پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جس کی معاشی اہمیت آنے والے برسوں میں مزید بڑھنے والی ہے۔ دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی معاشی ترجیحات، نئی منڈیاں، وسیع قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے امکانات نے افریقہ کو عالمی معیشت کے اہم مراکز میں شامل کردیا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط کو محض سفارتی تعلقات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے عہدیداروں کا روانڈا اور ایتھوپیا کا دورہ خصوصی اہمیت اختیار کرگیا۔ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے پیٹرن ان چیف سفیر حامد اصغر خان ، چیئرمین ڈاکٹر شہباز علی ملک اورراقم الحروف(سیکریٹری جنرل شیخ راشد عالم ) اس دورے میں شامل تھے۔ دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتیں، اقتصادی فورمز، کاروباری رابطے اور معاہدے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اور افریقہ کے درمیان تعلقات کو نئی اقتصادی سمت دینے کی کوششیں اب صرف بات چیت تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر آگے بڑھ رہی ہیں۔
پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارتی تعاون کے معاہدے کو اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیگالی میں منعقدہ روانڈا پاکستان انویسٹمنٹ فورم 2026 میں پاکستان کے ہائی کمشنر نعیم خان نے اس معاہدے کو دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات میں اہم سنگ میل قرار دیا۔ معاہدے کے تحت تجارت، سرمایہ کاری، نجی شعبے کے تعاون، تجارتی سہولت کاری اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے ایک وسیع فریم ورک سامنے آیا ہے۔
یہاں اصل اہمیت صرف اس بات کی نہیں کہ پاکستان اور روانڈا کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ ہوا ہے، بلکہ اس کے پیچھے موجود معاشی تصور زیادہ اہم ہے۔ پاکستان کے لیے روانڈا محض ایک افریقی منڈی نہیں بلکہ مشرقی افریقہ تک رسائی کے ایک ممکنہ دروازے کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ روانڈا اپنی جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے وسیع تر مشرقی افریقی اور افریقی منڈیوں کے ساتھ کاروباری رابطوں کے لیے ایک مرکز بننے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستانی کمپنیوں کے لیے یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ افریقہ میں قدم رکھنے والی کمپنی کو صرف ایک ملک کی منڈی نہیں بلکہ پورے خطے کے امکانات کو سامنے رکھنا ہوگا۔
ہائی کمشنر نعیم خان نے بھی اسی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیا تجارتی فریم ورک پاکستان کو مشرقی افریقہ سے مزید قریب کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تعاون روایتی درآمدات اور برآمدات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی، جدت اور علاقائی سپلائی چین تک پھیلنا چاہیے۔
پاکستان کے لیے یہ سوچ اس لیے بھی اہم ہے کہ ہماری صنعت کو نئی منڈیوں، نئی سرمایہ کاری اور نئے کاروباری شراکت داروں کی ضرورت ہے۔ ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، ادویات، زرعی مصنوعات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے جسے افریقی مارکیٹوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب افریقی ممالک کے پاس زرعی اجناس، معدنی وسائل، نئی منڈیاں اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ دونوں خطوں کی ضروریات اور صلاحیتوں کا یہ امتزاج باہمی اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
روانڈا انویسٹمنٹ فورم میں زراعت، زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، آئی ٹی، سیاحت، صحت، تعلیم، لاجسٹکس، ای کامرس اور ڈیجیٹل معیشت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے امکانات سامنے آئے۔ پاکستانی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات پیش کیں اور روانڈا کے کاروباری حلقوں کے ساتھ بی ٹو بی اور حکومتی سطح پر رابطے کیے۔
پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے وفد کی موجودگی بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ سفیر حامد اصغر خان، ڈاکٹر شہباز علی ملک، راقم الحروف(شیخ راشد عالم ) چیئرمین سینیٹ کی مشیر اور انٹر پارلیمنٹری سپیکرز کانفرنس کی سفیر مصباح کھر، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن اور پاکستان افریقہ ہاوس کی سرپرست ڈاکٹر روبینہ ملک سمیت دیگر کاروباری و نجی شعبے کے نمائندوں کی شرکت نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان میں افریقہ کے ساتھ اقتصادی روابط کے لیے ایک وسیع حلقہ دلچسپی رکھتا ہے۔ فورم میں پاکستان کے نجی شعبے کی شرکت نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ افریقہ کے ساتھ معاشی تعلقات کو آگے بڑھانے میں حکومت کے ساتھ کاروباری برادری کا کردار بنیادی ہوگا۔
روانڈا کے بعد ایتھوپیا کا رخ بھی اس پورے سفر کا ایک اہم پہلو ہے۔ ادیس ابابا میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل اور نائل گروپ افریقہ کے درمیان اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اسی وسیع تر اقتصادی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اور افریقہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور سرحد پار کاروباری روابط کو بڑھانے کے لیے ایسے معاہدے مستقبل میں عملی منصوبوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
ادیس ابابا میں ایتھوپیا کی وزارت خارجہ کے اسٹیٹ منسٹر آف فارن افیئرز سفیر برہانو تسیگائے سے پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے وفد کی ملاقات بھی اسی حوالے سے قابل ذکر ہے۔ وفد کی قیادت پیٹرن ان چیف سفیر حامد اصغر خان نے کی جبکہ سیکریٹری جنرل شیخ راشد عالم بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ایسی ملاقاتیں سرکاری سطح کے روابط کو کاروباری اور سرمایہ کاری کے امکانات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ایتھوپیا افریقہ کے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ادیس ابابا افریقی یونین کا مرکز بھی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے ایتھوپیا کے ساتھ اقتصادی روابط صرف دوطرفہ تجارت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے براعظم کے ساتھ رابطوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے لیے ایتھوپیا میں ہونے والی ملاقاتیں اسی وسیع تر اقتصادی سفارت کاری کا حصہ ہیں۔
پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا بھر میں روایتی سفارت کاری کے ساتھ اقتصادی سفارت کاری
کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آج سفارتی تعلقات کا ایک بڑا پیمانہ یہ بھی ہے کہ دو ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کتنی تجارت کرتے ہیں، کتنی سرمایہ کاری آتی ہے، کتنے مشترکہ منصوبے بنتے ہیں، کتنی ٹیکنالوجی منتقل ہوتی ہے اور نجی شعبے کے درمیان کتنے مستقل روابط قائم ہوتے ہیں۔
پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا کردار اسی جگہ نمایاں ہوتا ہے۔ کونسل پاکستان کے کاروباری حلقوں کو افریقی ممالک کے سرمایہ کاروں، حکومتوں، چیمبرز اور نجی شعبے سے جوڑنے کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس طرح کے روابط محض سرکاری بیانات تک محدود رہنے کے بجائے کاروباری نتائج اور مشترکہ معاشی منصوبوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ روانڈا میں ہونے والی سرگرمیوں نے اس سمت میں ایک عملی مثال پیش کی ہے۔ پاکستان اور روانڈا کے درمیان معاہدہ نجی شعبے کے اداروں، چیمبرز آف کامرس اور روانڈا پرائیویٹ سیکٹر فیڈریشن کے درمیان روابط کو بڑھانے کے لیے بھی ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ روانڈا اور پاکستان کے درمیان تجارت کے موجودہ حجم میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ حالیہ فورم میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات زیر بحث آئے، جبکہ پاکستانی کمپنیوں کے لیے زرعی مشینری، تعمیرات، مہمان نوازی، صحت، تعلیم، ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں مواقع کی نشاندہی کی گئی۔
معاہدوں کے بعد اصل مرحلہ ان امکانات کو عملی شکل دینے کا ہے۔ تجارتی معاہدوں، کاروباری رابطوں اور سرمایہ کاری کے فریم ورک کے نتیجے میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے روانڈا اور مشرقی افریقہ میں نئی منڈیاں کھلنے، مشترکہ صنعتی منصوبوں کو فروغ ملنے اور پاکستانی مصنوعات کی افریقی مارکیٹوں تک رسائی میں اضافہ ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ اسی طرح افریقی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
