سچ بولنے والے سے سبھی توڑ کے رشتے
جھوٹے کی طرف بڑھتے قدم دیکھ رہا ہوں
نظام نوشاہی سنبھلی
ہمیں سچ سے کوئی خاص دشمنی نہیں، بس شرط یہ ہے کہ سچ ہمارے خلاف نہ ہو۔
ہم سچائی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، محفلوں میں حق گوئی کے قصے سناتے ہیں، ادب میں اعلیٰ اقدار کی بات کرتے ہیں، مگر جونہی کوئی شخص ہمارے بنائے ہوئے مصنوعی احترام، تعلقات یا شہرت کے پردے کو ذرا سا ہٹاتا ہے، ہمیں سچ نہیں، سچ بولنے والا برا لگنے لگتا ہے۔
یہی ہمارے ادبی اور سماجی رویوں کا سب سے تلخ المیہ ہے۔
ادب کا بنیادی کام سوال اٹھانا تھا، مگر ہم نے سوال کرنے والے ہی سے سوال کر ڈالا۔
لفظوں کو معاشرے کا آئینہ ہونا تھا، مگر بعض آئینے اب صرف وہی چہرے دکھاتے ہیں جنہیں دیکھنے کی اجازت ہو۔
جو تعریف کرے، وہ صاحبِ ذوق۔
جو ہر محفل میں واہ واہ کرے، وہ مخلص۔
جو طاقتور ادبی گروہ کے ساتھ کھڑا ہو، وہ معتبر۔
اور جو کہہ دے کہ بادشاہ کے لباس میں کچھ کمی ہے، وہ بدتمیز، حسد کرنے والا، منفی سوچ کا حامل اور ادب دشمن!
کمال یہ ہے کہ یہاں قابلیت سے زیادہ تعلق پہچانا جاتا ہے اور تخلیق سے زیادہ تعلقات کی تشہیر۔
کتاب کتنی اچھی ہے، اس سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہ مصنف کے تعلقات کس سے ہیں۔
شاعر کا شعر کیسا ہے، اس سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس محفل میں بیٹھتا ہے۔
کسی ادیب کی پذیرائی اس کی تحریر سے زیادہ اس بات سے وابستہ ہوجاتی ہے کہ اس کے گرد کتنے بااثر لوگ کھڑے ہیں۔
اور پھر ہم بڑے اطمینان سے کہتے ہیں:
ادب کا معیار گر رہا ہے۔
معیار خود نہیں گرتا، اسے گرایا جاتا ہے۔
جب اہلِ قلم کی جگہ خوشامدی لے لیں، جب تنقید کی جگہ تالیاں لے لیں، جب میرٹ کی جگہ تعلقات لے لیں اور جب سچ بولنے کی قیمت تنہائی بن جائے تو معیار کا زوال کوئی حادثہ نہیں رہتا، وہ ایک اجتماعی انتخاب بن جاتا ہے۔
ہمیں سچ بولنے کی عادت ہے کیا کریں بولتے رہیں گے
قدم قدم پر ہے آزمائش کہ سہل یہ مرحلہ نہیں ہے
عذرا نقوی
ادبی محفلیں کبھی فکر، شعور اور مکالمے کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔
آج بعض محفلوں میں شعر کم اور ایک دوسرے کی تعریف زیادہ سنائی دیتی ہے۔
کتابوں سے زیادہ مشاعرے اہم ہوگئی ہیں
تخلیق سے زیادہ تشہیر اہم ہوگئی ہے۔
اور کبھی کبھی ادب سے زیادہ ادبی تعلقات اہم دکھائی دیتے ہیں۔
یہ منظر کسی ایک شخص یا ایک ادارے کا نہیں؛ یہ ایک رویے کی بات ہے۔
ہر وہ شخص جو قلم اٹھاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ سچ بھی لکھے۔
اور ہر وہ شخص جو خاموش ہے، ضروری نہیں کہ وہ کمزور ہو۔
کچھ لوگ اس لیے خاموش ہوتے ہیں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیا جائے گا۔
یہاں پہلے گروہ بنے گا، پھر فیصلہ ہوگا۔
پہلے کردار پر بات ہوگی، پھر تحریر پر۔
پہلے نیت مشکوک قرار دی جائے گی، پھر سوال کا جواب تلاش کیا جائے گا۔
اور اگر پھر بھی سچ اپنی جگہ قائم رہا تو کہا جائے گا:
“یہ شخص تو ہمیشہ مسئلہ پیدا کرتا ہے۔”
نہیں صاحب!
