کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کا مسئلہ اب صرف لوڈشیڈنگ تک محدود نہیں رہا۔ ایک طرف گھنٹوں بجلی بند رہنے کی شکایات ہیں، دوسری طرف بجلی کے بھاری بل گھروں کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس شہر کے شہری بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں، انہیں بجلی کی مسلسل اور بلاتعطل فراہمی کے لیے بار بار احتجاج، شکایت اور وضاحتوں کے مرحلے سے کیوں گزرنا پڑتا ہے؟
کراچی میں بجلی کی صورتحال ایک عرصے سے شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ موسم گرم ہو یا نسبتاً بہتر، مختلف علاقوں سے لوڈشیڈنگ کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں شیڈول کے علاوہ بھی بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے گھریلو زندگی، کاروبار، تعلیم اور دفاتر کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔
یہاں اصل سوال صرف بجلی بند ہونے کا نہیں بلکہ جوابدہی کا ہے۔ اگر کسی علاقے میں بجلی بند کی جاتی ہے تو صارف کو واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ اس کی وجہ کیا ہے، بندش کتنی دیر رہے گی اور اس کا قانونی و مقررہ طریقہ کار کیا ہے۔ صارف کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بل، میٹر اور بجلی کی فراہمی سے متعلق معاملات پر واضح جواب حاصل کرسکے۔
حالیہ دنوں میں سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں بھی کراچی کی بجلی کی صورتحال زیر بحث آئی۔ کمیٹی ارکان نے کے الیکٹرک کے نمائندوں کی عدم تیاری اور کمپنی کے اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی کی جانب سے ایسے افسران بھیجے گئے جو ارکان کے سوالات کے حتمی جوابات دینے یا فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔
یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر ایک منتخب ایوان کی کمیٹی بھی کسی ادارے سے جواب طلب کرے اور متعلقہ بااختیار افسر اجلاس میں موجود نہ ہو تو عام صارف اپنی شکایت کہاں لے کر جائے؟
سندھ اسمبلی کی کمیٹی کی جانب سے کے الیکٹرک کے سی ای او کے خلاف کارروائی اور وارنٹ گرفتاری کے مطالبے نے بھی معاملے کی سنگینی کو نمایاں کیا۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس کے الیکٹرک کے مرکزی دفتر کے باہر منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ یہ سب محض سیاسی یا انتظامی اختلاف کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے شہریوں کے بنیادی مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
کراچی کے بجلی بحران کا ایک اور پہلو شہر کی مختلف مارکیٹوں اور فوڈ اسٹریٹس میں بجلی کے استعمال سے متعلق شکایات ہیں۔ برنس روڈ، صدر، پی ای سی ایچ اور دیگر تجارتی علاقوں کے حوالے سے وقتاً فوقتاً یہ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ بعض مقامات پر غیر قانونی کنکشن یا بجلی کے غیر رسمی انتظامات موجود ہیں اور مبینہ طور پر ان کے عوض ماہانہ رقم وصول کی جاتی ہے۔
یہ الزامات اگر درست ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر غلط ہیں تو متعلقہ ادارے کو واضح طور پر ان کی تردید کرنی چاہیے۔ معاملہ الزام اور تردید کے درمیان معلق نہیں رہنا چاہیے۔ بجلی چوری ایک جرم ہے تو اس کے خلاف کارروائی بھی بلاامتیاز ہونی چاہیے، لیکن اس کارروائی کا بوجھ صرف ان صارفین پر نہیں ڈالا جاسکتا جو اپنے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی کا ذکر آتے ہی عام صارف سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ایک جانب بجلی چوری روکنے کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے، دوسری جانب یہ بھی ضروری ہے کہ صارف کو اس کے استعمال کے مطابق درست بل ملے۔ میٹر ریڈنگ شفاف ہو، بل میں اضافی یا غیر واضح چارجز کی مناسب وضاحت ہو اور شکایت کے ازالے کا مؤثر نظام موجود ہو۔
شہریوں کی بڑی تعداد کا مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کے بل میں اضافہ صرف بجلی کے استعمال سے نہیں ہوتا بلکہ مختلف ٹیکسز، سرچارجز اور دیگر مدات بھی بل کا حصہ بنتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک متوسط یا کم آمدنی والا گھرانہ ماہانہ بجٹ بناتے ہوئے سب سے پہلے بجلی کے بل کی فکر کرتا ہے۔
ایک طرف مہنگائی، دوسری طرف بجلی کے بل اور تیسری طرف لوڈشیڈنگ—یہ صورتحال کسی بھی شہری کے لیے آسان نہیں۔ جو صارف بھاری بل ادا کر رہا ہو، وہ یہ سوال ضرور کرے گا کہ اسے اس کے بدلے کیا مل رہا ہے؟ اور اگر کسی علاقے میں بجلی چوری ہو رہی ہے تو اس کا نقصان آخرکار کس کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے؟
