جرمنی ایک ایسے سیاسی اور سماجی دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں بیک وقت دو مختلف مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے رجحانات نمایاں ہو رہے ہیں: ایک طرف انتہائی دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کا بڑھتا ہوا اثر، اور دوسری طرف ملک کی دفاعی پالیسی، فوجی تیاریوں اور اسلحہ سازی کے شعبے کا پھیلاو ، بظاہر یہ دونوں رجحانات الگ الگ دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن اگر انہیں ایک ہی تاریخی اور سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو جرمنی کے مستقبل کے بارے میں کئی سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
سیکسنی انہالٹ کے انتخابی نتائج نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست کیوں مضبوط ہو رہی ہے۔ یعنی AfD نے مہاجرت، مہنگائی، توانائی، جرمنی کی خارجہ پالیسی اور روس کے ساتھ تعلقات جیسے موضوعات کو اپنی سیاسی مہم کا اہم حصہ بنایا ہے۔ خاص طور پر یوکرین کی جنگ کے حوالے سے اس کا یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش رہی ہے کہ موجودہ جرمن حکومت جنگ کو طول دے رہی ہے جبکہ AfD مذاکرات اور روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہاں ہے۔
یہ بیانیہ ان جرمن شہریوں کے ایک حصے کو متاثر کر سکتا ہے جو جنگ، مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور جرمنی کے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات سے پریشان ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی سیاسی جماعت کے جنگ مخالف نعروں کو اس کے عملی سیاسی تعلقات اور معاشی مفادات سے الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے؟
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب پارٹی کے بعض ارکان کے دفاعی صنعت یا اسلحہ سازی سے متعلق مفادات اور روابط پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر ایک سیاسی قوت عوام کے سامنے خود کو امن، مذاکرات اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات کی علامت کے طور پر پیش کرے، لیکن اسی وقت اس کے بعض اہم حلقوں کے دفاعی صنعت کے مفادات سے روابط سامنے آئیں، تو اس تضاد کی سنجیدہ تحقیق ضروری ہو جاتی ہے۔
تاہم اس تضاد کو ثابت کرنے کے لیے محض سیاسی الزامات کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان روابط کی نوعیت کیا ہے، ان کا فیصلہ سازی پر کتنا اثر ہے، اور کیا ان سے پارٹی کی مجموعی پالیسی کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافتی تحقیق اور سیاسی پروپیگنڈے کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔
امریکی سیاست اور جرمنی کی دائیں بازو کی سیاست
جرمنی کی داخلی سیاست کو صرف جرمن حالات کے تناظر میں دیکھنا بھی شاید کافی نہیں۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی عروج اور یورپ کی مختلف انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کے ساتھ پیدا ہونے والی قربت نے یورپ کے سیاسی منظرنامے کو بھی متاثر کیا ہے۔
جرمنی میں AfD کے حوالے سے امریکی سیاسی حلقوں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی حمایت نے اس بحث کو مزید تیز کیا ہے۔ اگر امریکہ کی ایک بڑی سیاسی قوت جرمنی کی ایک ایسی جماعت کی حمایت کرتی ہے جسے جرمن سیاسی نظام میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے طور پر
