زندگی میں اختلاف کوئی انہونی بات نہیں۔ دو انسانوں کے درمیان نظریاتی، ذاتی یا مفاداتی اختلاف ہونا فطری امر ہے، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ اختلاف کیوں پیدا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس اختلاف سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ کبھی دو لوگ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی بات رد کرتے ہیں، ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرتے ہیں اور اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ہیں، جبکہ اسی دوران کوئی تیسرا شخص خاموشی سے صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔ وہ بظاہر لاتعلق دکھائی دیتا ہے، مگر اندر ہی اندر اس کشمکش کو اپنے لیے ایک موقع سمجھ رہا ہوتا ہے۔
یہیں سے ایک ایسی کہانی شروع ہوتی ہے جس میں لڑنے والے دو ہوتے ہیں، نقصان دونوں کا ہوتا ہے، مگر فائدہ کسی تیسرے کے حصے میں آتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے کرداروں کی کمی نہیں جو دوسروں کے اختلاف کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں اپنی عافیت تلاش کرتے ہیں۔ وہ بظاہر خیرخواہی کا لبادہ اوڑھتے ہیں، صلح اور مفاہمت کی باتیں کرتے ہیں، لیکن ان کے طرزِ عمل سے غلط فہمیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ایک فریق کے سامنے دوسرے کی بات اس انداز میں بیان کی جاتی ہے کہ بدگمانی جنم لے، پھر دوسرے فریق کے سامنے پہلے کی شکایت اس طرح دہرائی جاتی ہے کہ فاصلے مزید بڑھ جائیں۔ یوں باتوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں سچ کم اور مفاد زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
یہ لوگ ہمیشہ کھل کر مخالفت نہیں کرتے۔ ان کی مہارت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو تنازعے سے الگ بھی ظاہر کریں اور اس کے نتائج سے فائدہ بھی اٹھائیں۔ وہ آگ لگانے کے بعد پانی کا مشورہ دیتے ہیں، اختلاف کو ہوا دینے کے بعد اتحاد کی اہمیت سمجھاتے ہیں اور دونوں فریقوں کے سامنے اپنی مخلصانہ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا اصل ہنر کسی ایک طرف کھڑا ہونا نہیں، بلکہ دونوں طرف اپنی جگہ بنائے رکھنا ہوتا ہے۔
ایسے کرداروں کو پہچاننا اس لیے بھی مشکل ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ دشمن کی صورت میں سامنے نہیں آتے۔ کبھی وہ دوست ہوتے ہیں، کبھی خیرخواہ، کبھی مشیر اور کبھی ایسے ہمدرد جو ہر موقع پر آپ کے دکھ میں شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن ان کی ہمدردی کا معیار یہ نہیں کہ آپ کا مسئلہ حل ہو، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کا مسئلہ ان کے لیے کتنا مفید ہے۔ کیونکہ بعض لوگوں کے لیے دوسروں کے مسائل حل ہونا خوشی کی بات نہیں، بلکہ ان مسائل کا برقرار رہنا ان کے اپنے مفادات کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
یہ رویہ صرف ذاتی تعلقات تک محدود نہیں۔ خاندانی معاملات ہوں، کاروباری شراکتیں، سماجی ادارے، سیاسی حلقے یا ادبی محفلیں، ہر جگہ
ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو دوسروں کے باہمی اختلاف سے اپنی اہمیت بڑھاتے ہیں۔ جہاں دو افراد کے درمیان اعتماد موجود ہو، وہاں ان کی مداخلت کی گنجائش کم ہوتی ہے؛ لیکن جہاں بدگمانی پیدا ہو جائے، وہاں تیسرے شخص کے لیے راستے کھلنے لگتے ہیں۔ کسی کی جگہ حاصل کرنا ، کسی کا اثر و رسوخ کم کرنا ہو یا کسی کی کامیابی کے امکانات محدود کرنا ہوں، بعض لوگ براہِ راست مقابلے کے بجائے دوسروں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کو زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ اختلاف کرنے والے فریق اکثر اس تیسرے کردار کو دیکھ ہی نہیں پاتے۔ وہ اپنی انا، غصے اور شکایات میں اتنے الجھ جاتے ہیں کہ یہ سوچنے کی فرصت نہیں نکالتے کہ ان کی لڑائی سے آخر فائدہ کس کو ہو رہا ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں وہ اپنی ساکھ، تعلقات اور ذہنی سکون تک داؤ پر لگا دیتے ہیں، جبکہ کوئی دوسرا ان کے کمزور ہوتے ہوئے تعلقات کے درمیان اپنے لیے جگہ بناتا چلا جاتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر اختلاف کے پیچھے کسی تیسرے کی سازش نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی کے خوش دکھائی دینے سے اس کی بدنیتی ثابت ہو جاتی ہے۔ بعض اختلافات حقیقی ہوتے ہیں اور بعض اوقات فریقین خود اپنے رویوں سے حالات کو خراب کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص بار بار غلط فہمیوں کو ہوا دے، ایک کی بات دوسرے تک توڑ مروڑ کر پہنچائے، صلح کی ہر کوشش کو ناکام بنائے اور پھر اسی اختلاف کے نتیجے میں فائدہ اٹھاتا دکھائی دے تو اس کے کردار پر سوال اٹھانا غیر ضروری نہیں رہتا۔
سمجھ داری یہ نہیں کہ ہر شخص کو مشکوک سمجھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کسی کی بات پر یقین کرنے سے پہلے حقیقت کو پرکھا جائے۔ سنی سنائی باتوں کو فیصلوں کی بنیاد نہ بنایا جائے اور اپنے تعلقات کے بارے میں فیصلہ کسی تیسرے کی تشریح پر نہ چھوڑا جائے۔ اگر دو افراد کے درمیان اختلاف ہے تو انہیں چاہیے کہ ایک دوسرے سے براہِ راست بات کریں، وضاحت طلب کریں اور دوسروں کے الفاظ کو حتمی سچ ماننے کے بجائے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ بہت سے تعلقات کسی بڑی دشمنی سے نہیں، چھوٹی چھوٹی بدگمانیوں سے ختم ہوتے ہیں، اور ان بدگمانیوں سے فائدہ اٹھانے والے اکثر پس منظر میں رہتے ہیں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے: اختلاف کے دوران انسان کو اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ اگر ہماری ناراضی کسی دوسرے کے لیے موقع بن رہی ہے تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم اپنی انا کی تسکین کے لیے اپنا ہی نقصان تو نہیں کر رہے؟ ہر بحث جیتنا ضروری نہیں، ہر الزام کا جواب دینا لازم نہیں اور ہر اختلاف کو جنگ بنا دینا دانش مندی نہیں۔ بعض اوقات خاموشی، تحمل اور براہِ راست گفتگو وہ راستہ فراہم کرتے ہیں جو طویل لڑائی بھی نہیں دے سکتی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ دوسروں کے اختلاف میں خوش ہونے والا شخص ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا، لیکن اختلاف کرنے والے دونوں فریق اگر شعور سے کام نہ لیں تو اپنی شکست کے اسباب خود پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اختلاف کو اپنی بصیرت پر غالب نہ آنے دیں، کسی تیسرے کو اپنی سوچ اور فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دیں اور اپنے مسائل کو دوسروں کے مفادات کی نذر نہ کریں۔
یاد رکھیے، ہر مسکراتا چہرہ مخلص نہیں ہوتا اور ہر خاموش شخص غیر جانب دار نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی بھی مفاد کی زبان بولتی ہے، مگر اس کا
فیصلہ اندازوں سے نہیں، کردار اور عمل سے کیا جانا چاہیے۔
کیونکہ کبھی کبھی اصل کہانی ان دو لوگوں کی نہیں ہوتی جو ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوتے ہیں، بلکہ اس تیسرے کی ہوتی ہے جو ان کی لڑائی میں اپنے لیے راستہ ہموار کر رہا ہوتا ہے۔
اختلاف کرنے والوں کو شاید اپنی جیت کی فکر ہوتی ہے، مگر مفاد اٹھانے والے کو دونوں کی ہار سے غرض ہوتی ہے۔
آخرکار منظر کچھ یوں بنتا ہے: اختلاف کسی کا، نقصان کسی کا، اور جشن کسی اور کا!











