دنیا کی سیاسی تاریخ میں سڑک صرف سفر کا راستہ نہیں رہی، کئی مواقع پر یہی سڑک عوامی طاقت، احتجاج اور سیاسی مطالبات کے اظہار کا سب سے بڑا میدان بھی بنی۔ کبھی ہزاروں لوگ کسی قانون کے خلاف سڑکوں پر نکلے، کبھی کسی حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے دارالحکومت کا رخ کیا اور کبھی شہری حقوق کے لیے میلوں پیدل سفر کیا۔ وقت کے ساتھ یہ احتجاجی مارچ سیاسی تاریخ کا حصہ بنتے گئے۔آج پاکستان میں ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی بات ہو رہی ہے، لیکن اس اصطلاح کی اپنی ایک تاریخ ہے، جس کی سب سے مشہور مثال چین کا وہ سفر ہے جسے دنیا لانگ مارچ کے نام سے جانتی ہے۔1934 میں چین کی خانہ جنگی کے دوران چینی کمیونسٹ فورسز کو قوم پرست حکومت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا تھا۔ کمیونسٹ جنگجووں نے اپنے مضبوط علاقوں سے نکل کر شمال مغربی چین کی طرف طویل پسپائی اختیار کی۔ یہ سفر اکتوبر 1934 سے اکتوبر 1935 تک جاری رہا اور تقریبا 6 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا گیا۔ راستے میں دریا اور پہاڑی سلسلے عبور کیے گئے اور ہزاروں جنگجو اس سفر میں جان سے گئے۔ بعد میں یہی واقعہ ماوزے تنگ اور چینی کمیونسٹ تحریک کی تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا۔یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ چین کا اصل لانگ مارچ سیاسی احتجاج نہیں بلکہ ایک فوجی پسپائی اور نقل مکانی تھی۔ لیکن بعد کی دنیا میں لانگ مارچ کی اصطلاح سیاسی احتجاج، عوامی دباو اور حکومت تک مطالبات پہنچانے کے لیے استعمال ہونے لگی۔اس سے کہیں پہلے بھی دنیا میں بڑے احتجاجی مارچ ہو چکے تھے۔ برصغیر میں مہاتما گاندھی کا 1930 کا نمک مارچ اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ گاندھی نے برطانوی نمک قانون کے خلاف سابرمتی آشرم سے ڈانڈی تک تقریبا 240 میل کا سفر کیا۔ یہ مارچ عدم تشدد پر مبنی سول نافرمانی کی تحریک کا حصہ تھا اور راستے میں اس میں لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ بعد میں نمک قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہوئیں۔یعنی مارچ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا نام نہیں تھا؛ یہ اپنے مطالبے کو عوام کے سامنے رکھنے اور حکومت پر سیاسی دباو بڑھانے کا ایک ذریعہ بھی بن چکا تھا۔1963 میں امریکا میں مارچ آن واشنگٹن فار جابز اینڈ فریڈم نے دنیا کو ایک اور مثال دی۔ 28 اگست 1963 کو تقریبا ڈھائی لاکھ افراد واشنگٹن پہنچے۔ ان کا بنیادی مطالبہ سیاہ فام امریکیوں کے شہری اور معاشی حقوق سے متعلق تھا۔ اسی اجتماع میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے اپنی مشہور I Have a Dream تقریر کی۔ امریکی نیشنل آرکائیوز کے مطابق یہ مارچ پرامن رہا اور شہری حقوق کی تحریک کی تاریخ میں اہم واقعہ ثابت ہوا۔1965 میں امریکا ہی میں سیلما سے منٹگمری تک ہونے والے مارچوں نے ووٹ کے حق کی تحریک کو نمایاں کیا۔ تین مارچوں پر مشتمل اس تحریک کا مقصد سیاہ فام امریکیوں کے حقِ رائے دہی میں حائل رکاوٹوں کے خلاف احتجاج تھا۔ امریکی نیشنل آرکائیوز کے مطابق یہ تحریک بالآخر Voting Rights Act 1965 کی منظوری کی جانب اہم پیش رفت کا باعث بنی۔دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے مارچ مختلف مقاصد کے لیے ہوتے رہے، لیکن پاکستان میں لانگ مارچ کی اصطلاح نے ایک الگ سیاسی معنی اختیار کیا۔ یہاں یہ عموما اپوزیشن یا کسی احتجاجی گروہ کی جانب سے دارالحکومت کی طرف پیش قدمی، بڑے اجتماع یا دھرنے کے لیے استعمال ہونے لگی۔پاکستان میں اسلام آباد کی جانب بڑے سیاسی احتجاج کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ 4 اور 5 جولائی 1980 کو شیعہ برادری نے زکو اور عشر آرڈیننس کے خلاف اسلام آباد کا رخ کیا۔ مفتی جعفر حسین کی قیادت میں مظاہرین نے وفاقی سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کیا، جس کے بعد حکومت نے شیعہ شہریوں کو سرکاری زکوہ سے استثنا دینے کا اعلان کیا۔1989 میں نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے اسلام آباد کا رخ کیا۔ مقصد جنرل ضیا الحق کی پہلی برسی کے موقع پر فیصل مسجد میں اجتماع میں شرکت تھا۔ حکومت نے ابتدا میں دارالحکومت کو بند کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم بعد میں مظاہرین کو داخلے کی اجازت دی گئی اور اجتماع کے بعد احتجاج پرامن طور پر ختم ہوگیا۔1992 میں بے نظیر بھٹو نے 1990 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کرتا گیا اور بالآخر صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت برطرف کردی، اگرچہ سپریم کورٹ نے بعد میں حکومت بحال کردی۔ اگلے سال جولائی 1993 میں بے نظیر بھٹو نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کیا۔ اس بحران کا اختتام صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے استعفوں پر ہوا۔2007 اور 2009 کی وکلا تحریک نے بھی لانگ مارچ کو پاکستانی سیاست میں نمایاں رکھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی کے بعد وکلا کی ملک گیر تحریک شروع ہوئی۔ 2008 میں وکلا نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا، جبکہ مارچ 2009 میں نواز شریف کی قیادت میں ججز کی بحالی کے مطالبے پر اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی گئی۔ 2009 میں حکومت کی جانب سے ججوں کی بحالی کے اعلان کے بعد لانگ مارچ واپس لیا گیا۔اس کے بعد پاکستان میں لانگ مارچ اور دھرنا ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے چلے گئے۔ 2013 میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے لاہور سے اسلام آباد مارچ کیا اور دارالحکومت میں دھرنا دیا۔ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے دیے۔ پی ٹی آئی کا دھرنا 126 دن جاری رہا اور 17 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد ختم کیا گیا۔ پی ٹی آئی کا مطالبہ 2013 کے انتخابات کے آڈٹ اور وزیراعظم نواز شریف کے استعفے سمیت مختلف نکات پر مشتمل تھا۔2017 میں تحریک لبیک پاکستان نے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیا، جو 20 سے زائد روز جاری رہا۔ اسی طرح 2019 میں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کراچی سے اسلام آباد تک مارچ کیا، جو 31 اکتوبر کو دارالحکومت پہنچا اور وہاں 13 روزہ دھرنا دیا گیا۔2022 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی سے عوامی مارچ شروع کیا۔ یہ مارچ 34 شہروں اور قصبوں سے گزرتا ہوا 8 مارچ کو اسلام آباد پہنچا۔ اس طرح کراچی سے اسلام آباد تک سیاسی مارچ ایک مرتبہ پھر قومی سیاسی منظرنامے کا حصہ بنا۔یہ تمام مثالیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ کسی کا مطالبہ مذہبی نوعیت کا تھا، کسی کا انتخابی اصلاحات سے تعلق تھا، کسی کا عدلیہ کی بحالی سے، کسی کا حکومت کی تبدیلی سے اور کسی کا کسی خاص سیاسی رہنما یا جماعت کے مطالبات سے۔ بعض مارچ مذاکرات پر ختم ہوئے، بعض دھرنوں میں تبدیل ہوئے، بعض کے دوران حکومتوں نے فیصلے کیے اور بعض اپنے مطالبات کی مکمل تکمیل کے بغیر ختم ہوگئے۔ اس لیے ہر لانگ مارچ کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنا تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔اصل سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ سیاست میں اتنا مثر طریقہ کیوں بن گیا؟اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ، عدالت، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے بعد سڑک عوامی طاقت کے اظہار کا براہ راست میدان بن جاتی ہے۔ جب بڑی تعداد میں لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو حکومت کے لیے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف دارالحکومت کی طرف بڑھنے والا مارچ انتظامیہ، پولیس اور حکومت کے لیے امن و امان، ٹریفک، شہری زندگی اور سیاسی آزادیوں کے درمیان توازن کا سوال بھی پیدا کرتا ہے۔اسی لیے دنیا کی سیاسی تاریخ میں مارچ دو مختلف پہلوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ایک طرف گاندھی کا عدم تشدد، واشنگٹن مارچ اور سیلما جیسے مارچ ہیں، جہاں شہری یا سیاسی حقوق کے مطالبات سامنے آئے؛ دوسری طرف ایسے مارچ بھی گزرے جنہوں نے حکومتوں کے لیے شدید سیاسی بحران پیدا کیے۔پاکستان میں اب ایک بار پھر 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی تاریخ سامنے ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی سمیت مطالبات کے لیے احتجاج اور مارچ کا اعلان کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں 22 ستمبر سے 5 اکتوبر تک رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے سرکاری وسائل یا سرکاری مشینری استعمال نہ کی جائے۔یوں ماوزے تنگ کے چین سے شروع ہونے والی لانگ مارچ کی اصطلاح، گاندھی کے ڈانڈی مارچ، واشنگٹن اور سیلما کی شہری حقوق کی تحریکوں سے گزرتی ہوئی پاکستان میں ایک الگ سیاسی مفہوم اختیار کرچکی ہے۔ چین کا لانگ مارچ ایک فوجی پسپائی تھا، گاندھی کا مارچ نوآبادیاتی قانون کے خلاف عدم تشدد کی مزاحمت، امریکا کے مارچ شہری حقوق کی جدوجہد اور پاکستان کے لانگ مارچ زیادہ تر حکومت اور سیاسی نظام پر دبا ڈالنے کی صورت اختیار کرتے رہے ہیں۔تاریخ کا سبق شاید یہی ہے کہ مارچ صرف قدموں کی تعداد یا طے کیے گئے فاصلے کا نام نہیں۔ اس کی اصل اہمیت اس مطالبے، عوامی شرکت، سیاسی ماحول اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں میں ہوتی ہے۔ پاکستان میں 27 ستمبر کا مارچ بھی اسی طویل عالمی اور ملکی روایت کا ایک نیا باب ہوگا، جس کا سیاسی اور انتظامی پس منظر وقت کے ساتھ واضح ہوگا۔
جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کی گونج سرحدوں سے نکل کر بازاروں، بندرگاہوں، تیل کے کنوں، فیکٹریوں، دکانوں اور عام آدمی کے گھر تک پہنچتی ہے۔ ایک میز پر بیٹھے چند طاقتور ملک جب جنگ کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات ان لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں جنہوں...
دنیا اس وقت متعدد جنگوں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی زد میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، روس اور یوکرین جنگ اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد اب تائیوان کا معاملہ عالمی سیاست میں ایک اہم اور حساس مسئلے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ چین اور تائیوان کے...
مودی حکومت کی ہٹ دھرمی نے بھارتی جمہوریت کو کہاں لا کھڑا کیا؟ جمہوریت کی خوبصورتی اختلافِ رائے میں ہوتی ہے، لیکن جب اختلاف کو جرم اور احتجاج کو بغاوت سمجھ لیا جائے تو پھر جمہوریت صرف آئین کے صفحات تک محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے...
15 جولائی 2016 کی رات ترکیہ کی جدید تاریخ کی سب سے فیصلہ کن راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک فوجی بغاوت کی ناکام کوشش نہیں تھی بلکہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے ریاست، سیاست، فوج، عدلیہ، میڈیا اور عوام کے باہمی تعلقات کو نئی شکل دے دی۔ اس واقعے کو آج...