دیکھا جاتا ہے، تو یہ محض جرمنی کا داخلی معاملہ نہیں رہتا۔ یہ یورپ اور امریکہ کے درمیان بدلتے ہوئے سیاسی تعلقات کا بھی حصہ بن جاتا ہے۔
یہاں یہ سوال اہم ہے کہ کیا ٹرمپ کے زیر اثر امریکی سیاست کا وہ رجحان جس میں قوم پرستی، مہاجرت مخالف سیاست اور روایتی سیاسی اداروں پر عدم اعتماد نمایاں ہے، جرمنی سمیت یورپ میں بھی مضبوط ہو رہا ہے؟
اگر ایسا ہے تو جرمنی میں AfD کی پیش قدمی کو محض ایک علاقائی انتخابی واقعہ سمجھنا شاید درست نہیں ہوگا۔
جنگ سے تھکا ہوا معاشرہ
روس اور یوکرین کی جنگ نے جرمنی کو محض خارجہ پالیسی کے مسئلے سے دوچار نہیں کیا۔ اس جنگ کے اثرات جرمن معاشرے کی روزمرہ زندگی تک پہنچے ہیں۔ توانائی کی قیمتیں، افراطِ زر، دفاعی بجٹ میں اضافہ، فوجی تیاریوں اور یورپ کی سلامتی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش نے عوام کے ایک حصے میں بے یقینی پیدا کی ہے۔
ایسے ماحول میں وہ سیاسی جماعت جو یہ کہے کہ وہ جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے، عوام کے ایک حصے میں مقبولیت حاصل کر سکتی ہے۔
لیکن امن کا نعرہ اور امن کی سیاست ایک ہی چیز نہیں۔ کسی جماعت کی اصل پالیسی کا اندازہ اس کے پورے سیاسی پروگرام، پارلیمانی فیصلوں، معاشی روابط اور عملی اقدامات سے ہونا چاہیے۔
دوسری طرف جرمنی کی عسکری سمت
اسی دوران جرمنی میں دفاعی اور عسکری صنعت کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ فوجی تنصیبات، دفاعی اخراجات اور اسلحہ سازی کے منصوبے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جرمنی سرد جنگ کے بعد کے اس دور سے نکل رہا ہے جس میں فوجی طاقت اس کی قومی سیاست کا نسبتا محدود موضوع تھی۔
Volkswagen کے Osnabrck پلانٹ سے متعلق حالیہ پیش رفت بھی اسی وسیع تر بحث میں اہم بن جاتی ہے۔ ایک طرف جرمنی کی روایتی صنعتی معیشت دباو میں ہے، دوسری طرف بعض صنعتی مقامات کے مستقبل کو دفاعی پیداوار سے جوڑنے کے امکانات زیر بحث ہیں۔
اگر کسی سابق آٹو موبائل پیداواری مقام کو دفاعی صنعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک فیکٹری کی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یہ اس سوال کو بھی جنم دے گی کہ جرمنی کی صنعتی پالیسی کس سمت بڑھ رہی ہے: کیا ملک اپنی روایتی شہری صنعت کو مضبوط کر رہا ہے، یا اس کی صنعتی صلاحیت کا ایک بڑھتا ہوا حصہ فوجی پیداوار کی طرف منتقل ہو رہا ہے؟
یہاں بھی ضروری ہے کہ Volkswagen، Osnabrck اور اسرائیلی کمپنی سے متعلق تمام تفصیلات کو دستاویزی شواہد سے الگ الگ جانچا جائے، کیونکہ اس معاملے میں کسی ایک کمپنی کی ملکیت، ممکنہ خریداری، دفاعی پیداوار اور مستقبل کے منصوبے کو ایک ہی دعوے میں سمیٹ دینا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔
دو خبریں، ایک بڑا سوال
سیکسنی انہالٹ میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی قوت کا مضبوط ہونا اور جرمنی میں دفاعی صنعت کے بڑھتے ہوئے کردار کو اگر ایک ہی تصویر میں رکھا جائے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے:
کیا جرمنی ایک ایسے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں معاشی بے یقینی، جنگ کا خوف، مہاجرت کے مسئلے اور قومی سلامتی کے نام پر بڑھتی ہوئی عسکریت ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں؟
یہ سوال خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو جرمنی میں خود کو اس ملک کا حصہ سمجھتے ہیں، خواہ ان کے خاندان کئی نسلوں سے یہاں رہتے ہوں یا وہ کسی دوسرے ملک سے ہجرت کر کے جرمنی آئے ہوں۔
