دنیا اس وقت متعدد جنگوں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی زد میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، روس اور یوکرین جنگ اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد اب تائیوان کا معاملہ عالمی سیاست میں ایک اہم اور حساس مسئلے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ چین اور تائیوان کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں امریکا اور جاپان کے مفادات بھی شامل ہیں، جس کے باعث کسی ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات صرف مشرقی ایشیا تک محدود رہنے کا امکان نہیں۔
چین تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ اتحاد کو قومی وحدت کا معاملہ سمجھتا ہے۔ بیجنگ نے متعدد مواقع پر واضح کیا ہے کہ وہ تائیوان کی علیحدگی کی کوشش قبول نہیں کرے گا۔ چین پرامن اتحاد کی حمایت بھی کرتا ہے، تاہم اس نے تائیوان کے معاملے میں طاقت کے استعمال کا آپشن مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ یہی پالیسی تائیوان کے مستقبل کو عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش کا اہم مرکز بناتی ہے۔
دوسری جانب تائیوان میں ایک جمہوری حکومت قائم ہے اور وہ طویل عرصے سے اپنی موجودہ سیاسی و انتظامی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تائیوان کی حکومت اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے جبکہ بیجنگ کی جانب سے فوجی دباؤ بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر امریکا سے دفاعی تعاون بھی جاری ہے۔
حالیہ برسوں میں چین نے تائیوان کے گرد اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ چینی جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت، فوجی مشقوں اور تائیوان کے قریب عسکری سرگرمیوں میں اضافے کو بیجنگ کی جانب سے سیاسی اور فوجی دباؤ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم ان سرگرمیوں کو فوری حملے کی حتمی علامت قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ بڑی طاقتیں فوجی مشقوں کے ذریعے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ مخالف کو سیاسی پیغام بھی دیتی ہیں اور ممکنہ بحران کے لیے اپنی تیاری بھی کرتی ہیں۔
چین کے لیے تائیوان پر فوجی کارروائی ایک انتہائی مشکل فیصلہ ہوگا۔ تائیوان آبنائے کے پار فوجی آپریشن میں بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ تائیوان کی دفاعی صلاحیت، امریکا کی ممکنہ مداخلت، جاپان کا ردعمل اور عالمی اقتصادی پابندیاں چین کے لیے بڑے چیلنج ہوسکتے ہیں۔ چین کی معیشت عالمی تجارت سے گہری وابستہ ہے، اس لیے طویل جنگ اس کی اپنی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس کے باوجود تائیوان کے گرد کشیدگی کو معمولی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ چین براہ راست حملے کے بجائے تائیوان پر سیاسی، اقتصادی، سفارتی اور عسکری دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے۔ بحری ناکہ بندی، محدود فوجی کارروائی، سائبر حملے یا طویل فوجی مشقیں ایسی صورت حال پیدا کرسکتی ہیں جس میں مکمل جنگ کے بغیر بھی عالمی سطح پر بحران پیدا ہوجائے۔
امریکا اس معاملے کا دوسرا اہم فریق ہے۔ واشنگٹن تائیوان کے ساتھ مضبوط غیر سرکاری تعلقات رکھتا ہے، اسے دفاعی سازوسامان فراہم کرتا ہے اور بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ تاہم امریکا نے طویل عرصے سے یہ واضح نہیں کیا کہ چینی حملے کی صورت میں وہ براہ راست جنگ میں شریک ہوگا یا نہیں۔
امریکی پالیسی کو عموماً “اسٹریٹیجک ابہام” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد چین کو فوجی کارروائی سے روکنا اور ساتھ ہی تائیوان کو بھی یکطرفہ طور پر ایسا اقدام کرنے سے باز رکھنا ہے جس سے خطے میں جنگ کا امکان بڑھ جائے۔
لیکن اگر چین نے واقعی تائیوان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی تو واشنگٹن کے لیے فیصلہ انتہائی مشکل ہوگا۔ امریکا کے لیے تائیوان صرف ایک سیاسی اتحادی نہیں بلکہ بحرالکاہل میں طاقت کے توازن اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ دوسری طرف چین کے ساتھ براہ راست جنگ دنیا کی دو بڑی معاشی اور ایٹمی طاقتوں کو ایک ایسے تصادم میں مبتلا کرسکتی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے۔
