ایک بچی جب دنیا میں آتی ہے تو وہ صرف ایک گھر کی بیٹی نہیں ہوتی، وہ پورے معاشرے کی امانت ہوتی ہے۔ اس کی ہنسی گھر کی رونق، اس کے خواب مستقبل کی امید اور اس کا محفوظ بچپن معاشرے کی تہذیبی صحت کی علامت ہوتا ہے۔ مگر جب یہی معصوم بچیاں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں تو صرف ایک زندگی زخمی نہیں ہوتی؛ انسانیت، اخلاق، قانون اور معاشرتی ضمیر سب کٹہرے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؛ سوال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے کہ ہم انہیں روک کیوں نہیں پا رہے؟
پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد کے اعداد و شمار اس سوال کو مزید تشویش ناک بنا دیتے ہیں۔ جنوری سے جون 2026 کے دوران ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کے 1,914 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 1,015 جنسی زیادتی کے واقعات شامل تھے۔ رپورٹ ہونے والے متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں تھیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ عمر 11 سے 15 سال رہی۔
یہ اعداد صرف اعداد نہیں، بکھرتے ہوئے بچپن، اجڑتے ہوئے گھر اور عمر بھر کے زخم ہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی نظام سے ایک سوال کر رہے ہیں: آخر بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟
اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ یہ مکمل تصویر نہیں۔ یہ اعداد ان واقعات پر مبنی ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ بہت سے واقعات خوف، بدنامی، خاندانی دباؤ، غربت، دھمکی یا انصاف کے پیچیدہ عمل کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ لہٰذا سامنے آنے والی تعداد کو مسئلے کی مکمل شدت سمجھ لینا خطرناک خوش فہمی ہوگی۔
خطرہ صرف اجنبی سے نہیں
ہماری معاشرتی تربیت میں بچوں کو عموماً یہ سکھایا جاتا ہے کہ اجنبی سے بچو، اس کے ساتھ کہیں مت جاؤ، لیکن حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
رپورٹ شدہ واقعات میں ایک بڑی تعداد ایسے ملزمان کی سامنے آتی ہے جو متاثرہ بچے کے جاننے والے ہوتے ہیں، جبکہ کئی واقعات گھروں یا مانوس ماحول میں پیش آتے ہیں۔
یہ حقیقت ہمارے ایک خطرناک سماجی تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ بچہ صرف باہر خطرے میں ہے۔
نہیں۔
کبھی خطرہ اس شخص کی صورت میں بھی آسکتا ہے جسے گھر والے برسوں سے جانتے ہوں، جس پر اعتماد کرتے ہوں، جو خاندان کا شناسا ہو یا بچے کے روزمرہ ماحول کا حصہ ہو۔
اسی لیے بچوں کی حفاظت کا مطلب صرف دروازے بند کرنا نہیں؛ اعتماد کے نام پر آنکھیں بند نہ کرنا بھی ہے۔
کچھ نام جو ہمیں بھولنے نہیں چاہئیں
یہ مسئلہ صرف اعداد و شمار کا نہیں۔ ان اعداد کے پیچھے معصوم چہرے، ادھورے خواب اور ایسے خاندان ہیں جن کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔
گزشتہ برسوں میں پاکستان میں زینب، منتہیٰ، آئزل، آیت اور دیگر کمسن بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد اور درندگی کے واقعات نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ یہ نام محض خبروں کی سرخیاں نہیں؛ یہ ہماری اجتماعی ناکامی کی نشانیاں ہیں۔
زینب ہو، منتہیٰ ہو، آئزل ہو یا آیت—ہر نام کے پیچھے ایک گھر تھا، والدین کی امیدیں تھیں، ایک معصوم بچپن تھا اور مستقبل کے بے شمار خواب تھے۔
کچھ بچیوں کے واقعات نے پورے ملک کو رلایا، کچھ کی آواز چند دن بعد خبروں کے شور میں دب گئی، اور بہت سی ایسی بھی ہیں جن کے نام کبھی سامنے ہی نہیں آئے۔ ان کے خاندان خوف، شرمندگی، سماجی دباؤ یا انصاف کے دشوار راستے کے باعث خاموش رہنے پر مجبور ہوئے۔
ہمیں یہ نام صرف چند دن کے لیے یاد نہیں رکھنے چاہئیں۔ ہمیں ان سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ان کے بعد ہم نے کیا بدلا؟
