سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب کردیا ہے۔ چند سیکنڈ میں ایک خبر، تصویر، ویڈیو یا تبصرہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ جدید دور کی ایک بڑی سہولت بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ معلومات تک فوری رسائی نے جہاں لوگوں کو باخبر رہنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں جھوٹی خبروں، گمراہ کن معلومات، جعلی مواد اور منظم پروپیگنڈے نے حقیقت اور افواہ کے درمیان فرق کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوان نسل کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ سے ملاقات کے دوران اسی اہم پہلو کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے خلاف نوجوانوں کا مثبت اور بامعنی کردار ضروری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی و عالمی صورت حال اور پاکستان کے سکیورٹی منظرنامے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ فیلڈ مارشل نے نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنرمندی، کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور حقائق پر مبنی تجزیے کو بروئے کار لانے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بات محض ایک سیاسی یا سکیورٹی مسئلے تک محدود نہیں۔ آج کی دنیا میں اطلاعات خود ایک طاقت بن چکی ہیں۔ جس کے پاس معلومات کو سمجھنے، جانچنے اور درست انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہے، وہ رائے عامہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اسی لیے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ہر بات کو سچ سمجھ لینا خطرناک ہوسکتا ہے۔
نوجوان پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں اور سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ فعال صارفین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ فیس بک، ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے نہ صرف معلومات حاصل کرتے ہیں بلکہ خود بھی بڑی تعداد میں مواد تخلیق اور شیئر کرتے ہیں۔ اس لیے نوجوان اگر ذمہ داری کے ساتھ سوشل میڈیا استعمال کریں تو وہ غلط معلومات کے پھیلاو کو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
آج ایک جعلی تصویر یا پرانی ویڈیو کو نئے واقعے سے جوڑ کر چند منٹوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات کسی بیان کا ایک حصہ کاٹ کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس کا اصل مفہوم ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔ کہیں پرانی خبر کو نئی خبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور کہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد کو حقیقی واقعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ عام صارف کے لیے ان سب میں فرق کرنا آسان نہیں، لیکن ایک تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان اس فرق کو سمجھ سکتا ہے۔
اسی لیے حقائق پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ خبر کا ذریعہ کیا ہے، اسے کس ادارے یا شخص نے جاری کیا ہے، کیا دوسرے معتبر ذرائع بھی اسی خبر کی تصدیق کررہے ہیں اور کیا خبر کا پس منظر معلوم ہے۔ صرف اس وجہ سے کوئی بات درست نہیں ہوجاتی کہ اسے ہزاروں افراد نے شیئر کردیا ہے۔
سوشل میڈیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ صارفین اکثر وہی مواد دیکھتے ہیں جس سے ان کی اپنی رائے ملتی ہو۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوسکتا ہے جہاں انسان مخالف رائے سننے یا مختلف نقط نظر کو سمجھنے کے بجائے صرف اپنی سوچ کی تصدیق کرنے والی معلومات دیکھتا رہتا ہے۔ یہ صورتحال معاشرے میں تقسیم اور عدم برداشت کو بڑھا سکتی ہے۔
نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو صرف تفریح کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے علم، تعلیم، کاروبار اور مثبت سماجی کردار کے لیے بھی استعمال کریں۔ دنیا بھر میں نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے کاروبار شروع کررہے ہیں، اپنی مہارتیں فروخت کررہے ہیں، آن لائن تعلیم حاصل کررہے ہیں اور عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان بھی اسی صلاحیت کو بروئے کار لاکر اپنی اور ملک کی معاشی صورتحال بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ سے گفتگو میں تعلیم، ہنرمندی اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر بھی زور دیا۔ یہ پہلو موجودہ دور میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ آج دنیا میں مقابلہ صرف روایتی تعلیم کی بنیاد پر نہیں بلکہ عملی مہارت، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت کی بنیاد پر بھی ہورہا ہے۔
پاکستان کے نوجوانوں کے سامنے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت، فری لانسنگ، ای کامرس، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن تعلیم اور دیگر شعبے نوجوانوں کو عالمی سطح پر کام کرنے کے مواقع فراہم کررہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اپنا وقت صرف سوشل میڈیا پر بحث اور تنازعات میں صرف کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔
پاکستان کے سکیورٹی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے بھی نوجوانوں کا باشعور ہونا ضروری ہے۔ ایک ذمہ دار شہری کو اپنے ملک، خطے اور دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہونا چاہیے، لیکن اس آگاہی کے ساتھ تجزیاتی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ کسی بھی واقعے پر فوری جذباتی ردعمل دینے کے بجائے اس کے محرکات، پس منظر اور ممکنہ نتائج کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
یہاں میڈیا کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہوجاتی ہے۔ مستند صحافت کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ عوام تک درست، تصدیق شدہ اور متوازن معلومات پہنچائی جائیں۔ جب معاشرے میں معتبر معلومات کے ذرائع مضبوط ہوں گے تو جھوٹی خبروں کے لیے جگہ کم ہوگی۔ تاہم اس کے ساتھ شہریوں کی میڈیا لٹریسی بھی بڑھانا ضروری ہے تاکہ وہ خبر، رائے، تجزیے، افواہ اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق کرسکیں۔
سوشل میڈیا پر اختلاف رائے کوئی بری چیز نہیں۔ جمہوری معاشرے میں مختلف آرا کا ہونا فطری امر ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کردیا جائے، مخالف رائے رکھنے والے کو برا بھلا کہا جائے یا جھوٹی معلومات کے ذریعے کسی فرد، ادارے یا گروہ کے خلاف نفرت پیدا کی جائے۔ نوجوانوں کو اس رجحان سے خود بھی بچنا ہوگا اور دوسروں کو بھی ذمہ دارانہ رویے کی طرف راغب کرنا ہوگا۔
مثبت اور بامعنی کردار کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان ہر معاملے میں ایک ہی رائے اختیار کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی رائے دلیل، تحقیق اور حقائق کی بنیاد پر قائم کریں۔ اگر کسی معاملے پر اختلاف ہو تو دلیل سے اختلاف کیا جائے، جھوٹی خبر یا غیرمصدقہ الزام کا سہارا نہ لیا
جائے۔
دنیا بھر میں اطلاعاتی جنگ ایک حقیقت بن چکی ہے۔ ریاستیں اور مختلف گروہ اپنے اپنے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے جدید ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ شہری جذباتی طور پر کسی بھی اطلاعاتی مہم کا حصہ بننے کے بجائے سوچ سمجھ کر ردعمل دیں۔ نوجوان اس سلسلے میں سب سے مثر کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ وہ ڈیجیٹل دنیا کو سب سے زیادہ سمجھتے اور استعمال کرتے ہیں۔
ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ کا پاکستان کے دورے کے تجربے کو شاندار قرار دینا بھی ایک مثبت پہلو ہے۔ بین الاقوامی طلبہ کا پاکستان آنا، یہاں کے حالات کا مشاہدہ کرنا اور پاکستانی معاشرے کو براہ راست دیکھنا بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں موجود تصورات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسے روابط نہ صرف تعلیمی بلکہ سفارتی اور معاشی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کو آج ایک ایسی نوجوان نسل کی ضرورت ہے جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ باشعور بھی ہو، ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے ساتھ اس کے خطرات سے بھی آگاہ ہو، اختلاف رائے رکھتی ہو لیکن دلیل کے ساتھ، اور اپنے ملک کے مسائل پر تنقید کرنے کے ساتھ ان کے حل میں بھی کردار ادا کرے۔
سوشل میڈیا کو روکا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اطلاعات کے بہا کو مکمل طور پر محدود کرنا مسئلے کا حل ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ صارفین کو اتنا باشعور بنایا جائے کہ وہ معلومات کے سمندر میں سچ اور جھوٹ میں فرق کرسکیں۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک کلک، ایک شیئر اور ایک پوسٹ بھی معاشرے پر اثر ڈال سکتی ہے۔
آج کے دور میں موبائل فون صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی کا ایک طاقتور ہتھیار بھی ہے۔ اسے نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے تو معاشرے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن اسے علم، تحقیق، کاروبار، تعلیم اور مثبت آگاہی کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی ٹیکنالوجی ملک کی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نوجوانوں سے حقائق پر مبنی سوچ اپنانے اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے خلاف مثبت کردار ادا کرنے کا پیغام اسی وسیع تر ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان کے نوجوان اگر جذبات کے بجائے دلیل، افواہ کے بجائے تحقیق اور منفی مہم کے بجائے مثبت کردار کو ترجیح دیں تو وہ نہ صرف سوشل میڈیا کے ماحول کو بہتر بناسکتے ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور باشعور معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
آخرکار جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ آج معلومات بھی ایک میدان جنگ بن چکی ہیں۔ اس میدان میں کامیابی صرف زیادہ شور مچانے والے کی نہیں بلکہ **زیادہ سمجھنے، تحقیق کرنے اور سچ کو پہچاننے والے کی ہوگی۔** یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے نوجوان اپنی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی...
پاکستان کی سیاست میں ایک اصطلاح ایسی ہے جو گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی مقبول ہوئی ہے، اور وہ ہے “ڈیڈ لائن”۔ حکومتوں کے قیام کے فورا بعد ان کے خاتمے کی تاریخیں دینا، چند ماہ کے اندر بڑی سیاسی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کرنا، اور پھر ان تاریخوں کے گزر جانے کے بعد...
فیلڈ مارشل، وزیراعظم اور قومی یکجہتی کا سفارتی پیغام مشرقِ وسطی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ سمندر میں تیل بردار جہازوں پر حملے، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی معیشت پر منڈلاتے خدشات اور طاقتوں کی نئی صف بندیاں صرف عرب ممالک کا مسئلہ نہیں رہیں بلکہ پاکستان جیسے ممالک بھی ان...
کیا اکیسویں صدی “ایشیائی صدی” ثابت ہوگی یا دنیا ایک نئے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ ایک وقت تھا جب دنیا کا نقشہ لندن، پیرس اور واشنگٹن کی میزوں پر بنتا تھا۔ عالمی معیشت، سیاست، جنگ، امن، تجارت اور ٹیکنالوجی کے فیصلے مغربی طاقتیں کرتی تھیں اور باقی دنیا ان فیصلوں کے اثرات...