کراچی(ویب ڈیسک ) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں درج مقدمے میں ضبط شدہ قیمتی سامان تفتیشی افسر کے کمرے سے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس پر ایف آئی اے کراچی نے تفتیشی انسپکٹر شیخ سہیل محمود کو گرفتار کرلیا۔مقدمے کے مطابق 7 مئی 2026 کو مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران ضبط کیا گیا مال ایف آئی اے کی تحویل میں لیا گیا تھا، ضبط شدہ سامان میں چاندی، ڈائیز، لیجرز، رجسٹرز، مہریں، وزن کرنے والی مشین اور ایک لاکر شامل تھے۔مقدمے میں مجموعی طور پر 4 ہزار 584 تولے، یعنی تقریباً 53 کلوگرام چاندی، سونے اور دیگر متعلقہ اشیا کا ذکر کیا گیا ہے جن کی مالیت تقریباً 6 کروڑ 40 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔مقدمے کے مطابق ضبط شدہ قیمتی دھاتوں کی تحویل انسپکٹر شیخ سہیل محمود کے سپرد کی گئی تھی جو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں تعینات تھے۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ضبط شدہ سامان کو باقاعدہ مال خانے میں جمع کرانے کے بجائے ایک علیحدہ کمرے میں ذاتی تالے اور چابی کے تحت رکھا گیا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