انتہائی دائیں بازو کے عروج کا خوف صرف انتخابی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں۔ اس کا تعلق معاشرے میں اعتماد، اقلیتوں کے احساسِ تحفظ، جمہوری اقدار اور اس بنیادی سوال سے ہے کہ مستقبل کا جرمنی کس قسم کا ملک بننا چاہتا ہے۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
اصل خطرہ شاید صرف یہ نہیں کہ AfD جیسی جماعتیں زیادہ ووٹ حاصل کر رہی ہیں۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر مرکزی سیاسی جماعتیں بھی عوامی خوف، جنگی ماحول اور معاشی بحران کے دبا میں اپنی سیاست کو زیادہ قوم پرستانہ اور عسکری سمت میں لے جانے لگیں تو سیاسی منظرنامہ مجموعی طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایسی صورت میں ایک طرف انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں خود کو امن اور عوام کی نمائندہ قرار دے سکتی ہیں، جبکہ دوسری طرف مرکزی دھارے کی جماعتیں قومی سلامتی کے نام پر دفاعی اخراجات اور عسکری تیاریوں کو بڑھا سکتی ہیں۔
نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ جرمن معاشرہ بیک وقت دو متضاد نعروں کے درمیان پھنس جائے: امن کی خواہش اور جنگ کی تیاری۔
یہی تضاد آج جرمنی کے سیاسی مستقبل کا سب سے اہم سوال بن چکا ہے۔
جرمنی کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب معاشرہ خوف، معاشی بحران، جنگ اور سیاسی انتہاپسندی کے دبا میں ہو۔
اس لیے سیکسنی انہالٹ کے انتخابی نتائج ہوں یا جرمنی کی صنعتی تنصیبات کا مستقبل، انہیں الگ الگ واقعات سمجھنے کے بجائے ایک وسیع تر سوال کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے:
جرمنی اپنی صنعتی طاقت، اپنی خارجہ پالیسی اور اپنی جمہوری شناخت کو آخر کس سمت لے جا رہا ہے؟
اور اس سوال کا جواب صرف سیاست دان نہیں دیں گے۔ جرمنی کے عوام، اس کے میڈیا، اس کی سول سوسائٹی اور یہاں رہنے والے ہر شہری کو بھی اس بحث میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
پانی سے بجلی بنانا تو انسان نے بہت بعد میں سیکھا۔ دریا پر بند باندھ کر ڈیم بنانا اور اس سے نہریں نکالنا اور ساتھ ساتھ بجلی پیدا کرنا آج کے دور کے انسان کے لیے اب کچھ ایسا مشکل نہیں بلکہ ایٹمی توانائی کے دور میں تو یہ بھی ایک پرانی چیز ہو چکی...
برلن کا موسم پھر سے گلابی رضائی اوڑھے سردی کی جانب گامزن تھا، بزم ادب برلن نے ایک شعری نشست سجاکر ایک بار پھر سے جذبوں کی گرماہٹ کا احساس دیا۔ یہ شعری نشست برمنگھم انگلینڈ سے آئے مشہور شاعر فاروق نسیم کی برلن آمد پر اْن کے اعزازمیں ہی برپا کی گئی تھی۔ برلن...
برطانوی وزیر اعظم نے اپنے تعاون کا یقین دلائے بغیر گومگو رویہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت کے غیر جمہوری رویے پر تشویش ظاہر کی تیل کی بلند قیمتیں، گیس کی عدم دستیابی یورپ کے لیے ایک بہت سخت امتحان ہے۔ جس سے گزرنے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کسی حد تک بھی جا...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کینیا کا سفر نامہ۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈیٹر نوٹ کینیا کا سفر نامہ جرمنی میںمقیم پاکستان واچ کے کالم نگارسرور غزالی کی تحریرہے اس کالم میں انھوں نے کینیا کے سفر کے دوران پیش آنے والے تجربات کو خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔کالم کی طوالت کے باعث اس کو قسط وار شائع کیا جائے گا اس کالم میںایسٹ...