تائیوان کی اہمیت صرف جغرافیائی یا فوجی نہیں۔ جدید عالمی معیشت میں سیمی کنڈکٹرز اور جدید چِپس بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور تائیوان اس صنعت کا ایک اہم مرکز ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر، گاڑیاں، صنعتی مشینری، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے نظام سمیت متعدد شعبے جدید چِپس کی مسلسل فراہمی پر انحصار کرتے ہیں۔
اگر تائیوان میں جنگ یا طویل ناکہ بندی کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کا اثر ٹیکنالوجی کی صنعت سے نکل کر عالمی تجارت، صنعتی پیداوار اور مالیاتی منڈیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ چِپس کی قلت سے قیمتوں میں اضافہ اور پیداوار میں کمی کا امکان پیدا ہوگا جبکہ عالمی کمپنیوں کو متبادل سپلائی چین بنانے کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔
اس بحران میں جاپان کا کردار بھی اہم ہوگا۔ تائیوان جاپان کے قریب واقع ہے اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث کسی بھی بڑے تنازع کے اثرات جاپان کی سلامتی پر براہ راست پڑ سکتے ہیں۔ جاپان گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور مشرقی ایشیا میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کو اپنی قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
روس بھی اس ممکنہ بحران میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکا اور چین کے درمیان کسی فوجی تصادم کی صورت میں ماسکو لازماً بیجنگ کی براہ راست عسکری حمایت کرے گا۔ روس اور چین کے تعلقات مضبوط ہیں، لیکن عالمی طاقتوں کے فیصلے بالآخر اپنے قومی مفادات کے مطابق ہوتے ہیں۔ روس کے لیے بھی یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکا اور چین کی کشیدگی اس کے اپنے معاشی، سفارتی اور اسٹریٹیجک مفادات کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
تائیوان کے مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے اثرات پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان چین کے ساتھ قریبی اسٹریٹیجک اور معاشی تعلقات رکھتا ہے جبکہ امریکا بھی پاکستان کے لیے اہم تجارتی، سفارتی اور مالیاتی شراکت دار ہے۔ اگر امریکا اور چین کے درمیان بڑا اقتصادی یا فوجی بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے متوازن سفارت کاری ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
پاکستانی معیشت پر ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے درآمدی بل کو بڑھا سکتا ہے۔ شپنگ اور انشورنس کی لاگت میں اضافے سے درآمدی اشیا مہنگی ہوسکتی ہیں۔ ڈالر کی طلب بڑھنے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورت میں پاکستانی روپے پر دباؤ آسکتا ہے۔
اس کے اثرات صرف پٹرول تک محدود نہیں رہیں گے۔ صنعتی خام مال، مشینری، الیکٹرانکس، موبائل فون اور دیگر درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے کا اثر بالآخر عام صارف تک پہنچے گا۔ پاکستان جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹ ایک سنجیدہ معاشی مسئلہ بن سکتی ہے۔
تاہم اس بحران میں پاکستان کے لیے کچھ ممکنہ مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اگر عالمی کمپنیاں چین اور مشرقی ایشیا پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی سپلائی چین متنوع بناتی ہیں تو پاکستان اپنی صنعتی، ٹیکنالوجی اور برآمدی صلاحیت بہتر بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس کے لیے توانائی، ٹیکس، انفراسٹرکچر، کاروباری ماحول اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہوگا۔
تائیوان کا معاملہ پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ اسلام آباد کے لیے ضروری ہوگا کہ چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی سفارتی رابطے جاری رکھے۔ پاکستان کے لیے کسی عالمی طاقت کے ساتھ غیر ضروری محاذ آرائی کے بجائے قومی مفاد، معاشی استحکام اور علاقائی امن کو ترجیح دینا زیادہ اہم ہوگا۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا تائیوان کا تنازع واقعی تیسری عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے؟
اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا، لیکن اسے یقینی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ چین اور امریکا دونوں جانتے ہیں کہ براہ راست جنگ کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان جنگ عالمی معیشت، تجارت اور سلامتی کے پورے نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی لیے دونوں فریق براہ راست تصادم سے بچنے کی کوشش کریں گے۔
اصل خطرہ کسی باقاعدہ اعلانِ جنگ سے پہلے پیدا ہونے والے بحران کا ہے۔ بحری جہازوں کا تصادم، جنگی طیاروں کا حادثہ، کسی فوجی مشق کے دوران غلط فہمی یا کسی سیاسی فیصلے کی غلط تشریح کشیدگی کو تیزی سے بڑھا سکتی ہے۔ اگر ایک فریق نے دوسرے کے ارادے کا غلط اندازہ لگایا تو محدود بحران وسیع فوجی تصادم میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اسی لیے تائیوان کے مسئلے کو صرف اس سوال تک محدود کرنا کہ “چین حملہ کرے گا یا نہیں” کافی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ چین، امریکا اور تائیوان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کس حد تک قابو میں رکھا جاسکتا ہے اور کیا تینوں فریق ایسے سفارتی راستے کھلے رکھ سکتے ہیں جو کسی حادثے یا غلط فہمی کو بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روک سکیں۔
موجودہ صورتحال میں تائیوان چین اور امریکا کے درمیان طاقت کے توازن کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ چین اسے قومی وحدت کا مسئلہ سمجھتا ہے، تائیوان اپنی موجودہ سیاسی حیثیت اور سلامتی کا تحفظ چاہتا ہے جبکہ امریکا بحرالکاہل میں اپنے اتحادیوں اور اپنے وسیع تر اسٹریٹیجک مفادات کا دفاع کرنا چاہتا ہے۔ جاپان اپنی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہے اور عالمی معیشت تائیوان کی ٹیکنالوجی اور سپلائی چین سے جڑی ہوئی ہے۔
اس لیے تائیوان میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا حل صرف عسکری طاقت میں نہیں بلکہ سفارت کاری، بحران کے دوران رابطوں اور واضح پالیسی میں ہے۔ چین کے لیے طاقت کا استعمال آخری راستہ ہونا چاہیے، امریکا کو بھی تصادم کے بجائے مؤثر بازدارندگی اور سفارتی رابطوں پر توجہ دینا ہوگی، جبکہ تائیوان کے لیے دفاع مضبوط کرنے کے ساتھ سیاسی احتیاط ضروری ہے۔
دنیا کے لیے یہ ایک ایسا تنازع ہے جس میں جنگ سے زیادہ جنگ کو روکنے کی کوشش اہم ہے۔ کیونکہ اگر چین اور امریکا براہ راست ٹکرا گئے تو مسئلہ صرف تائیوان کا نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات عالمی تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور معیشت سے ہوتے ہوئے پاکستان جیسے ممالک تک بھی پہنچیں گے۔
تائیوان آج صرف چین اور تائیوان کے درمیان تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کا امتحان ہے۔ اس امتحان میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اپنے اختلافات کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکیں گی؟
مودی حکومت کی ہٹ دھرمی نے بھارتی جمہوریت کو کہاں لا کھڑا کیا؟ جمہوریت کی خوبصورتی اختلافِ رائے میں ہوتی ہے، لیکن جب اختلاف کو جرم اور احتجاج کو بغاوت سمجھ لیا جائے تو پھر جمہوریت صرف آئین کے صفحات تک محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے...
15 جولائی 2016 کی رات ترکیہ کی جدید تاریخ کی سب سے فیصلہ کن راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک فوجی بغاوت کی ناکام کوشش نہیں تھی بلکہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے ریاست، سیاست، فوج، عدلیہ، میڈیا اور عوام کے باہمی تعلقات کو نئی شکل دے دی۔ اس واقعے کو آج...
دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ، ایک بیان یا ایک ٹویٹ اتنا وزن رکھتا ہے کہ وہ کئی برسوں کی سفارتی کوششوں کو نئی سمت دے دیتا ہے۔ حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں سے متعلق سامنے آنے والے بیانات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ...
کراچی کے مسائل پر بحث شروع ہو تو چند منٹ کے اندر ایک جملہ ضرور سنائی دیتا ہے: “یہ شہر غیر مقامی افراد نے تباہ کر دیا۔” گویا کراچی کسی زمانے میں ایک مثالی، صاف ستھرا اور منظم شہر تھا جسے باہر سے آنے والوں نے برباد کر دیا۔ یہ مؤقف سننے میں جتنا آسان...