کیا ہم نے اپنے گھروں کو زیادہ محفوظ بنایا؟
کیا اسکولوں میں حفاظتی نظام مضبوط کیا؟
کیا بچوں کو اپنے جسم، حدود اور خطرات کے بارے میں عمر کے مطابق آگاہ کیا؟
کیا شکایت کرنے والے خاندان کو تحفظ اور فوری مدد دی؟
اور کیا ہم نے ایسا نظام بنایا جس میں مجرم کو یقین ہو کہ دولت، تعلقات، عہدہ یا خاندانی اثر و رسوخ اسے نہیں بچا سکے گا؟
اصل خراجِ عقیدت یہ نہیں کہ ہم ان معصوم بچیوں کے لیے چند تعزیتی الفاظ لکھ دیں؛ اصل خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والی کسی اور بچی کو وہ اذیت نہ سہنی پڑے۔
معصومیت سے فائدہ اٹھانے والے ذہن
جنسی تشدد کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی۔ اسے صرف اخلاقی زوال، فحش مواد یا قانون کی کمزوری میں سمیٹ دینا مسئلے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہے۔
اس کے پیچھے مختلف عوامل ایک دوسرے سے جڑ سکتے ہیں:
بچوں کے ساتھ جسمانی حدود اور محفوظ و غیر محفوظ لمس کے بارے میں آگاہی کا فقدان
گھروں میں بچوں کی بات نہ سننے یا انہیں سنجیدگی سے نہ لینے کا رویہ
طاقت اور اختیار کا غلط استعمال
خاندان یا برادری میں بدنامی کے خوف سے شکایت دبانا
ملزم کا سماجی یا خاندانی اثر و رسوخ
بچوں کو دھمکانا یا خاموش رہنے پر مجبور کرنا
کمزور نگرانی اور حفاظتی نظام
آن لائن دنیا میں بچوں کی غیر محفوظ رسائی اور گرومنگ
مقدمات کی تفتیش اور انصاف کے عمل میں تاخیر
اور سب سے بڑھ کر یہ تصور کہ:
“گھر کی بات گھر میں رکھو۔”
یہ جملہ بعض اوقات مجرم کے لیے سب سے مضبوط ڈھال بن جاتا ہے۔
خاموشی بھی ایک مسئلہ ہے
ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے، مگر معاشرہ آخر بنتا کس سے ہے؟
ہم سے۔
اگر کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہو اور ہم خاندان کی عزت کے نام پر خاموش ہو جائیں، اگر ہمیں شک ہو مگر ہم “لوگ کیا کہیں گے” کے خوف سے سوال نہ اٹھائیں، اگر بچی کی بات سننے کے بجائے اسی سے سوال کیا جائے کہ وہ وہاں گئی ہی کیوں تھی، تو ہم دانستہ یا نادانستہ طور پر مجرم کے لیے راستہ آسان کرتے ہیں۔
بچے کو شرمندہ نہیں، محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔
جنسی زیادتی کا ذمہ دار بچہ نہیں ہوتا۔ نہ اس کا لباس، نہ اس کی معصومیت، نہ اس کا کسی پر اعتماد کرنا۔
ذمہ داری صرف اور صرف مجرم کی ہوتی ہے۔
تربیت کا مطلب خوف نہیں، شعور ہے
ہمارے بعض گھرانوں میں بچوں سے جسمانی حفاظت کے موضوع پر بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کو ایسی باتیں بتانے سے وہ وقت سے پہلے بڑا ہو جائے گا۔
یہ سوچ بدلنا ہوگی۔
بچے کو عمر کے مطابق یہ سکھانا ضروری ہے کہ اس کے جسم کی کچھ حدود ہیں، کون سا لمس قابلِ قبول ہے، کون سا لمس اسے پریشان کرے تو اسے فوراً “نہیں” کہنا چاہیے، اور اگر کوئی شخص اسے دھمکائے یا راز رکھنے پر مجبور کرے تو وہ کسی قابلِ اعتماد بالغ کو بتائے۔
یہ تعلیم بچوں کو بے حیائی نہیں سکھاتی؛ یہ انہیں خطرے سے بچنے کا شعور دیتی ہے۔
ڈیجیٹل دنیا: نیا میدان، نئی ذمہ داری
آج کا بچہ صرف گھر، اسکول اور گلی میں نہیں رہتا۔ اس کی ایک دنیا موبائل فون، گیمز، سوشل میڈیا اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی آباد ہے۔
یہ دنیا علم اور رابطے کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے، مگر بچوں کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کرتی ہے۔ جعلی شناخت، آن لائن دوستی، گرومنگ، بلیک میلنگ اور جنسی استحصال کی کوششیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ والدین صرف یہ نہ دیکھیں کہ بچہ فون پر کتنا وقت گزارتا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھیں کہ وہ کس سے رابطے میں ہے اور کس قسم کے ڈیجیٹل خطرات کا سامنا کر سکتا ہے۔
قانون موجود ہونا کافی نہیں
کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون کی اہمیت مسلم ہے، مگر قانون کی اصل طاقت اس کے کاغذ پر لکھے ہونے میں نہیں بلکہ اس کے غیر جانب دار، تیز اور مؤثر نفاذ میں ہوتی ہے۔
اگر ایک بچی کے ساتھ زیادتی ہو، مقدمہ درج ہونے میں رکاوٹ آئے، تفتیش طویل ہو، شواہد کے تحفظ میں غفلت ہو، خاندان برسوں عدالتوں کے چکر لگاتا رہے اور ملزم کو اپنے اثر و رسوخ پر اعتماد ہو، تو قانون کی موجودگی بھی متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ نہیں دے سکتی۔
ہمیں ایسا نظام درکار ہے جہاں مجرم طاقتور ہو یا کمزور، قانون سب کے لیے برابر ہو۔
ریاست کی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
ریاست کی ذمہ داری صرف واقعہ پیش آنے کے بعد ایف آئی آر درج کرنے سے ختم نہیں ہوتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ:
بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مربوط نظام قائم کیا جائے۔
اسکولوں میں بچوں کے تحفظ کی واضح پالیسی ہو۔
اساتذہ، پولیس، ڈاکٹرز اور سماجی کارکنوں کو خصوصی تربیت دی جائے۔
شکایت کے لیے ایسا نظام ہو جہاں بچہ اور اس کا خاندان خوف کے بغیر مدد حاصل کر سکے۔
تحقیقات میں جدید سہولتوں اور تربیت یافتہ اہلکاروں کا استعمال ہو۔
مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کم کی جائے۔
متاثرہ بچوں کو قانونی کے ساتھ نفسیاتی اور سماجی معاونت بھی فراہم کی جائے۔
ملزم کی سماجی حیثیت، دولت، تعلقات یا اثر و رسوخ کو انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔
والدین بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں
ہم حکومت سے سوال ضرور کریں، مگر گھر سے سوال کرنا بھی ضروری ہے۔
کیا ہم اپنے بچوں کی بات سنتے ہیں؟
کیا ہمارا بچہ ہم سے اپنی پریشانی بیان کرنے میں خود کو محفوظ سمجھتا ہے؟
کیا ہم اسے یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر کبھی کوئی اسے ڈرائے، دھمکائے یا نامناسب رویے کا نشانہ بنائے تو وہ بلا خوف ہمیں بتا سکتا ہے؟
کیونکہ بعض اوقات بچے خاموش اس لیے نہیں ہوتے کہ انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے خاموش ہوتے ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ شاید کوئی ان کی بات پر یقین نہیں کرے گا۔
گھر میں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں بچہ یہ جانتا ہو:
“تم کچھ بھی بتاؤ، ہم پہلے تمہاری حفاظت کریں گے، تمہیں الزام نہیں دیں گے۔”
اسکول صرف تعلیم گاہ نہیں، حفاظتی حصار بھی ہیں
بچے روزانہ کئی گھنٹے تعلیمی اداروں میں گزارتے ہیں۔ وہاں صرف نصاب نہیں، ان کی شخصیت اور اعتماد بھی تشکیل پاتا ہے۔
اساتذہ اور انتظامیہ کو بچوں کے رویوں میں اچانک تبدیلی، خوف، تنہائی، غیر معمولی خاموشی یا کسی خاص فرد سے غیر معمولی خوف جیسے اشاروں کو سنجیدگی سے لینے کی تربیت دی جانی چاہیے۔
ہر اسکول میں واضح Child Protection Policy اور شکایت کا محفوظ نظام ہونا چاہیے۔
میڈیا کا کردار بھی اہم ہے
بچوں کے خلاف جرائم کی خبر دینا ضروری ہے، مگر خبر کو سنسنی بنانا نہیں۔
میڈیا کو متاثرہ بچے کی شناخت، تصویر یا ایسی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے اس کی شناخت ممکن ہو۔
مجرم کو شہ سرخیوں میں نمایاں کرنے کے بجائے مسئلے کے اسباب، قانون، روک تھام اور متاثرین کے حقوق پر گفتگو ہونی چاہیے۔
صحافت کا مقصد صرف واقعہ بتانا نہیں، معاشرے کو آئینہ دکھانا بھی ہے۔
ہمیں سزا سے پہلے روک تھام کی طرف جانا ہوگا
ہر جرم کے بعد ہم سزا کی بات کرتے ہیں، اور یقیناً سنگین جرائم میں مؤثر قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ لیکن ایک ایسا معاشرہ جو صرف مجرم کو سزا دینے کے بعد مطمئن ہو جائے، ابھی مکمل حل تک نہیں پہنچا۔
اصل کامیابی تب ہوگی جب:
ایک بچی کو خطرے سے پہلے تحفظ ملے۔
ایک بچہ خوف کے بغیر شکایت کر سکے۔
ایک والدین کو معلوم ہو کہ مدد کہاں سے لینی ہے۔
