ہمارے ہاں کھیلوں کی کمی نہیں۔ بچپن میں گلی ڈنڈا، پٹھو گرم، آنکھ مچولی اور لٹو کھیلا جاتا تھا، جوانی میں سیاست کا کھیل شروع ہوجاتا ہے، اور عمر بڑھ جائے تو سب سے مقبول کھیل صوبہ صوبہ بن جاتا ہے۔ اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ گیند چاہیے، نہ بیٹ، نہ میدان اور نہ ہی امپائر۔ صرف ایک نقشہ، چند مائیک، کچھ نعرے اور بہت سا جوش چاہیے۔
ایک صاحب نے ایک دن صبح اٹھ کر اعلان کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صوبہ بننا چاہیے۔ دوسرے صاحب نے پوچھا، کون سا؟
فرمایا، وہی جس کا ابھی نام طے نہیں ہوا۔
پوچھا گیا، حدود؟
جواب آیا، وہ بھی عوام کی خواہش کے مطابق بعد میں طے ہوں گی۔
دارالحکومت؟
اس پر بھی اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔
اسمبلی؟
وہ تو بن ہی جائے گی۔
سیکریٹریٹ؟
وہ بھی آ جائے گا۔
اور بجٹ؟
اس سوال پر صاحب نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا، دیکھیں جی، اتنی جلدی بھی کیا ہے؟ پہلے صوبہ تو بننے دیں!
یہی ہمارے صوبہ صوبہ کھیل کی بنیادی خوبی ہے۔ پہلے صوبہ بن جاتا ہے، باقی چیزیں بعد میں دیکھی جاتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے ہاں بعض اوقات شادی پہلے ہوجاتی ہے اور یہ بعد میں معلوم کیا جاتا ہے کہ کھانا کس نے دینا تھا۔
صوبہ بنانے کے کھیل میں سب سے دلچسپ مرحلہ نام رکھنے کا ہوتا ہے۔ نام ایسا ہونا چاہیے کہ سنتے ہی تاریخ، جغرافیہ، تہذیب، ثقافت، جذبات اور مستقبل سب ایک ساتھ یاد آجائیں۔ ایک نام تجویز ہوتا ہے تو دوسرا گروپ کہتا ہے، یہ نام ہماری شناخت نہیں۔ تیسرا گروپ کہتا ہے، ہمیں بھی شامل کیا جائے۔ چوتھا کہتا ہے، ہم سے پوچھا ہی نہیں گیا۔ پانچواں کہتا ہے، ہم تو شروع سے یہی کہہ رہے تھے۔
یوں ایک صوبہ بننے سے پہلے ہی پانچ کمیٹیاں، سات ذیلی کمیٹیاں اور گیارہ مشاورتی اجلاس وجود میں آ جاتے ہیں۔
پھر نقشہ نکالا جاتا ہے۔
نقشے کے گرد اتنے لوگ جمع ہوتے ہیں جیسے کوئی جادوگر ٹوپی سے خرگوش نکالنے والا ہو۔ ایک صاحب انگلی رکھ کر کہتے ہیں، یہ علاقہ ادھر جائے گا۔ دوسرے فورا انگلی رکھ کر کہتے ہیں، نہیں، یہ ہمارے ساتھ رہے گا۔ تیسرے صاحب کہتے ہیں، یہاں کے لوگ خود فیصلہ کریں گے۔ چوتھے کہتے ہیں، لوگوں سے پہلے ہم سے پوچھا جائے۔
آخر میں نقشہ اتنا گھوم چکا ہوتا ہے کہ جغرافیہ کے استاد کو بھی اپنے اسکول کی حاضری رجسٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔
صوبہ صوبہ کھیل کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ ہر کھلاڑی کے پاس اپنی اپنی دلیل ہونی چاہیے۔ کسی کے پاس انتظامی دلیل ہے، کسی کے پاس تاریخی دلیل، کسی کے پاس لسانی دلیل، کسی کے پاس معاشی دلیل اور کسی کے پاس صرف ایک دلیل ہے:
بس اب بہت ہوگیا!
یہ آخری دلیل سب سے طاقتور سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس کے بعد مزید سوال کرنے والا عموما خود کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔
پھر سوشل میڈیا میدان میں اترتا ہے۔ ایک پوسٹ آتی ہے: نیا صوبہ بننے والا ہے۔
دوسری پوسٹ: نہیں بننے والا۔
تیسری: بن چکا ہے، صرف اعلان باقی ہے۔
چوتھی: اعلان بھی ہوگیا، مگر آپ کو خبر نہیں۔
پانچویں پوسٹ میں نقشہ آجاتا ہے۔
چھٹی پوسٹ میں اسی نقشے پر نیا نقشہ بنا ہوتا ہے۔
ساتویں پوسٹ میں دونوں نقشوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔
اور آٹھویں پوسٹ میں کوئی صاحب لکھ دیتے ہیں:
بھائی پہلے سڑک تو بنوا دو!
لیکن یہ بات کوئی سننے کو تیار نہیں ہوتا، کیونکہ سڑک کا مسئلہ بہت پرانا ہے جبکہ صوبہ بنانے کا نعرہ نیا اور تازہ ہے۔
صوبہ صوبہ کھیل کا سب سے خوبصورت حصہ اس وقت آتا ہے جب نئے عہدوں کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔ ایک صاحب اچانک خود کو مستقبل کا وزیر اعلی سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسرے کو وزارت یاد آتی ہے۔ تیسرے کو گورنر ہاوس دکھائی دینے لگتا ہے۔ چوتھے کو سیکریٹریٹ کی کرسی۔ پانچویں کو سرکاری گاڑی۔
اور ایک عام آدمی دور کھڑا سوچتا رہتا ہے کہ بھائی میرے لیے کیا ہے؟
اسے جواب ملتا ہے:
آپ کے لیے ترقی ہے۔
وہ پوچھتا ہے، کب؟
جواب آتا ہے:
صوبہ بننے کے بعد۔
وہ پوچھتا ہے، صوبہ کب بنے گا؟
جواب آتا ہے:
اس کے لیے پہلے کمیٹی بنے گی۔
عام آدمی خاموش ہوجاتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کمیٹی بن گئی تو اب واقعی معاملہ سنجیدہ ہے۔
ہمارے ہاں کمیٹی کسی بھی معاملے کی وہ منزل ہے جہاں مسئلہ باقاعدہ عزت کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ پہلے مسئلہ ہوتا ہے، پھر مطالبہ بنتا ہے، پھر اعلان ہوتا ہے، پھر کمیٹی بنتی ہے، پھر ذیلی کمیٹی بنتی ہے، پھر رپورٹ آتی ہے، پھر رپورٹ پر غور ہوتا ہے، پھر مزید غور کے لیے اجلاس ہوتا ہے اور آخر میں مسئلہ اتنا پرانا ہوجاتا ہے کہ نئی نسل اسے تاریخی ورثہ سمجھنے لگتی ہے۔
صوبہ صوبہ کھیل میں سب سے زیادہ مزہ انتخابات کے قریب آتا ہے۔ اچانک صوبہ ہر تقریر میں نظر آنے لگتا ہے۔ جلسے میں صوبہ، منشور میں صوبہ، پوسٹر پر صوبہ، سوشل میڈیا پر صوبہ اور کبھی کبھی تو چائے کے کپ پر بھی صوبہ۔
ایک امیدوار کہتا ہے، صوبہ عوام کا حق ہے۔
دوسرا کہتا ہے، عوام کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔
تیسرا کہتا ہے، ہم عوام کی مرضی جانتے ہیں۔
چوتھا کہتا ہے، ہم نے عوام سے پوچھ لیا ہے۔
عوام حیران ہوکر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، ہم سے کب پوچھا؟
جواب آتا ہے، آپ کو شاید یاد نہیں۔
صوبہ صوبہ کھیل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس میں ہر شخص ماہر جغرافیہ بن جاتا ہے۔ کل تک جسے اپنے محلے کی گلی کا نام معلوم نہیں تھا، آج وہ ضلعوں، ڈویژنوں، اضلاع کی حدود اور انتظامی نقشوں پر لیکچر دے رہا ہوتا ہے۔
کسی کو معلوم نہیں کہ اس کے گھر کی پانی کی لائن کہاں سے آتی ہے، لیکن اسے بخوبی معلوم ہے کہ نئے صوبے کی ممکنہ سرحد کہاں سے گزرے گی۔
کسی کو اپنے بجلی کے بل کی تفصیل سمجھ نہیں آتی، مگر وہ نئے صوبے کے مالیاتی اختیارات پر ایسی گفتگو کرتا ہے جیسے ابھی ابھی وزارت خزانہ سے واپس آیا ہو۔
یہی تو اس کھیل کی خوبصورتی ہے۔ یہاں ہر شخص کھلاڑی بھی ہے، مبصر بھی، تجزیہ کار بھی اور کبھی کبھی ریفری بھی۔
آخر میں کوئی پوچھتا ہے، تو فیصلہ کیا ہوا؟
سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے، بات چل رہی ہے۔
دوسرا کہتا ہے، مشاورت جاری ہے۔
تیسرا کہتا ہے، عوام کی رائے لی جائے گی۔
چوتھا کہتا ہے، وقت آنے پر سب واضح ہوجائے گا۔
اور پانچواں موبائل نکال کر نئی پوسٹ ڈال دیتا ہے:
بریکنگ نیوز: صوبہ صوبہ کھیل کا نیا راونڈ شروع!
پھر سب دوبارہ کھیلنے لگتے ہیں۔
کیونکہ ہمارے ہاں کچھ کھیل ایسے ہیں جن کا اختتام ضروری نہیں ہوتا۔ بس وقفہ آتا ہے، کھلاڑی بدلتے ہیں، نعرے نئے ہوتے ہیں، نقشے نئے بنتے ہیں اور پرانی چائے دوبارہ گرم کرکے پیش کردی جاتی ہے۔
جی، آخری حصہ ذرا مبہم ہوگیا تھا۔ طنز کا رنگ برقرار رکھتے ہوئے اختتام زیادہ واضح اور چبھتا ہوا یوں بہتر رہے گا:
سو صاحبو، آ صوبہ صوبہ کھیلیں۔
نقشہ آپ کا، پنسل آپ کی، نعرہ آپ کا، دلیل آپ کی۔ کبھی ضلع ادھر، کبھی تحصیل ادھر، کبھی دارالحکومت اِدھر، کبھی ادھر۔ نام بھی رکھ لیں، نقشے بھی بنا لیں، تقریریں بھی کرلیں اور سوشل میڈیا پر نئے صوبے کے جھنڈے بھی لگا لیں۔
مگر کھیل کا مزہ تب ہی ہے جب اسے کھیل ہی سمجھا جائے، کیونکہ نقشے پر ایک لکیر کھینچنا بہت آسان ہے، اصل زندگی میں اس لکیر کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی دنیا بدلنا اتنا آسان نہیں۔
لہذا کھیل جاری رکھیے، بحث بھی کیجیے، نعرے بھی لگائیے، نئے نقشے بھی بنائیے، مگر کبھی کبھار نقشے سے نظریں اٹھا کر اس آدمی کو بھی دیکھ لیجیے جو اسی نقشے کے کسی کونے میں بیٹھا بجلی کا بل، آٹے کا تھیلا اور بچوں کی فیس کا حساب لگا رہا ہے۔
آخرکار صوبہ نقشے پر بنتا ہے، مگر اس میں رہتے انسان ہیں۔
اور ہاں… اگلا راونڈ شروع ہونے والا ہے، اپنا نقشہ سنبھال لیجیے!
دنیا نے ایٹم بم کی ہولناک تباہی دیکھی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی آج بھی اس طاقت کی یاد دلاتے ہیں جو چند لمحوں میں ایک شہر کو ملبے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لیکن اب انسان ایک ایسی نئی طاقت تخلیق کر رہا ہے جو بم کی شکل میں نہیں بلکہ کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور...
ریلیف کا لفظ سنتے ہی مہنگائی کے مارے عوام کے چہروں پر امید کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ حکومت کسی چیز میں ریلیف دینے کا اعلان کرے تو عام آدمی سوچتا ہے کہ شاید کچھ دن کے لیے ہی سہی، گھر کا بجٹ کچھ آسان ہوجائے گا۔ لیکن ہمارے ہاں ریلیف کی...
پاکستان میں جب بھی ترقی، انتظامی اصلاحات یا وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات ہوتی ہے تو نئے صوبوں کے قیام کا موضوع ضرور زیر بحث آ جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اگر ملک میں مزید صوبے بن جائیں تو عوام کے مسائل ان کی دہلیز تک حل ہوں گے، جبکہ کچھ لوگوں کا...
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں ایک ایسا جملہ کہا جس نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ کراچی کے شہریوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کشمیری، کشمیر کو کراچی نہیں بننے دیں گے، وہ کشمیر کو لاہور جیسا دیکھنا...