کبھی سوچا تھا کہ ایک دن ہم اپنے موبائل کی اسکرین پر خود کو دیکھیں گے اور چند لمحوں کے لیے حیران رہ جائیں گے کہ یہ تصویر ہماری ہے یا ہمارے والدین کے زمانے کی؟
لیکن 2026 نے یہ حیرت بھی ممکن کر دکھائی ہے۔
سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک دلچسپ اور تیزی سے مقبول ہونے والا رجحان لوگوں کو اچانک 1980 کی دہائی میں لے جا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار نہ کوئی ٹائم مشین ہے، نہ پرانا کیمرہ، نہ الماری میں رکھی ہوئی کئی دہائیوں پرانی پوشاک۔ صرف ایک موجودہ تصویر، مصنوعی ذہانت اور چند الفاظ کا ایک پرامپٹ۔
تصویر آج کی ہوتی ہے، چہرہ اپنا ہوتا ہے، مگر نتیجہ ایسا جیسے یہ تصویر 1985 کے کسی فوٹو اسٹوڈیو، فلمی رسالے یا خاندانی البم سے نکلی ہو۔
کسی کے بال 80 کے انداز میں گھنے اور بلند ہوجاتے ہیں، کسی کے لباس میں اس دور کی جھلک آجاتی ہے، کوئی بڑی عینک لگا کر پرانے فلمی ہیرو یا ہیروئن کا روپ دھار لیتا ہے اور کوئی یوں دکھائی دیتا ہے جیسے ابھی ابھی کسی پرانی شادی کی البم سے نکل کر سامنے آگیا ہو۔ AI صرف تصویر پر پرانا فلٹر نہیں لگاتا بلکہ لباس، بال، زیورات، پس منظر، روشنی اور تصویر کی پوری فضا کو اس دور کے مطابق ازسرنو تشکیل دے دیتا ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے 2026 کے انسان نے 1980 کا لباس پہن کر اپنی ہی یاد بنا لی ہو۔
یہ رجحان بظاہر ایک تفریح ہے، مگر اس کے پیچھے انسانی نفسیات کی ایک دلچسپ کہانی بھی چھپی ہوئی ہے۔
ان لوگوں میں ایک بڑی تعداد شاید ایسی ہے جو 80 کی دہائی میں پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے اس دور کو دیکھا نہیں، اس زمانے کے کیمرے استعمال نہیں کیے، کیسٹ پلیئر کے سامنے بیٹھ کر گیت ریکارڈ نہیں کیے، فلمی پوسٹر خرید کر دیواروں پر نہیں لگائے اور نہ ہی پرانی فیملی البم کے ہر صفحے کو کئی بار دیکھا۔
پھر آخر انہیں اس دور میں جانے کی خواہش کیوں ہے؟
شاید اس لیے کہ انسان صرف مستقبل کا خواب نہیں دیکھتا، کبھی کبھی وہ ایک ایسے ماضی کا بھی خواب دیکھتا ہے جسے اس نے خود دیکھا ہی نہیں۔
یہی AI کی نئی دنیا کا عجیب حسن ہے۔
آج کا نوجوان اپنی ایک سیلفی اپ لوڈ کرتا ہے اور کہتا ہے:
مجھے 1980 کی دہائی میں دکھا۔
اور مصنوعی ذہانت جواب دیتی ہے:
لیجیے، یہ رہی آپ کی پرانی تصویر!
بس چند لمحوں میں موجودہ چہرہ ایک پرانی دنیا کا کردار بن جاتا ہے۔
کسی کو 80 کے کلاسک بال چاہیے، کسی کو ونٹیج ساڑھی، کسی کو چوڑے کالر والی قمیض، کسی کو بڑے چشمے اور کسی کو پرانے فلمی اسٹوڈیو کا پس منظر۔ کچھ لوگ خود کو پرانے خاندانی البم، شادی کی تقریب، کالج کے زمانے یا فلمی میگزین کے سرورق جیسی تصویر میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
اور پھر وہ تصویر سوشل میڈیا پر آتی ہے۔
ایک دوست کہتا ہے،
ارے! آپ تو واقعی 80 کی دہائی کے لگ رہے ہیں!
دوسرا پوچھتا ہے،
یہ اصلی تصویر ہے؟
اور تیسرا فورا اپنی تصویر بنانے کے لیے AI کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے۔
یوں ایک تصویر دوسری تصویر کو جنم دیتی ہے اور ایک شخص دوسرے کو اس ٹرینڈ میں شامل کرلیتا ہے۔
یہ صرف AI کا ٹرینڈ نہیں، اجتماعی یادداشت کا ڈیجیٹل کھیل بھی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 80 کی دہائی کی اپنی ایک بہت مضبوط بصری شناخت ہے۔ شوخ رنگ، بڑے بال، نمایاں زیورات، مخصوص لباس، فلمی انداز، نرم روشنی، پرانی فلم کا دانہ دار تاثر اور اسٹوڈیو فوٹوگرافی یہ سب عناصر چند لمحوں میں تصویر کو 80s بنا دیتے ہیں۔
مگر اصل کشش صرف لباس اور بال نہیں۔
اصل کشش احساس ہے۔
پرانی تصویر میں ایک ٹھہرا محسوس ہوتا ہے۔ اس میں وہ بے عیب پن نہیں جو آج کی ڈیجیٹل تصویروں میں نظر آتا ہے۔ تھوڑی سی دھندلاہٹ، ہلکا سا فلم گرین، روشنی کا معمولی فرق اور رنگوں کی وہ کیفیت جو تصویر کو بالکل حقیقی ماضی کا حصہ محسوس کراتی ہے۔
شاید اسی لیے لوگ اپنی انتہائی صاف، روشن اور جدید موبائل تصاویر کو جان بوجھ کر ایسی تصاویر میں تبدیل کررہے ہیں جن میں خامیاں بھی خوبصورتی بن جاتی ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی ہے۔
ہم نے ایسی ٹیکنالوجی بنائی جو ہر چیز کو زیادہ واضح کرسکتی ہے، اور اب اسی ٹیکنالوجی سے ہم اپنی تصویروں میں ماضی کی دھند پیدا کررہے ہیں۔
ہم HD سے Vintage کی طرف جارہے ہیں۔
ہم حقیقت سے یاد کی طرف جارہے ہیں۔
اور شاید یہ صرف اتفاق نہیں۔
آج کی زندگی بہت تیز ہے۔ تصویر بنتی ہے، فورا شیئر ہوتی ہے، چند گھنٹوں بعد نئی تصویر آجاتی ہے اور پرانی تصویر نیچے چلی جاتی ہے۔ ہر شخص اپنے بہترین زاویے، بہترین روشنی اور بہترین چہرے کے ساتھ دنیا کے سامنے آنا چاہتا ہے۔
لیکن 80 کی AI تصویر ہمیں ایک مختلف قسم کی خوشی دیتی ہے۔
وہ ہمیں پرفیکٹ نہیں بلکہ مختلف بناتی ہے۔
ہم اپنے آپ کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے ہماری زندگی کا کوئی ایسا باب بھی ہوسکتا تھا جو حقیقت میں کبھی لکھا ہی نہیں گیا۔
یہی تو AI کی سب سے دلچسپ طاقت ہے:
یہ صرف ہماری تصویر نہیں بدلتا، یہ ہماری کاش کو بھی تصویر بنا دیتا ہے۔
کاش میں 1980 میں جوان ہوتا!
کاش میری بھی اس زمانے کی ایک تصویر ہوتی!
کاش میں اس دور کے فیشن میں کسی اسٹوڈیو میں کھڑا ہوتا!
AI کہتا ہے:
کاش کیوں؟ لیجیے، بنا لیجیے۔
اور شاید اسی ایک جملے میں اس پورے ٹرینڈ کی مقبولیت چھپی ہوئی ہے۔
یہ رجحان دنیا کے مختلف حصوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور عام صارفین کے ساتھ معروف شخصیات بھی اس ریٹرو لہر میں شامل ہو رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سیاست دانوں اور عوامی شخصیات کی 80 کے انداز والی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
لیکن یہاں ایک سوال بھی ضروری ہے۔
کیا ہم واقعی 80 کی دہائی کو یاد کررہے ہیں یا صرف اس کا ایک خوبصورت، مصنوعی اور منتخب کردہ تصور بنا رہے ہیں؟
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر زمانہ صرف خوبصورت نہیں ہوتا۔ ہر دور کے اپنے مسائل، مشکلات، پابندیاں اور تلخیاں ہوتی ہیں۔ AI ہمیں ماضی کا وہ رخ دکھاتا ہے جسے ہم دیکھنا چاہتے ہیںخوبصورت لباس، خوبصورت چہرے، خوبصورت روشنی اور خوبصورت یادیں۔
مگر شاید انسان کو کبھی کبھی ایسی مصنوعی یادوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
زندگی میں ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی؛ کچھ چیزیں تخیل کی خوبصورتی بھی ہوتی ہیں۔
آج اگر کوئی 2026 کی تصویر کو 1985 میں تبدیل کرکے خوش ہوتا ہے تو اسے صرف ایک فیشن ٹرینڈ کہہ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اس بات کا اظہار بھی ہوسکتا ہے کہ جدید انسان، جدید ترین ٹیکنالوجی کے بیچ رہتے ہوئے، ماضی کی سادگی، اس کے رنگ اور اس کے
جذبات سے ایک لمحے کے لیے دوبارہ جڑنا چاہتا ہے۔
اور شاید یہی اس ٹرینڈ کا سب سے خوبصورت پہلو ہے.
