ادبی دنیا بھی عجیب تماشہ گاہ ہے۔ یہاں کبھی غزل وزن سے باہر نکل جاتی ہے، کبھی شاعر اصولوں سے، اور کبھی تعلقات ادب کی حدود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ کتابیں کم پڑھی جائیں تو شاید کسی کو زیادہ تشویش نہیں ہوتی، لیکن اگر کسی بااثر شخصیت کی محفل میں حاضری کم ہو جائے تو بعض اوقات ادبی مستقبل ضرور خطرے میں پڑ جاتا ہے!
یہاں ایک نئی طرز کی سرپرستی بھی پروان چڑھ رہی ہے، جسے طنزیہ طور پر ادبی شوگر ڈیڈی یا شوگر ممی کہا جا سکتا ہے۔ یعنی ایسی صاحبِ حیثیت یا بااثر شخصیت جو دولت، عہدے، تعلقات، تقریبات، میڈیا رسائی یا سماجی اثرورسوخ کے ذریعے کسی مخصوص شاعر یا گروہ کی ادبی پرواز کو غیر معمولی سہارا فراہم کرے۔
کسی کو ہر مشاعرے میں مائیک ملتا ہے، کسی کو مستقل پہلی صف کی کرسی، کسی کو ہر تقریب میں خصوصی دعوت، کسی کو تعریفی سند، کسی کو تحفہ، اور کسی کو سوشل میڈیا پر ہر دوسرے دن عظیم شاعر، بے مثال ادیب اور عہد ساز شخصیت جیسے خطابات۔
بس ایک چھوٹی سی شرط ہوتی ہے:شکرگزاری میں کمی نہیں ہونی چاہیے!یہاں شوگر سے مراد صرف پیسہ نہیں۔ کبھی دعوت شوگر ہوتی ہے، کبھی پروٹوکول، کبھی معاوضہ، کبھی سفارشی تعارف، کبھی مستقل اسٹیج، اور کبھی وہ تعریف جس کا حجم شاعر کے پورے دیوان سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔
شوگر ممی بھی پیچھے نہیں
شوگر ممی کا کردار بھی کسی طور کم دلچسپ نہیں۔ تعلقات، وسائل اور اثرورسوخ اگر ہاتھ میں ہوں تو کسی کو ادبی آسمان پر پہنچانے کے لیے صنفِ ادب بدلنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی؛ صرف تعلق کی نوعیت بدلنا کافی ہوتا ہے۔پہلے زمانے میں کسی نوجوان شاعر کی مدد کو سرپرستی، حوصلہ افزائی اور ادبی خدمت کہا جاتا تھا۔ آج بعض جگہ یہی معاملہ خصوصی تعلق، قربت یا اپنائیت کے خوب صورت ناموں میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔
مسئلہ سرپرستی کا نہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سرپرستی فن سے بڑی اور تعلق قابلیت سے طاقتور ہو جائے۔کسی نوجوان شاعر کا ہاتھ تھامنا، اسے مشاعرے کا موقع دینا، اس کی کتاب شائع کروانے میں مدد کرنا یا اس کی صلاحیت کو سامنے لانا یقینا قابلِ احترام عمل ہے۔ لیکن اگر مدد کے بدلے وفاداری، موقع کے بدلے خوشامد، اور سرپرستی کے بدلے خاموشی مطلوب ہو تو پھر یہ ادب کی خدمت نہیں رہتی، مفادات کی شراکت داری بن جاتی ہے۔
جب شعر نہیں، تعلق پڑھا جائے
ایسے ماحول میں سب سے پہلے شعر بے روزگار ہوتا ہے۔
مشاعرے میں شاعر سے پہلے اس کا تعلق دیکھا جاتا ہے۔ شعر سننے سے پہلے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ شاعر کس حلقے سے تعلق رکھتا ہے۔ داد شعر کو نہیں، شخصیت کو ملتی ہے۔ اور تنقید؟
وہ غریب صرف ان لوگوں کے لیے بچتی ہے جن کے پاس نہ شوگر ڈیڈی ہو، نہ شوگر ممی!