ایک استاد خطرے کی علامت پہچان سکے۔
ایک پولیس افسر حساسیت سے مقدمہ درج کرے۔
ایک عدالت بروقت انصاف فراہم کرے۔
اور ایک مجرم کو پہلے ہی معلوم ہو کہ اس جرم کے بعد اسے کوئی سماجی، سیاسی یا خاندانی طاقت نہیں بچا سکتی۔
یہ صرف بچیوں کا مسئلہ نہیں
اگرچہ لڑکیاں متاثرین کی بڑی تعداد میں شامل ہیں، مگر بچوں کے خلاف جنسی تشدد صرف بچیوں کا مسئلہ نہیں۔ لڑکے بھی اس جرم کا شکار ہوتے ہیں اور بعض اوقات سماجی تصورات اور شرمندگی انہیں بولنے سے مزید روکتے ہیں۔
اس لیے ہمیں مسئلے کو جنس سے بالاتر ہو کر بچوں کے تحفظ کے مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
آخر کب تک؟
ہم ہر المناک واقعے کے بعد چند دن غم مناتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرتے ہیں، مجرم کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر اگلی خبر آنے تک خاموش ہو جاتے ہیں۔
مگر بچوں کا تحفظ چند دن کی جذباتی مہم کا نام نہیں۔
یہ ایک مستقل قومی ذمہ داری ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بچی کا محفوظ بچپن اس کا احسان نہیں، اس کا بنیادی حق ہے۔
وہ بچی جو آج خوف کے سائے میں پل رہی ہے، کل اسی معاشرے کا مستقبل بنے گی۔ اگر ہم اس کے بچپن سے تحفظ چھین لیں گے تو ہم صرف ایک فرد کو نہیں، پورے معاشرے کے مستقبل کو زخمی کریں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال صرف یہ نہ کریں:
“مجرم کون ہے؟”
بلکہ یہ بھی پوچھیں:
“وہ نظام کہاں تھا جو اس بچی کی حفاظت کے لیے موجود ہونا چاہیے تھا؟”
اور اس سے بھی آگے بڑھ کر سوال کریں:
“ہم نے اپنے حصے کی ذمہ داری کہاں پوری کی؟”
معصوم بچیوں کو صرف دعاؤں کی نہیں، محفوظ ماحول، مضبوط قانون، مؤثر اداروں، ذمہ دار خاندانوں اور بیدار معاشرے کی ضرورت ہے۔
آئیے ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں کسی بچی کو اپنی معصومیت ثابت نہ کرنی پڑے، جہاں اس کی آواز کو بدنامی کے خوف سے دبایا نہ جائے، جہاں گھر اس کے لیے واقعی محفوظ ہو، اسکول حفاظتی حصار بنیں، قانون طاقتور کے بجائے مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو اور مجرم کو یقین ہو کہ وہ بچ نہیں سکے گا۔
کیونکہ کسی بھی قوم کی ترقی کا اصل پیمانہ اس کی بلند عمارتیں، بڑی شاہراہیں یا معاشی اعداد و شمار نہیں۔
اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس قوم کے بچے کتنے محفوظ ہیں۔
اور جب تک ہماری کوئی ایک بھی معصوم بچی خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، ہمیں یہ دعویٰ کرنے کا حق نہیں کہ ہمارا معاشرہ محفوظ اور مہذب ہے۔
برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا ساجد اثر کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے شہریوں کا اخلاق، برداشت اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کا ظرف ہوتا ہے۔...
دنیا سے یااپنے ملک و شہر سے چلے جانے کے بعد انسان معتبر اور اہم ہوجاتا ہے انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا جانتا تھا۔ کسی کی خوشی میں شریک ہونا، کسی کے غم میں سہارا بننا، کسی کی کامیابی پر داد دینا اور...
نیشنل میڈیافاونڈیشن کے وفد کا سندھ اور پنجاب کا دورہ دورانِ سفر انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ سفر انسان کا بہترین استاد ہے۔ یہ نہ صرف نئی جگہوں، ثقافتوں اور لوگوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ انسان کی سوچ، برداشت اور تجربات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ہر سفر زندگی کا ایک نیا سبق دے...
معصوم بیٹیوں کی چیخیں اور بے حس معاشرہ تعویز گلے میں تھا مِرے ردِّ بلا کا آدم سے بچاؤ کا نہ تھا وِرد کوئی یاد! ناصرہ زبیری سرگودھا کی ننھی منتہا ہو یا کراچی کی معصوم کلثوم، نام بدل جاتے ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کی کہانی وہی رہتی ہے۔ ہر چند روز...