*80 کے ٹرینڈ کے مخالفین :
اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو 80 کی دہائی کے اس AI ٹرینڈ کو محض فضول مشغلہ یا وقت کا ضیاع اور بے کار تصاویر قرار دے رہے ہیں، تو شاید انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر نئی چیز کو اپنی پسند یا ناپسند کے پیمانے سے ناپنا ضروری نہیں۔ کسی کے لیے یہ چند لمحوں کی تفریح ہے، کسی کے لیے تخلیقی اظہار، اور کسی کے لیے ایک ایسے دور کو محسوس کرنے کا موقع جسے اس نے شاید کبھی دیکھا ہی نہیں۔
اگر ایک شخص اپنی تصویر کو 80 کے رنگ میں ڈھال کر خوش ہوتا ہے تو اس خوشی پر اعتراض کیوں؟ ہر تصویر کو مقصد، فلسفے اور منطق کی کسوٹی پر پرکھنا بھی ضروری نہیں۔ کبھی کبھی زندگی میں چند لمحوں کی بے ضرر خوشی بھی اپنی جگہ ایک خوبصورت ضرورت ہوتی ہے۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ اس ٹرینڈ کو غیر ضروری سمجھ کر اس کے خلاف سب سے زیادہ گفتگو کر رہے ہیں، وہ بھی بالآخر اسی ٹرینڈ کو مزید موضوعِ گفتگو بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں کسی رجحان کو نظرانداز کرنا ممکن ہے، مگر اسے مسلسل تنقید کا موضوع بنانا اسے مزید نمایاں ضرور کر دیتا ہے۔
سو اگر کسی کو 80 کی دہائی کا یہ ڈیجیٹل سفر پسند نہیں تو وہ اسے نظرانداز کرسکتا ہے؛ مگر دوسروں کی خوشی کو روکنے کے بجائے اپنی پسند کی دنیا میں رہنا زیادہ خوبصورت رویہ ہے۔
آخر یہ صرف ایک تصویر ہے، کوئی جرم نہیں؛ ایک تخیل ہے، کوئی حقیقت پر حملہ نہیں۔
آپ کو پسند نہیں تو نہ بنائیے، مگر جسے پسند ہے اسے مسکرانے دیجیے۔
اختتام اس بات سے کہ مصنوعی ذہانت نے ہمیں ماضی واپس نہیں دیا، مگر ماضی کا ایک خوبصورت خواب ضرور دے دیا ہے۔
آج ہماری تصویر 2026 کی ہے، موبائل جدید ہے، دنیا ڈیجیٹل ہے، زندگی تیز رفتار ہے۔
مگر تصویر کے اندر اچانک 1980 آجاتا ہے۔
اور ہم چند لمحوں کے لیے خود کو دیکھتے ہیں
ایک ایسے زمانے میں جو ہمارا تھا بھی نہیں،
مگر تصویر نے اسے ہمارا بنا دیا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج 80 کی دہائی صرف واپس نہیں آئی
وہ AI کے ذریعے ہماری اپنی تصویروں میں اتر آئی ہے۔
ایک بچی جب دنیا میں آتی ہے تو وہ صرف ایک گھر کی بیٹی نہیں ہوتی، وہ پورے معاشرے کی امانت ہوتی ہے۔ اس کی ہنسی گھر کی رونق، اس کے خواب مستقبل کی امید اور اس کا محفوظ بچپن معاشرے کی تہذیبی صحت کی علامت ہوتا ہے۔ مگر جب یہی معصوم بچیاں جنسی تشدد...
برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا ساجد اثر کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے شہریوں کا اخلاق، برداشت اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کا ظرف ہوتا ہے۔...
دنیا سے یااپنے ملک و شہر سے چلے جانے کے بعد انسان معتبر اور اہم ہوجاتا ہے انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا جانتا تھا۔ کسی کی خوشی میں شریک ہونا، کسی کے غم میں سہارا بننا، کسی کی کامیابی پر داد دینا اور...
نیشنل میڈیافاونڈیشن کے وفد کا سندھ اور پنجاب کا دورہ دورانِ سفر انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ سفر انسان کا بہترین استاد ہے۔ یہ نہ صرف نئی جگہوں، ثقافتوں اور لوگوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ انسان کی سوچ، برداشت اور تجربات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ہر سفر زندگی کا ایک نیا سبق دے...