پاکستان کے لیے افریقہ کی طرف دیکھنے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ نئی نسل کے کاروبار، خصوصا آئی ٹی، ڈیجیٹل سروسز، ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنیاں، روایتی جغرافیائی حدود سے آگے بڑھ کر عالمی منڈی میں جگہ بنا سکتی ہیں۔ افریقہ کی نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ اس شعبے میں روابط بڑھنے سے دونوں جانب نوجوان کاروباری افراد اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
ڈاکٹر شہباز علی ملک، راقم الحروف اور سفیر حامد اصغر خان کی قیادت میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے اس دورے کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک وفد کا دورہ نہیں بلکہ پاکستان کے کاروباری حلقوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش بھی ہے کہ افریقہ کو محض دور کا براعظم سمجھنے کے بجائے ایک ممکنہ تجارتی، سرمایہ کاری اور شراکت داری کے خطے کے طور پر دیکھا جائے۔
روانڈا سے ایتھوپیا تک ہونے والی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان اور افریقہ کے درمیان اقتصادی تعاون کے امکانات
وسیع ہیں۔ مستقل ادارہ جاتی رابطوں، کاروباری وفود، مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری سہولت کاری اور باقاعدہ فالو اپ کے ذریعے ان امکانات کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ یہی عمل پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو ایک نئے مرحلے میں داخل
کرنے میں مدد دے گا۔
پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا وفد واپس پہنچے گا تو اس کے پاس صرف دورے کی یادیں نہیں بلکہ ملاقاتوں، معاہدوں اور رابطوں کا ایک ایسا تجربہ بھی ہوگا جسے پاکستان کے کاروباری حلقوں تک منتقل کیا جاسکتا ہے۔ ان رابطوں کے تسلسل سے پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے افریقی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ افریقی سرمایہ کاروں کے لیے بھی پاکستان میں کاروباری شراکت داری کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔ یہی اقتصادی سفارت کاری کا اصل مقصد ہے کہ سفارتی روابط کو عملی معاشی تعاون، سرمایہ کاری اور باہمی کاروباری فائدے میں تبدیل کیا جائے۔
افریقہ کی معیشت آنے والے برسوں میں عالمی کاروبار کے لیے مزید اہم ہونے والی ہے۔ پاکستان کے لیے افریقہ میں مواقع موجود ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مواقع کو منظم، مستقل اور موثر حکمت عملی کے ذریعے کاروباری نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ روانڈا اور ایتھوپیا کا یہ دورہ اسی بڑے مقصد کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے لیے یہ سفر پاکستان کے صنعت کاروں، برآمد کنندگان، سرمایہ کاروں اور نوجوان کاروباری افراد کو افریقہ کی ابھرتی ہوئی منڈیوں سے جوڑنے کے عمل کو مزید آگے بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس سے پاکستان اور افریقہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور عالمی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، محض ایک ایرانی سفارت کار کا بیان نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظام کے بارے میں اٹھنے والے ایک بڑے سوال کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ آج دنیا کے مختلف...
مکہ مکرمہ صرف سعودی عرب کا ایک شہر نہیں، یہ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والا مسلمان جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے۔ حج اور عمرہ کے لیے مکہ پہنچنے والا ہر شخص اپنے ساتھ...
سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب کردیا ہے۔ چند سیکنڈ میں ایک خبر، تصویر، ویڈیو یا تبصرہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ جدید دور کی ایک بڑی سہولت بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ معلومات تک فوری رسائی نے جہاں لوگوں کو باخبر...
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی...