جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کی گونج سرحدوں سے نکل کر بازاروں، بندرگاہوں، تیل کے کنوں، فیکٹریوں، دکانوں اور عام آدمی کے گھر تک پہنچتی ہے۔ ایک میز پر بیٹھے چند طاقتور ملک جب جنگ کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات ان لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں جنہوں نے نہ جنگ شروع کی ہوتی ہے، نہ اس کا مطالبہ کیا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کے فیصلے میں شریک ہوتے ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے بھی یہی حقیقت ایک بار پھر سامنے رکھ دی ہے۔ اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا کی ایگزیکٹو سیکریٹری رانیا المشاط نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک ایسا عدد پیش کیا ہے جو صرف ایک معاشی اعدادوشمار نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے پہلے ہی ماہ عرب معیشتوں کو تقریبا 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، جو خطے کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا 4 فیصد بنتا ہے۔150 ارب ڈالر کو اگر صرف ایک رقم سمجھ کر نظر انداز کردیا جائے تو شاید اس کی سنگینی محسوس نہ ہو۔ لیکن اس رقم کے پیچھے بندرگاہوں پر رکے ہوئے جہاز، مہنگا ہوتا ایندھن، متاثر ہوتی تجارت، تاخیر کا شکار سرمایہ کاری، خوراک کی سپلائی اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کے مسائل موجود ہیں۔ جنگ کا اصل معاشی نقصان اکثر بم گرنے کے بعد نہیں بلکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کاروبار کا پہیہ سست پڑنے لگتا ہے۔یہاں اصل مسئلہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی نہیں بلکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستے ہیں۔ دنیا کی معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ خلیج میں پیدا ہونے والا تیل صرف خلیجی ممالک کی ضرورت نہیں، وہ ایشیا، یورپ اور دنیا کے دوسرے حصوں کی صنعتوں، بجلی گھروں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی چلاتا ہے۔ اسی طرح خوراک، کھاد، گیس اور دوسری اشیا بھی انہی سمندری راستوں سے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہیں۔رانیا المشاط نے سلامتی کونسل میں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ خلیج سے آبنائے ہرمز اور وہاں سے باب المندب کے راستے بحیرہ احمر تک سمندر، آبنائیں اور بندرگاہیں ایک مربوط نظام کا حصہ ہیں۔ ان کے بقول، اگر اس سلسلے کی ایک کڑی بھی متاثر ہوتی ہے تو پوری زنجیر متاثر ہوجاتی ہے۔یہ بات سمجھنے کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت جاننا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس راستے سے عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریبا 25 فیصد اور ایل این جی کی عالمی تجارت کا تقریبا 19 فیصد گزرتا ہے۔ خلیجی ممالک امونیا، کھاد، گندھک اور ایلومینیم سمیت متعدد اہم اشیا کے بڑے برآمد کنندگان بھی ہیں۔ اس لیے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ صرف تیل کی قیمت تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات صنعت، زراعت، بجلی اور خوراک تک پہنچ سکتے ہیں۔دنیا نے اس صورتحال کی ایک جھلک پہلے بھی دیکھی ہے۔ جب سمندری راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، سفر کا وقت بڑھتا ہے، انشورنس مہنگی ہوتی ہے اور سامان کی ترسیل پر اضافی اخراجات آتے ہیں۔ یہ اضافی خرچ آخرکار صارف تک پہنچتا ہے۔ یعنی عالمی سطح پر ہونے والی ایک جنگ کا بوجھ کسی دور دراز ملک کے ایک عام شہری کو مہنگے پٹرول، مہنگی خوراک یا مہنگی اشیا کی صورت میں برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب وہ ممالک پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہوں۔ رانیا المشاط کے مطابق امریکا ایران جنگ سے پہلے ہی 22 عرب ممالک میں سے 9 ممالک جنگ یا جنگ کے بعد کے حالات سے گزر رہے تھے۔ ان ممالک میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ چکا ہے، حکومتوں کے مالی وسائل محدود ہیں اور کئی ممالک خوراک اور ایندھن کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک نئی علاقائی جنگ معاشی دبا کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔عرب دنیا کی معیشتوں نے گزشتہ برسوں میں تیل پر انحصار کم کرنے اور معیشت کے دوسرے شعبوں کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے سیاحت، ٹیکنالوجی، صنعت، سرمایہ کاری اور خدمات کے شعبوں میں بڑے منصوبے شروع کیے ہیں۔ لیکن جنگ اور مسلسل غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کے فیصلوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
سرمایہ کاری کو صرف پیسہ نہیں چاہیے، اسے اعتماد بھی چاہیے۔ کوئی سرمایہ کار ایسے خطے میں طویل مدتی منصوبہ لگانے سے پہلے کئی بار سوچے گا جہاں اہم سمندری راستہ بند ہونے کا خطرہ ہو، جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہو یا توانائی کی ترسیل غیر یقینی ہو۔ اسی لیے رانیا المشاط نے کہا کہ جنگ خطے میں سرمایہ کاری کو مزید تاخیر کا شکار کرسکتی ہے۔لیکن اس بحران کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے اکثر جنگی خبروں میں نظر انداز کردیا جاتا ہے، اور وہ ہے عام انسان۔ایک بڑے ملک کے لیے اربوں ڈالر کا نقصان شاید اعدادوشمار کی ایک سطر ہو، لیکن ایک چھوٹے کاروباری شخص کے لیے دکان بند ہونا، ایک مزدور کے لیے روزگار ختم ہونا یا ایک غریب خاندان کے لیے خوراک اور ایندھن کی قیمت بڑھ جانا زندگی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ جنگ کے معاشی اثرات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ کمزور معیشتیں اور کم آمدنی والے طبقے زیادہ تیزی سے متاثر ہوتے ہیں۔
