ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور عالمی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، محض ایک ایرانی سفارت کار کا بیان نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظام کے بارے میں اٹھنے والے ایک بڑے سوال کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ آج دنیا کے مختلف خطوں میں جنگیں، سیاسی تنازعات، انسانی بحران اور طاقت کے استعمال کے واقعات جاری ہیں، مگر عالمی برادری بار بار یہ سوال اٹھاتی دکھائی دیتی ہے کہ ان حالات میں اقوام متحدہ کا عملی کردار آخر کتنا موثر ہے؟
عراقچی نے نیویارک پہنچنے کے بعد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔ ان کے مطابق عالمی ادارہ عالمی امن اور سلامتی کے تحفظ میں مثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث اس پر اعتماد کم ہوا ہے۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے اس سال کے موضوع اعتماد کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع خود اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا میں عالمی اداروں پر اعتماد کا بحران موجود ہے۔
یہاں اصل سوال ایران کے موقف سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ دنیا میں امن، سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا تو پھر جب بڑے ممالک کے درمیان جنگ یا کشیدگی پیدا ہوتی ہے، اس کا کردار اتنا محدود کیوں دکھائی دیتا ہے؟ کیا عالمی ادارہ صرف بیانات، قراردادوں اور سفارتی اپیلوں تک محدود ہوچکا ہے، یا اس کے پاس واقعی ایسے موثر ذرائع موجود ہیں جن سے جنگوں کو روکا اور تنازعات کو مذاکرات کی میز پر لایا جاسکے؟
اقوام متحدہ کا قیام دوسری جنگ عظیم کے تباہ کن تجربے کے بعد اس امید کے ساتھ ہوا تھا کہ دنیا مستقبل میں بڑے پیمانے کی جنگوں سے بچ سکے گی۔ ادارے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنا، ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا اور عالمی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کو ممکن بنانا تھا۔ کئی دہائیوں تک اقوام متحدہ نے انسانی امداد، صحت، تعلیم، پناہ گزینوں، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے شعبوں میں اہم کام بھی کیا۔ لیکن جنگ اور طاقت کے بڑے تنازعات میں اس کی عملی صلاحیت ہمیشہ زیر بحث رہی ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سلامتی کونسل کا نظام ہے۔ پانچ مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جس کے باعث کسی بھی بڑے عالمی مسئلے پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں فیصلہ سازی رک سکتی ہے۔ جب عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوں تو اقوام متحدہ کے لیے متفقہ اور موثر کارروائی کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقوام متحدہ کے کردار پر سوالیہ نشان زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ ایک طرف عالمی ادارہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور امن کی بات کرتا ہے، دوسری طرف ایسے تنازعات بھی سامنے آتے ہیں جن میں سلامتی کونسل کسی موثر مشترکہ اقدام پر نہیں پہنچ پاتا جس کے نتیجے میں متاثرہ ممالک اور عوام کے درمیان یہ احساس پیدا ہوسکتا ہے کہ عالمی قوانین موجود تو ہیں، لیکن ان کا اطلاق ہر جگہ یکساں انداز میں نہیں ہوتا۔
عراقچی نے بھی اسی نکتے کو اٹھایا۔ ان کا الزام ہے کہ بعض ممالک خود کو بین الاقوامی قوانین اور اداروں سے بالاتر سمجھتے ہیں جبکہ ان کے اتحادیوں کو بھی کارروائیوں سے استثنی حاصل رہتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مغربی اور یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی حمایت کا دعوی کرنے والے ممالک موجودہ حالات پر خاموش ہیں۔
یہ الزامات ایران کے سیاسی موقف کا حصہ ہیں، تاہم ان کے ذریعے ایک ایسا سوال ضرور سامنے آتا ہے جس پر عالمی سطح پر مسلسل بحث ہورہی ہے: کیا بین الاقوامی قانون طاقتور اور کمزور ممالک کے لیے یکساں ہے؟
اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ مختلف ممالک اپنے اپنے قومی مفادات، سلامتی اور قانونی تشریحات کے مطابق عالمی واقعات کو دیکھتے ہیں۔ ایک فریق جس کارروائی کو دفاع قرار دیتا ہے، دوسرا اسے جارحیت سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح ایک ملک جس قرارداد کو قانونی اور ضروری قرار دیتا ہے، دوسرا اسے سیاسی دباو تصور کرسکتا ہے۔ اس پیچیدگی کے باعث اقوام متحدہ کا کردار بھی کئی مرتبہ سیاسی اختلافات کے درمیان محدود ہوجاتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ صرف سلامتی کونسل کا نام نہیں۔ جنرل اسمبلی دنیا کے تقریبا تمام ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں چھوٹے اور بڑے ممالک اپنے موقف پیش کرسکتے ہیں۔ انسانی امداد، پناہ گزینوں، عالمی صحت، خوراک، بچوں کے حقوق، تعلیم اور ترقی کے شعبوں میں اقوام متحدہ کے ادارے روزانہ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔
اسی لیے اقوام متحدہ کو مکمل طور پر ناکام ادارہ قرار دینا بھی معاملے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اصل مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے۔ عالمی ادارہ بہت سے شعبوں میں موثر کردار ادا کرتا ہے، لیکن جب معاملہ بڑی طاقتوں کے براہ راست مفادات، جنگ یا سلامتی کے انتہائی حساس معاملات تک پہنچتا ہے تو اس کی فیصلہ سازی محدود ہوسکتی ہے۔
ایران کا موجودہ موقف بھی اسی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ تہران اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہا ہے، لیکن ساتھ ہی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو اپنے موقف کے اظہار کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران جنرل اسمبلی کو اپنے عوام کے حقوق، مفادات اور اپنے موقف کو عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ پر تنقید کے باوجود اس کا پلیٹ فارم آج بھی سفارتی اعتبار سے اہم ہے۔ کسی ملک کے لیے نیویارک میں دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا، دوسرے ممالک سے ملاقاتیں کرنا اور ممکنہ سفارتی راستے تلاش کرنا ایک اہم موقع ہوتا ہے۔
موجودہ ایران امریکا کشیدگی نے اس اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات شدید ہیں، لیکن سفارتی رابطوں کی بات اب بھی کی جارہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جبکہ جنرل اسمبلی کا اجلاس دونوں ممالک کے اعلی حکام کو ایک ہی عالمی سفارتی مرکز میں موجود ہونے کا موقع فراہم کررہا ہے۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ جنگ کے باوجود سفارت کاری کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ جنگ کے دوران سفارت کاری کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر اقوام متحدہ جنگ روکنے میں فوری کامیابی حاصل نہ کرسکے تو بھی اسے ایسے رابطوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہیے جو بالآخر مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی طرف لے جاسکیں۔
یہاں پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کا کردار بھی اہم ہوسکتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا براہ راست اثر صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خطہ اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں علاقائی ممالک کی متوازن سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی طاقت اس کے اپنے وجود سے زیادہ اس کے رکن ممالک کے تعاون سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں کسی مسئلے پر متفق نہ ہوں تو عالمی ادارے کے لیے مثر کارروائی مشکل ہوجاتی ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ سوال بھی کرنا ہوگا کہ عالمی طاقتیں خود اس ادارے کو کتنا اختیار دینے کے لیے تیار ہیں؟
آج اقوام متحدہ ایک دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف دنیا کو پہلے سے زیادہ عالمی تعاون، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کی ضرورت ہے، دوسری طرف طاقتور ممالک کے باہمی اختلافات عالمی اداروں کی فیصلہ سازی کو مشکل بنا رہے ہیں۔ یہی تضاد اقوام متحدہ کی ساکھ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
عراقچی کا بیان اسی وسیع تر بحران کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اگر عالمی ادارہ واقعی اعتماد بحال کرنا چاہتا ہے تو اسے صرف اعتماد کی بحالی کا عنوان کافی نہیں ہوگا۔ دنیا کو عملی اقدامات، قانون کے یکساں اطلاق، تنازعات کے پرامن حل اور جنگ زدہ علاقوں میں موثر سفارتی کردار کے ذریعے یہ یقین دلانا ہوگا کہ اقوام متحدہ محض تقریروں اور قراردادوں کا ادارہ نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک فعال پلیٹ فارم ہے۔
آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ اقوام متحدہ نے کیا کیا یا کیا نہیں کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اسے مستقبل میں کیا کردار دینا چاہتی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اسے مضبوط، مثر اور نسبتا غیر جانب دار عالمی فورم کے طور پر استعمال کرنے پر آمادہ ہوں تو اس کی افادیت بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر بڑی طاقتوں کی کشمکش مسلسل عالمی اداروں کو مفلوج کرتی رہی تو اقوام متحدہ کی ساکھ پر سوالات بھی برقرار رہیں گے۔
عباس عراقچی کے الفاظ نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ عالمی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے: کہ کیا اقوام متحدہ اب بھی دنیا کے امن کی موثر ضمانت بن سکتا ہے، یا عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن نے اس کے کردار کو محدود کردیا ہے؟اس سوال کا جواب آنے والے بحرانوں میں اقوام متحدہ کے عملی کردار سے ہی سامنے آئے گا۔
مکہ مکرمہ صرف سعودی عرب کا ایک شہر نہیں، یہ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والا مسلمان جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے۔ حج اور عمرہ کے لیے مکہ پہنچنے والا ہر شخص اپنے ساتھ...
سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب کردیا ہے۔ چند سیکنڈ میں ایک خبر، تصویر، ویڈیو یا تبصرہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ جدید دور کی ایک بڑی سہولت بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ معلومات تک فوری رسائی نے جہاں لوگوں کو باخبر...
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی...
پاکستان کی سیاست میں ایک اصطلاح ایسی ہے جو گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی مقبول ہوئی ہے، اور وہ ہے “ڈیڈ لائن”۔ حکومتوں کے قیام کے فورا بعد ان کے خاتمے کی تاریخیں دینا، چند ماہ کے اندر بڑی سیاسی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کرنا، اور پھر ان تاریخوں کے گزر جانے کے بعد...