظام کے خلاف دیگر سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو ساتھ ملا کر تحریک چلانے پر اتفاق کیا اور صوبے کے آئینی و جمہوری حقوق، منتخب قیادت کی بازیابی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے سیاسی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