پھر ایک سوال بہت ضروری ہو جاتا ہے:اگر کسی شاعر کی مقبولیت مسلسل کسی دوسرے کی جیب، سفارش یا تعلق کے سہارے کھڑی ہو تو اس کے اپنے فن کا وزن آخر کتنا رہ جاتا ہے؟
شاید اتنا ہی جتنا بغیر ہوا کے غبارے کا!
واہ واہ بھی اپنی، بے داد بھی اپنی
ادبی گروپ بندی کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اپنے حلقے کا شاعر معمولی سا شعر کہے تو مشاعروں میں اور سوشل میڈیاپر واہ واہ کے ڈونگرے برسنے لگتے ہیں۔ شعر میں نہ خیال کی تازگی، نہ زبان کی گرفت، نہ تشبیہ میں ندرت، نہ مصرعے میں جانمگر داد ایسی جیسے میر و غالب ایک ہی مشاعرے میں دوبارہ تشریف لے آئے ہوں!اور اگر کوئی غیر متعلق شاعر واقعی عمدہ شعر کہہ دے؟
اچانک محفل پر ایسی خاموشی اترتی ہے جیسے کسی نے شعر نہیں، گروہی مفادات پر فردِ جرم پڑھ دی ہو۔
نہ واہ، نہ تبصرہ، نہ حوصلہ افزائی۔
صرف مصنوعی سنجیدگی!
تالیاں بھی شاید گروپ کی منظوری کی منتظر ہوتی ہیں۔
یہ کیسی ادبی دیانت ہے کہ شعر کا معیار شاعر کے گروپ سے طے ہو؟ اگر واہ واہ تعلق دیکھ کر ملے اور بے داد دشمنی دیکھ کر، تو پھر یہ ادبی ذوق نہیں، ادبی گروہ بندی کا باقاعدہ نظام ہے۔
*بکاو مسندیں
اور بعض شوگر ڈیڈی و ممی صرف شاعر نہیں بناتے، مشاعروں کی مسندیں بھی محفوظ کروا دیتے ہیں۔
جہاں صدارت فن سے ملنی چاہیے، وہاں تعلق اپنا حق جتاتا ہے۔ جہاں مہمانِ خصوصی بننے کے لیے ادبی خدمات درکار ہونی چاہییں، وہاں کبھی سرپرستی کا ہاتھ پہلے ہی کرسی پر رکھا ہوتا ہے۔پھر اسٹیج پر بیٹھا شخص اپنی مسند کو ادبی مقام سمجھنے لگتا ہے، جبکہ نیچے بیٹھا حقیقی اہلِ قلم سوچتا رہ جاتا ہے:آخر شعر کم پڑ گیا تھا یا جیب؟
کیونکہ جب مشاعرے کی مسند قابلیت کے بجائے تعلق، دولت یا اثرورسوخ سے طے ہونے لگے تو کرسی ضرور مل جاتی ہے، مگر مقامِ ادب نہیں ملتا۔
کرسی پر بیٹھنے سے آدمی صدرِ محفل تو بن سکتا ہے،
صدرِ ادب نہیں۔
*ادبی دربار اور درباری شاعر
مسئلہ صرف شوگر ڈیڈی یا شوگر ممی کا نہیں۔ اصل مسئلہ ان درباروں کا بھی ہے جہاں چند مخصوص چہرے مستقل درباری بن جاتے ہیں۔
وہی محفل، وہی لوگ، وہی داد، وہی تصاویر، وہی تعریفی جملے، وہی سوشل میڈیا پوسٹس اور وہی ایک دوسرے کی عظمت کے قصیدے۔
آج فلاں عہد کا بڑا شاعر ہے، کل وہی صاحب کسی اور کو ادب کا ستون قرار دے رہے ہیں۔
بس شرط یہ ہے کہ دونوں ایک ہی دائرے میں کھڑے ہوں۔
باہر کا شاعر خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، دروازے پر کھڑا رہتا ہے۔
ادب میں دروازے اگر قابلیت کے بجائے تعلق سے کھلنے لگیں تو پھر ادبی دنیا اور دربار میں فرق باقی نہیں رہتا۔
قلم کو کفیل نہیں، کردار چاہیے
نوجوان شاعر کے لیے سب سے خطرناک چیز غربت نہیں، اپنی شناخت کسی دوسرے کے سہارے گروی رکھ دینا ہے۔آج کسی کی گاڑی میں بیٹھ کر مشاعرہ مل سکتا ہے، کسی کے تعلق سے اسٹیج مل سکتا ہے، کسی کی سفارش سے تعارف مل سکتا ہے، کسی کی دولت سے کتاب چھپ سکتی ہے؛ مگر یہ سب چیزیں مل کر بھی عظیم ادب نہیں بنا سکتیں۔
کتاب چھپ سکتی ہے،
نام چھپایا نہیں جا سکتا۔
تصویر لگ سکتی ہے،
فن نہیں لگایا جا سکتا۔
تعریف خریدی جا سکتی ہے،
ادبی تاریخ نہیں خریدی جا سکتی۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی شہرت اور حقیقی مقام ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں
آخری بات
شوگر ڈیڈی ہو یا شوگر ممی، شکر جتنی مرضی بانٹ لیجیے۔مشاعرے کی مسند جتنی مرضی محفوظ کروا لیجیے۔سوشل میڈیا پر جتنی مرضی تعریفیں لکھوا لیجیے۔ایک دوسرے کو جتنے مرضی عہد ساز، بے مثال اور عظیم کے تمغے عطا کر لیجیے۔مگر یاد رکھیے ادب کا اصل فیصلہ واہ واہ سے نہیں، وقت کرتا ہے۔وقت نہ سفارش پڑھتا ہے، نہ تعلق۔نہ دولت سے متاثر ہوتا ہے، نہ دربار سے۔وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ قلم نے کیا لکھا،فن نے کیا دیا،اور ادب میں کیا باقی چھوڑا۔آخرکار ایک سوال سامنے آ ہی جاتا ہے:تم نے ادب کو کیا دیا؟اس سوال کے سامنے نہ شوگر ڈیڈی کام آئے گا، نہ شوگر ممی، نہ خریدی ہوئی مسند، نہ مصنوعی واہ واہ۔وہاں صرف ایک چیز بولے گی:شاعر کا اپنا قلم۔
میسر ہے تجھ کو تدبر کی دولت
قلم سے تو فرحانہ تقسیم کرنا
اور اگر قلم کے پاس اپنا جواب نہ ہو تو پھر دنیا بھر کی شکر بھی اس کے لفظوں میں مٹھاس پیدا نہیں کر سکتی۔
کبھی سوچا تھا کہ ایک دن ہم اپنے موبائل کی اسکرین پر خود کو دیکھیں گے اور چند لمحوں کے لیے حیران رہ جائیں گے کہ یہ تصویر ہماری ہے یا ہمارے والدین کے زمانے کی؟ لیکن 2026 نے یہ حیرت بھی ممکن کر دکھائی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک دلچسپ اور تیزی...
ایک بچی جب دنیا میں آتی ہے تو وہ صرف ایک گھر کی بیٹی نہیں ہوتی، وہ پورے معاشرے کی امانت ہوتی ہے۔ اس کی ہنسی گھر کی رونق، اس کے خواب مستقبل کی امید اور اس کا محفوظ بچپن معاشرے کی تہذیبی صحت کی علامت ہوتا ہے۔ مگر جب یہی معصوم بچیاں جنسی تشدد...
برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا ساجد اثر کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے شہریوں کا اخلاق، برداشت اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کا ظرف ہوتا ہے۔...
دنیا سے یااپنے ملک و شہر سے چلے جانے کے بعد انسان معتبر اور اہم ہوجاتا ہے انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا جانتا تھا۔ کسی کی خوشی میں شریک ہونا، کسی کے غم میں سہارا بننا، کسی کی کامیابی پر داد دینا اور...