کبھی کبھی مسئلہ پیدا کرنے والا شخص نہیں ہوتا، مسئلہ پہلے سے موجود ہوتا ہے؛ وہ صرف اسے نمایاں کرتا ہے۔
سچ بولنے والا زخم نہیں دیتا، زخم پر سے پٹی ضرور ہٹا دیتا ہے۔
اور پٹی ہٹتے ہی تکلیف محسوس ہو تو اس کا الزام آئینے کو نہیں دیا جاسکتا۔
ہم نے خوشامد کو محبت کا نام دے دیا ہے۔
جو ہماری تعریف کرے، ہم اسے اپنا سمجھتے ہیں۔
جو ہماری اصلاح کرے، ہم اس سے دور ہوجاتے ہیں۔
یہ انسانی کمزوری ضرور ہے، مگر ادبی معاشرے کے لیے خطرناک کمزوری ہے۔
کیونکہ ادب اگر بھیڑ کا حصہ بن جائے تو پھر وہ ادب نہیں رہتا، صرف اجتماعی خوش فہمی رہ جاتا ہے۔
قلم کا کام کسی کی کرسی مضبوط کرنا نہیں۔
قلم کا کام کسی کی شہرت کے غبارے میں ہوا بھرنا نہیں۔
قلم کا کام تالیاں حاصل کرنا بھی نہیں۔
قلم کا کام سوال کرنا ہے۔
قلم کا کام پردے ہٹانا ہے۔
قلم کا کام وہاں بولنا ہے جہاں باقی سب خاموش ہوں۔
اور یہی وجہ ہے کہ سچا قلم اکثر تنہا دکھائی دیتا ہے۔
اس کے پاس شاید بڑے بڑے ناموں کی قطار نہ ہو، مگر اس کے پاس ایک چیز ضرور ہوتی ہے:
اپنے ضمیر کے سامنے سر اٹھانے کی طاقت۔
ادبی دنیا کو سب سے زیادہ نقصان اختلاف سے نہیں، جعلی اتفاقِ رائے سے پہنچتا ہے۔
جب سب ایک دوسرے کو عظیم کہتے رہیں، کوئی کسی سے سوال نہ کرے، کوئی کسی کی کمزوری کی نشاندہی نہ کرے، کوئی معیار کی بات نہ کرے تو بظاہر ماحول بہت خوشگوار رہتا ہے۔
مگر اسی خوشگوار خاموشی کے اندر ادب دم توڑ رہا ہوتا ہے۔
تنقید دشمنی نہیں۔
اختلاف توہین نہیں۔
سوال بغاوت نہیں۔
اور ہر وہ شخص جو آپ سے متفق نہیں، آپ کا دشمن نہیں۔
کبھی کبھی آپ کا سب سے قیمتی نقاد وہی ہوتا ہے جو آپ کی تعریف کے بجائے آپ کی کمزوری بتاتا ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ تنقید دلیل کے ساتھ ہو، ذاتی انتقام کے ساتھ نہیں۔
سچائی کا مطلب کسی کی تذلیل نہیں؛ سچائی کا مطلب حقیقت کو حقیقت کہنے کا حوصلہ ہے۔
اسی طرح بے باکی کا مطلب بدتمیزی نہیں؛ بے باکی کا مطلب یہ ہے کہ انسان مفاد کے دباؤ میں اپنے الفاظ کا گلا نہ گھونٹے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم مزید بڑے بڑے ادبی دعوے کریں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویوں کا احتساب کریں۔
ہم خود سے پوچھیں:
کیا ہم واقعی اچھے شعر کی تعریف کرتے ہیں یا صرف اپنے دوست کا شعر پسند کرتے ہیں؟
کیا ہم واقعی اچھی تحریر پڑھتے ہیں یا صرف معروف ناموں کے سامنے سر جھکاتے ہیں؟
کیا ہم واقعی میرٹ چاہتے ہیں یا اپنے لوگوں کے لیے راستہ؟
کیا ہمیں سچ چاہیے یا صرف اپنی تعریف؟
یہ سوالات تلخ ہیں۔
مگر شاید یہی تلخی ہماری ضرورت ہے۔
کیونکہ معاشرے اس وقت نہیں بدلتے جب سب ایک دوسرے کی تعریف کر رہے ہوں۔
معاشرے اس وقت بدلتے ہیں جب کوئی شخص کھڑا ہو کر کہتا ہے:
“یہ درست نہیں ہے۔”
اور پھر دوسروں کی ناراضی کے باوجود اپنی بات دلیل اور کردار کے ساتھ ثابت کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا—
سچ بولنے والے کو بدنام کرکے سچ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
تنقید کرنے والے کو خاموش کرکے خامی ختم نہیں ہوتی۔
آئینہ توڑ دینے سے چہرہ خوبصورت نہیں ہوجاتا۔
اور تالیاں بجوانے سے کوئی شخص بڑا ادیب نہیں بن جاتا۔
وقت ہر مصنوعی قد کا حساب کرتا ہے۔
جو لوگ لفظوں کے سہارے خود کو بڑا ثابت کرتے ہیں، انہیں ایک دن اپنے ہی لفظوں کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
اس لیے سچ بولنے والے سے ناراض ہونے کے بجائے کبھی اپنے آپ سے بھی سوال کیجیے۔
ممکن ہے مسئلہ اس کی زبان میں نہ ہو۔
ممکن ہے مسئلہ وہ حقیقت ہو جسے آپ سننا نہیں چاہتے۔
اور شاید اسی لیے—
ہمیں سچ سے نہیں،
سچ بولنے والے سے مسئلہ ہے۔
ساغراس دور میں رکھ حوصلہ سچ کہنے کا
کیونکہ سچ بولنےوالے تھے یہاں خوار بہت
غلام عباس ساغر
کبھی سوچا تھا کہ ایک دن ہم اپنے موبائل کی اسکرین پر خود کو دیکھیں گے اور چند لمحوں کے لیے حیران رہ جائیں گے کہ یہ تصویر ہماری ہے یا ہمارے والدین کے زمانے کی؟ لیکن 2026 نے یہ حیرت بھی ممکن کر دکھائی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک دلچسپ اور تیزی...
ایک بچی جب دنیا میں آتی ہے تو وہ صرف ایک گھر کی بیٹی نہیں ہوتی، وہ پورے معاشرے کی امانت ہوتی ہے۔ اس کی ہنسی گھر کی رونق، اس کے خواب مستقبل کی امید اور اس کا محفوظ بچپن معاشرے کی تہذیبی صحت کی علامت ہوتا ہے۔ مگر جب یہی معصوم بچیاں جنسی تشدد...
برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا ساجد اثر کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے شہریوں کا اخلاق، برداشت اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کا ظرف ہوتا ہے۔...
دنیا سے یااپنے ملک و شہر سے چلے جانے کے بعد انسان معتبر اور اہم ہوجاتا ہے انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا جانتا تھا۔ کسی کی خوشی میں شریک ہونا، کسی کے غم میں سہارا بننا، کسی کی کامیابی پر داد دینا اور...