اسی لیے اقوام متحدہ کے اجلاس میں سمندری راستوں کی حفاظت کو صرف فوجی معاملہ نہیں بلکہ معاشی اور انسانی مسئلہ بھی قرار دیا گیا۔ حالیہ سلامتی کونسل اجلاس میں اقوام متحدہ کے حکام نے بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے عالمی توانائی، خوراک اور تجارت کو متاثر کیا ہے اور جہاز رانی کی بحالی عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے۔
یہاں پاکستان کا معاملہ بھی اہم ہوجاتا ہے۔ پاکستان خود خلیج اور بحیرہ عرب کے قریب واقع ہے اور اپنی توانائی اور تجارت کے ایک بڑے حصے کے لیے سمندری راستوں پر انحصار کرتا ہے۔ اگر خلیج میں بحران طویل ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی ضروریات رکھنے والے ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ تیل مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹ سے لے کر بجلی اور صنعت تک لاگت بڑھتی ہے۔ درآمدی اشیا مہنگی ہوں تو مہنگائی کا دبا بڑھ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران صرف عرب ممالک کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا، یورپ اور افریقا کے لیے بھی اہم ہے۔ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں پاکستان نے بھی عالمی سمندری راستوں کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان بھی براہ راست متاثر ہوا ہے۔ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی حل کی کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
دنیا کے سامنے اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوگا یا سفارت کاری اسے محدود کرسکے گی؟
جنگ شروع کرنا شاید نسبتا آسان ہو، لیکن اسے روکنا ہمیشہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب ایک تنازع کئی ملکوں، کئی سمندری راستوں اور عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہو۔ ایک میزائل صرف ایک عمارت کو نقصان پہنچاتا ہے، لیکن سمندری راستے میں رکاوٹ پوری سپلائی چین کو متاثر کرسکتی ہے۔
رانیا المشاط نے بحران سے نمٹنے کے لیے تین بنیادی اقدامات پر زور دیا ہے۔ ان میں بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری راستوں کو محفوظ رکھنا، جنگ میں مزید شدت کو روکنا اور اس کے سرحد پار معاشی و انسانی اثرات کم کرنا، جبکہ علاقائی ممالک کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا شامل ہے۔
یہ تینوں نکات دراصل موجودہ بحران کا بنیادی سبق بھی بیان کرتے ہیں۔ دنیا صرف اس وقت سمندری راستوں کی اہمیت محسوس نہ کرے جب کوئی جنگ انہیں خطرے میں ڈال دے۔ ان راستوں کی حفاظت عالمی معیشت کے معمول کے لیے مستقل ضرورت ہے۔
آج دنیا میں تجارت کا ایک بڑا حصہ سمندر کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایک بندرگاہ میں رکاوٹ دوسرے ملک کی فیکٹری کو متاثر کرسکتی ہے، ایک آبنائے میں بحران دوسرے ملک میں ایندھن مہنگا کرسکتا ہے اور ایک علاقائی جنگ دنیا کے غریب ترین طبقے تک اپنی قیمت پہنچا سکتی ہے۔
150 ارب ڈالر کا نقصان اسی حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے۔ یہ صرف عرب معیشتوں کا حساب نہیں، بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جدید دنیا کی معیشت کتنی باہم جڑی ہوئی ہے۔ جنگ کہیں بھی ہو، اس کا بل اکثر کہیں اور بھی ادا کیا جاتا ہے۔
اور شاید آج کے عالمی بحران کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جب جنگ کا فیصلہ طاقتور کرتے ہیں تو اس کی معاشی قیمت آخر کون ادا کرتا ہے؟
جواب ہمیں انہی بندرگاہوں، بازاروں اور گھروں میں ملتا ہے جہاں عام لوگ جنگ شروع کیے بغیر بھی اس کے اثرات برداشت کرتے ہیں۔
دنیا اس وقت متعدد جنگوں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی زد میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، روس اور یوکرین جنگ اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد اب تائیوان کا معاملہ عالمی سیاست میں ایک اہم اور حساس مسئلے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ چین اور تائیوان کے...
مودی حکومت کی ہٹ دھرمی نے بھارتی جمہوریت کو کہاں لا کھڑا کیا؟ جمہوریت کی خوبصورتی اختلافِ رائے میں ہوتی ہے، لیکن جب اختلاف کو جرم اور احتجاج کو بغاوت سمجھ لیا جائے تو پھر جمہوریت صرف آئین کے صفحات تک محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے...
15 جولائی 2016 کی رات ترکیہ کی جدید تاریخ کی سب سے فیصلہ کن راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک فوجی بغاوت کی ناکام کوشش نہیں تھی بلکہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے ریاست، سیاست، فوج، عدلیہ، میڈیا اور عوام کے باہمی تعلقات کو نئی شکل دے دی۔ اس واقعے کو آج...
دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ، ایک بیان یا ایک ٹویٹ اتنا وزن رکھتا ہے کہ وہ کئی برسوں کی سفارتی کوششوں کو نئی سمت دے دیتا ہے۔ حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں سے متعلق سامنے آنے والے بیانات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ...