بد اچھا بدنام برا نام بڑا درشن چھوٹے اس طرح کے کئی محاورے اور مثالیں نام پر پائی جاتی ہیں ۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا،آجکل فی زمانہ نام میں کچھ نہیں رکھا دیکھا جائے تو اگر نام کے ساتھ بدلگ جائے تو اس کے لئے دولت ،عزت ،شہرت کے دروازے کھل دئیے جاتے ہیں ۔زیادہ تر سیاستدان حکمران تو بدنامی کو اپنی نیک نامی سمجھتے ہیں ۔کرپشن اور مختلف اسکینڈلز میں نام کمانے کے باوجود انکی شہرت بر قرار رہتی ہے ۔یہ ہی حال میڈیا اور شو بز کا ہے جہاں ان رہنے کے لئے بدنام ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ،اس لئے افواہیں اڑائی اور اسکینڈل خوب بنائے جاتے ہیں ۔بہت لوگوں کو کام سے زیادہ نام اونچا رکھنے کی فکر زیادہ ہوتی ہے،اور بغیر کسی محنت ،جدوجہد کے آسمان چھونے کی خواہش میں اکثر اپنا رہا سہا نام بھی ڈبو دیتے ہیں ۔نام بڑا درشن چھوٹے ایسے بہت نام ہیں جن کا نام صرف بڑا ہوتا ہے مگر ذاتی طور پر اکثر بہت چھوٹے نکلتے ہیں اپنے قول و عمل اور روئیے سے جس کی وجہ سے لوگ کافی مایوس ہوتے ہیں ۔دیکھا جائے تو بہت سارے نام ایسے ہیں جو بہت لوگوں کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے ۔ اس طرح ہم اپنے شہر میں ایسی جگہوں سے واقف ہیں جو اپنے نام کے برعکس دکھائی دیتی ہیں۔اب ضروری نہیں کہ حسینہ یا نازنین کوئی سترہ اٹھارہ سالہ الہڑ حسینہ ہی ہو یہ ستر سالہ بڑی بی بھی ہوسکتی ہیں ۔اپنی اردگرد نظر دوڑائیں ۔۔ تو آپ کو کہیں آدھا درجن بچوں کے ابا منے میاں سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوسکتا ہے، تو کہیں پوری کرکٹ ٹیم کی اماں بے بی باجی کا دیدار بھی نصیب ہوسکتا ۔چلئے آپ کو ایسے لوگوں سے ملواتے ہیں جن کے نام میں کچھ نہیں رکھا مگر نام تو ہے نا۔۔۔ہمارے محلے میں ایک بابو صاحب رہتے تھے ،لیکن آج تک یہ کسی کو نہیں چل سکا کہ وہ کس آفس کے کلرک بابو ہیں یا ریلوے اسٹیشن بابو ہیں ہر چھوٹا بڑا ان کو بابو بھائی کہتا تھا۔۔ہمارے ایک کزن کا نام دانش ہے مگر دانشمندی ان کو چھو کر نہیں گزری کیونکہ چار عدد شادیاں کر چکے ہیں دو بیویاں فوت ہوگئیں ،دو نے خلع لے لیا مگر انہوں نے پھر بھی دانشمندی سے کام نہیں لیا اور پانچویں شادی رچا بیٹھے۔اب ان سنجیدہ بیگم کو دیکھ لیں زرا جو سنجیدگی ان کو چھو کر گزری ہو سارا وقت ان کی بتیسی باہر نکلی ہوتی ہے ،اور جب ان کی زبان فراٹے بھرتی ہے تو پورا خاندان اور محلہ پناہ مانگتا ہے، لوگ ان کو ان کے نام کے واسطے بھی دیتے ہیں جو بیکار ثابت ہوتے ہیں۔ہماری خالہ جان اپنی طرف سے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کنیز نامی بہو لے آئیں کہ کچھ نام کا اثر ہوگا تو بہو بیگم سسرال والوں کی خدمت کسی کنیز کی طرح کریں گی،مگر ہوا اس کا الٹ کہ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی کنیز بہو ملکہ بہو بن چکی تھی اور ساس نندیں کنیز دکھائی دینے لگیں تو شوہر حکم کے غلام ۔اب ان فردوس صاحبہ سے ملئے ان کے میاں گھریلو بے سکونی سے تنگ اکثر یہ ہی کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ میرا گھر ہے یا جہنم کیونکہ فردوس باجی کو یہ پتہ نہیں کہ فردوس کے معنی جنت کے ہیں ۔ہمارے پڑوسی ہیں انکا نام وکیل ہے مگر وہ صرف نام کے وکیل ہیں ، وکالت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔ البتہ محلے اور رشتے داروں کی شادیوں میں دولہا اور دولہن کی جانب سے وکیل ضرور بنتے ہیں ۔اس طرح کے افسر میاں ہیں ماں نے بڑے پیار سے نام افسر رکھا کہ میرا بیٹا بڑے ہوکر بڑا افسر بنے گا ،اب بچارے افسر میاں پر کئی افسر حکم چلاتے ہیں کیونکہ وہ آفس میں کلرک جو ہیں ۔ موجودہ دور میں بچوں کے نام رکھتے ہوئے ماں کی ساری کوشش یہ ہی ہوتی ہے بہت ہی منفرد نرالا سا ایسا نام ہو جو روئے
زمین پر کسی اور کا نہ ہو ۔ اور ان ناموں کے معنی فیروز الغت میں بھی نہیں پائے جاتے ۔پرانے وقتوں میں ناموں کے سلسلے میں اتنی درد سری نہیں ہوتی تھی بس مردانہ ناموں میں ، بیگم ،جہاں ، نسا ، اور بانو لگا کر نسوانیت پیدا کردی جاتی تھی ۔اس لئے شوہر حضرات بھی اپنی بیویوں کا نام کم ہی لیتے تھے ۔بیگم پر زور زیادہ ہوتا تھا، تو بیویاں بھی مارے شرم کے شوہر کا نام لیتے ہوئے شرماتی تھیں اور انکا انداز ِ تخاطب یوں ہوتا تھا ۔۔۔ سنو جی ۔۔اے جی ۔۔یا منے کے ابا۔نام شریف اور شرافت ان کے قریب سے گزرتے گھبراتی ہے ۔نام میں کیا رکھا ہے ہماریہاں کام کرنے والے سرکاری ادارے بھی بس نام کے ہیں،مثلا ہمارے وزیر خزانہ کا خزانہ ہمیشہ خالی ہوتا وزیر پانی و بجلی گیس بھی ہیں ،مگر نہ بجلی ہر وقت آتی ہے اور ساتھ پانی اور گیس کی قلت رہتی ہے۔ہمارے ہاں نام کے ادارے ہزاروں ہیں مگر ان کا کام صفر کے برابر ہے،وزیر صحت بھی موجود ہیں مگر سوائے ان کی صحت کے عوام کی صحت خراب ہی رہتی ہے کیونکہ وزیر صحت ہسپتالوں میں جعلی دواں اور ناقص انتظامات سے واقف ہوتے ہیں اس لئے اپنا علاج بیرون ملک جا کر ہی کرواتے ہیں ۔ملک کے حکمرانوں کو اپنی جان بہت عزیز ہیتو وہ اپنے پیٹ کے درد کا علاج بھی لندن میں کراتے ہیں ۔بڑے شہروں میں ہر علاقہ کا کچھ نہ کچھ نام ضرور ہوتا ہے ، چاہے اس نام کا اس علاقے سے تعلق رہے نہ رہے اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ اب آپ ناگن چورنگی کو ہی لے لیں نام سے آپ کو محسوس ہوگا شاید اس چورنگی پر ناگن راج ہے اور اس کے اردگرد سپیرے ان کو اپنی بین پر نچا رہے ہونگے۔مگر یہاں ایسا کچھ نہیں ہے،ہاں البتہ ناگ ڈاکوں سے آپ کا واسطہ ضرور پڑ سکتا ہے جو ہاتھ میں اسلحہ لئے دندناتے آپ کے سر پر موجود ہوسکتے ہیں آپ کی جیب خالی کرنے کے لئے۔اب چلئے ایسی بیوہ کالونی جہاں اب کوئی بیوہ نہیں رہتی بلکہ اس کالونی پر اب سہاگنوں کا قبضہ ہے کہ ان کے سر تاجوں نے جو لینڈ مافیا اور غنڈہ گردی کی جاب پر معمور ہیں ان بیواں کو یہاں سے بے دخل کر دیا ہے اور اب یہ کالونی صرف نام کی بیوہ رہ گئی ہے اور قبضہ گروپ مافیا گروپ یہ اپنے نام کی لاج رکھے ہوئے ہیں ۔مختلف ناموں سے اتنے مافیے کام کر رہے ہیں کہ اللہ معاف کرے۔خاموش کالونی کیونکہ قبرستان سے قریب تھی شاید اسی وجہ سے اس کا یہ نام پڑ گیا مگر اب یہاں خاموشی نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ۔۔۔ بسوں ،ٹرکوں ،رکشوں ،کی مرمت اور ڈینٹنگ ، پینٹنگ اور اس کا شور وغل اور اعصاب شکن ٹریفک ہارن کی گھن گرج کی بدولت یہاں کے مکین خاموشی کا مفہوم بھی بھول چکے ہیں۔بندر روڈ کے نام سے یہ ہی لگتا ہیکہ ضرور یہاں بندروں کا قیام ہوگا۔بندر تو خیر یہاں ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملیں گے مگر یہاں کا ہجوم اور بے ہنگم ٹریفک دیکھ کر انسان کا دل یہی چاہے گا کہ کاش وہ بندر ہوتا تو اچھلنا کودتا اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچ جاتا۔مچھر کالونینے البتہ اپنے نام کی لاج رکھی ہوئی ہے ، کیونکہ یہ علاقہ مچھروں کے لئے آباد کیا گیا تھا،یہاں وافر تعداد میں گندے پانی کے تالاب اور جوہڑ واقع تھے جو مچھروں کی نرسری کا کام کرتے تھے مگر غریبوں کی مجبوری نے ان کو مچھروں کے درمیان رہنے پر مجبور کر دیا حالانکہ لوگوں نے ان تالابوں اور جوہڑوں کو ختم کرکے ان پر رہائش کی کوشش کی ہے مگر اس کے باوجود مچھروں نے اپنا علاقہ چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ، غریبوں کا خون ان مچھروں کو خاصا مرغوب ہے اس لئے اس کالونی میں مچھر اور انسان ایک ساتھ رہنے پر مجبور ہیں ۔کہنے کو نام اس علاقے کا نام لیاقت آباد ہے مگر یہاں کسی کو لیاقت کے لفظی معنی نہیں پتہ اس لئے لیاقت یہاں دکھائی نہیں دیتی سوائے پر ہجوم ٹریفک دوکانوں فٹ پاتھوں پر چیزیں
فروخت کرنے والوں اور خریداروں کا رش ،راہ گیروں کے چلنے کی جگہ تک نہیں چھوڑی جاتی ،اور ہر طرف انسانی سروں کے جو زیادہ تر بسوں
پر لٹکے موٹر سائیکلوں پر اور بے ہنگم ٹریفک کا حصہ نظر آرہے ہوتے ہیں ۔اہم نامور شخصیات کے نام پر بہت سی سڑکیں بھی پائی جاتی ہیں اور ان میں ایسے نام کی سٹرک یا روڈ دیکھ کر بھی حیرت کا جھٹکا بھی لگتا ہے کہ جنہوں نے ایسا زندگی میں کوئی کام یا تیر نہیں مارا ہوتا جس کی وجہ سے انکے نام شہر کا روڈ یا سڑک کی جائے۔
کینیڈا کے موسم کا کوئی بھروسا نہیں کہتے ہیں یہاں سال کے چھ موسم ہوتے ہیں، جن میں تین وہ ہیں جن کا کوئی بھروسا نہیں! یہاں موسم کی پیش گوئی دیکھ کر گھر سے نکلنا بھی ایک طرح کا امتحان ہے۔ صبح سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو تو آدمی سوچتا...
ہم امریکہ ،کینیڈا ، یورپ میں دیکھتے ہیں کہ (Senior Citizens) سینئر شہریوں کو بیکار یا معاشرے پر بوجھ نہیں سمجھا جاتا۔ شاپنگ مال ہوں، بڑے اسٹور ہوں یا سپر مارکیٹوں کی کیشئر جابز، ہر جگہ بڑی عمر کے مرد اور خواتین کام کرتے دکھائی دیتے ہیں بعض خواتین تو ایئرلائنز میں بھی ائیرہوسٹس کے...
کینیڈا اور امریکہ کا تعلق ساس بہو والا ہوگیا ہے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جنگل کی آگ کا ساس بہو سے کیا تعلق؟ مگر عالمی سیاست پر نظر ڈالیں تو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ بعض ممالک کے تعلقات بھی ہمارے معاشرے کے ساس بہو کے رشتے سے ملتے جلتے ہیں۔ بہو...
مشرقِ وسطی کی موجودہ صورتحال پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خطے میں ایک بڑی جنگ ہوگی یا حالات جلد معمول پر آ جائیں گے، کیونکہ عالمی سیاست میں بیانات، فیصلے اور سفارتی حکمت عملیاں لمحوں میں بدل جاتی ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پورا خطہ اس وقت...