یہاں حکومت، نیپرا اور کے الیکٹرک تینوں کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔ کے الیکٹرک بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ہے، لیکن بجلی کی قیمت، صارفین کے حقوق، شکایات اور ریگولیٹری معاملات میں متعلقہ حکومتی اور ریگولیٹری اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ اس لیے کراچی کے بجلی بحران کا حل صرف ایک ادارے کو مورد الزام ٹھہرانے سے نہیں نکلے گا بلکہ پورے نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔
سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ شہر کے کن علاقوں میں مقررہ شیڈول سے ہٹ کر بجلی بند کی جارہی ہے، اس کی وجہ کیا ہے اور اس کی
نگرانی کون کررہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں بجلی کے بلوں سے متعلق شکایات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔ تیسرے مرحلے میں بجلی چوری اور غیر قانونی کنکشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ اگر کسی ادارے کے اہلکار یا کوئی بااثر شخص اس عمل میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بھی وہی قانون لاگو ہونا چاہیے جو ایک عام شہری پر ہوتا ہے۔
کراچی کے شہریوں کو خیرات نہیں، اپنے حق کی بجلی اور شفاف نظام چاہیے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ اگر وہ بل ادا کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی امتیاز کے بغیر قانون کے مطابق سلوک ہوگا۔ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے علاقے میں بجلی کیوں بند ہوئی، بل میں اضافی رقم کیوں شامل ہوئی اور شکایت کا فیصلہ کب تک ہوگا۔
کے الیکٹرک بھی ایک تجارتی ادارہ ہے اور اس کے لیے مالی معاملات اہم ہوسکتے ہیں، لیکن بجلی جیسی بنیادی سہولت صرف کاروباری حساب کتاب کا معاملہ نہیں۔ اس کے ساتھ لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی جڑی ہوئی ہے۔ ایک طالب علم کی پڑھائی، ایک دکاندار کا کاروبار، ایک مزدور کی آمدنی، ایک مریض کی صحت اور ایک گھر کا معمول، سب بجلی کی دستیابی سے متاثر ہوتے ہیں۔
کراچی پہلے ہی ٹریفک، پانی، صفائی، مہنگائی اور دیگر شہری مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں بجلی کا بحران شہری زندگی پر مزید دباؤ ڈالتا ہے۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے مسئلے کو سیاسی بیان بازی سے نکال کر اعداد و شمار، شفاف تحقیقات اور عملی اقدامات کی بنیاد پر حل کیا جائے۔
سندھ اسمبلی کی کمیٹی نے اگر کے الیکٹرک سے جواب طلب کیا ہے تو اس جواب طلبی کو نتیجے تک پہنچنا چاہیے۔ محض اجلاس، سخت الفاظ اور احتجاج کافی نہیں۔ شہری جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی شکایات کا کیا بنا، لوڈشیڈنگ میں کیا کمی آئی، بجلی چوری کے خلاف کیا کارروائی ہوئی اور صارفین کے بلوں سے متعلق شکایات کا کیا حل نکالا گیا۔
کراچی کے شہری برسوں سے ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: اگر بجلی کا بل وقت پر ادا کرنا صارف کی ذمہ داری ہے تو بجلی کی فراہمی اور درست بلنگ کی ذمہ داری کس کی ہے؟
دنیا کی سیاسی تاریخ میں سڑک صرف سفر کا راستہ نہیں رہی، کئی مواقع پر یہی سڑک عوامی طاقت، احتجاج اور سیاسی مطالبات کے اظہار کا سب سے بڑا میدان بھی بنی۔ کبھی ہزاروں لوگ کسی قانون کے خلاف سڑکوں پر نکلے، کبھی کسی حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے دارالحکومت کا رخ کیا اور...
جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کی گونج سرحدوں سے نکل کر بازاروں، بندرگاہوں، تیل کے کنوں، فیکٹریوں، دکانوں اور عام آدمی کے گھر تک پہنچتی ہے۔ ایک میز پر بیٹھے چند طاقتور ملک جب جنگ کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات ان لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں جنہوں...
دنیا اس وقت متعدد جنگوں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی زد میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، روس اور یوکرین جنگ اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد اب تائیوان کا معاملہ عالمی سیاست میں ایک اہم اور حساس مسئلے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ چین اور تائیوان کے...
مودی حکومت کی ہٹ دھرمی نے بھارتی جمہوریت کو کہاں لا کھڑا کیا؟ جمہوریت کی خوبصورتی اختلافِ رائے میں ہوتی ہے، لیکن جب اختلاف کو جرم اور احتجاج کو بغاوت سمجھ لیا جائے تو پھر جمہوریت صرف آئین کے صفحات تک محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے...