صحت اللہ تعالی کی ایک ایسی نعمت ہے جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے آپ نے سنا تو ہوگا کہ جان ہے تو جہان ہے آج کل سوشل میڈیا پر جو صحت کے حوالے سے کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ انسانی جانوں کے لیے بے حد خطرناک ہے کوئی مردانہ کمزوری پر کھیل رہا ہے تو کوئی امراض نسواں پر اپنے تجربے بتا رہا ہے تو کوئی کینسر کو بچوں کا کھیل سمجھ رہا ہے میری طرح میرے ایک بے حد اچھے دوست باعلم ، پیشے سے ایماندار ڈاکٹر عابد علی کا بھی دل جلتا ہے ۔
قارئین جانتے ہیں کہ میں قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ قائد ہومیوپیتھی بھی ہوں جو 30 سالوں سے ایک چیریٹی کلینک ارحمہ ہومیو کلینک نیو کراچی میں چلا رہا ہوں بے شمار لاعلاج مریضوں کو اللہ تعالی نے شفا عطا کی ہے اور کر رہا ہے مگر میں تو آج بھی اپنے آپ کو ایک طالب علم ہی سمجھتا ہوں نہ ہی میں نے کبھی کوئی چینل بنایا ہے میرے تمام قارئین سے بھی درخواست ہے کہ یوٹیوب وغیرہ پر جو ادویات بتائی جاتی ہیں بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے انہیں ہرگز استعمال نہیں کریں اپنی جانوں سے مت کھیلیں اب آپ دیکھیں کہ پمز ہسپتال میں آگ سے وہ نومولود جل کر مر گئے ہیں جن بچوں کے نام بھی نہیں رکھے گئے تھے 15 نو مولود بچے جھلس گئے قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی 15 میں سے ایک بچے کو ریسکیو کیا گیا ہے اسلام آباد کا یہ سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے والدین کا یہ سوال بجا ہے کہ انتظامیہ اور عملہ کدھر تھا بقول حافظ نعیم الرحمن کے درحقیقت پی ڈی ایم حکومت اور اتحادی جماعتوں کی کارکردگی بدترین ہے وفاقی حکومت اور اس کے وزرا و ماتحت بیوروکریسی کی نااہلی انتہا کو چھو رہی ہے صوبائی حکومتوں کا بھی یہی معاملہ ہے 40 ، 50 سال سے یہی جماعتیں حکومت کر رہی ہیں مگر یہ معیشت ، قیام امن تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبوں میں ناکام ہو چکے ہیں ان کے گڈ گورننس کے نعرے دفن ہو گئے جو لوگ مرکز میں ایک ہسپتال نہیں بنا سکتے وہ پورا ملک کیا سنبھالیں گے ابن آدم کہتا ہے یہ غم دراصل پوری قوم کا غم ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے بلکہ احتساب اور اصلاح میں بدلنے کی ضرورت ہے اب ہم آتے ہیں اپنے اصل موضوع پر جہاں سوشل میڈیا کے دور میں صحت کے شعبے سے متعلق ایک نہایت تشویش ناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے مختلف ایلوپیتھک ، ہومیوپیتھک اور طب مشرق سے وابستہ بعض افراد ایسی بیماریوں کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں جن کے علاج کے لیے باقاعدہ تشخیص ، مسلسل نگرانی ، جدید تشخیصی سہولیات اور بعض اوقات ہسپتال میں داخلے کی ضرورت ہوتی ہے کہیں یہ دعوی سامنے آتا ہے کہ ایک خوراک سے شوگر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ۔
کہیں چند دنوں میں کینسر جڑ سے ختم کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے کہیں تپ دق ، امراض قلب ، ڈینگی ، بچوں کے پیدائشی دل کے سوراخ یا بے اولادی کے مکمل علاج کی ضمانت دی جاتی ہے یہ طرز عمل طب نہیں بلکہ مریض کی امید اور مجبوری کے ساتھ خطرناک کھیل بن سکتا ہے ۔ ایک نام نہاد حکیم جو اپنے آپ کو ڈاکٹر بجلی کہتا ہے وہ صرف مردانہ کمزوری کے حوالے سے سادہ لوح انسانوں کی جان سے کھیل رہا ہے وہ قسم کھا کر جھوٹ بولتا ہے ایسے نام نہاد حکیموں سے عوام کو بچانا ہوگا میں آپ کو حقیقت بتاتا ہوں ذیابیطس ایک پیچیدہ میٹا بولک بیماری ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مریض ایک ہی طریقے سے زندگی بھر دوا لیتا رہے لیکن یہ ضرور ہے کہ علاج کا فیصلہ خون کے ٹیسٹ ، علامات ، پیچیدگیوں اور مجموعی طبی صورتحال کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے اسی طرح کینسر کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف اقسام کی بیماریوں کا مجموعہ ہے کینسر کی قسم ، اس کا مرحلہ ، جس میں پھیلا اور مریض کی عمومی حالت ، علاج کا تعین کرتی ہے ایسے میں کسی بھی شخص کو یقین دلانا کہ صرف ایک نسخے سے یا چند خوراک سے ہر قسم کا کینسر جڑ سے ختم ہو جائے گا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ دعوی ہے ۔ تک دو ، ڈینگی اور دل کے امراض میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے کچھ حالات میں تاخیر معمولی نہیں بلکہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے ۔ بچے کے دل کا سوراخ صرف دعوے سے بند نہیں ہوتا بچوں کے پیدائشی امراض میں خاص طور پر احتیاط کی ضرورت ہے ۔ دل میں سوراخ کی کئی اقسام اور درجات ہو سکتے ہیں لہذا ان نام نہاد ڈاکٹروں کے مشورے پر ہرگز نہ چلیں ۔ ڈینگی میں خود ساختہ علاج خطرناک ہو سکتا ہے ۔ طب میں کسی علاج کی کامیابی کا فیصلہ صرف ایک مریض کے ذاتی تجربے ، سوشل میڈیا کی ویڈیو ، تعریفوں یا ڈاکٹر کے ذاتی مشاہدے سے نہیں کیا جا سکتا اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ اس کے علاج سے سینکڑوں مریض ٹھیک ہوئے تو ایک ذمہ دار طبی معاشرے میں سوال یہ ہونا چاہیے ، بیماری کی تشخیص کس بنیاد پر ہوئی ؟ علاج سے پہلے اور بعد کے معروضی ٹیسٹ کیا تھے ؟ مریض کتنے عرصے فالو اپ میں رہا ؟ کتنے مریض علاج سے فائدہ نہیں اٹھا سکے ؟ کیا علاج کے نقصانات یا نا کامی کے نتائج بھی رپورٹ کیے گئے ؟ کیا اس دعوے کی آزادانہ تحقیق ہوئی ؟ کیا اس کے نتائج معتبر طبی شواہد سے ثابت ہوتے رہے ؟ صرف کامیاب کہانیاں ثبوت نہیں ہوتیں ۔ میں بحیثیت ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور قائد ہومیوپیتھی یہ سمجھتا ہوں کہ ہومیوپیتھی سے وابستہ ہر معالج کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم اور طریقہ علاج کو مریض کی جان اور صحت سے بالاتر نہ سمجھے ۔
اگر کسی مریض کو ایسی حالت لاحق ہو جس میں فوری تشخیص ، سرجری اینٹی مائیکرو بیل علاج ، انسولین ، کارڈیولوجیکل مداخلت ، کینسر کا باقاعدہ علاج یا ہسپتال کی نگرانی ضروری ہو تو مریض کو متعلقہ ماہرین یا ہسپتال ریفر کرنا ہی حقیقی طبی ذمہ داری ہے مریض کو ریفر کرنا ناکامی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ دیانت داری ہے ۔ ایک اچھا معالج وہ نہیں جو ہر بیماری کا علاج اپنے پاس ہونے کا دعوی کرے اچھا معالج وہ ہے جو جانتا ہو کہ کس مریض کا علاج خود کرنا ہے اور کس مریض کو بروقت سینیئر اسپیشلسٹ یا ہسپتال بھیجنا ہے ۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بعض معالج سوشل میڈیا پر یہ دعوے کرتے ہیں کہ فلاں خطرناک یا پیچیدہ بیماری ان کے نسخے سے چند دن میں ختم ہو گئی لیکن جب خود ان کو یا پھر ان کی فیملی میں کسی کو کوئی سنگین بیماری پیدا ہوتی ہے تو وہ بڑے بڑے ماہر ڈاکٹرز اور بڑے بڑے ہسپتالوں سے رجوع کرتے ہیں ۔
ابن آدم کہتا ہے مریض چاہے غریب ہو یا امیر اس سے ہمارا رشتہ پہلے انسانیت اور میڈیکل ذمہ داری کا ہے ۔ سوشل میڈیا کو تشخیصی کلینک نہ بنایا جائے ، صرف تصویر ، چند علامات یا مختصر ویڈیو دیکھ کر خطرناک بیماری کی تشخیص اور یقینی علاج بتانا مناسب طبی عمل نہیں ہے ۔
ابن آدم تمام ایلوپیتھک ڈاکٹرز ، ہومیوپیتھک ڈاکٹرز ، حکما اور صحت کے شعبے سے وابستہ تمام افراد سے گزارش کرتا ہے کہ ہم اپنے الفاظ کی طاقت کو سمجھیں ۔ مریض ہمارے لیے کہ ایک کیس نہیں بلکہ ایک قیمتی انسان ہے اس کی امید ، اس کی جمع پونجی ، اس کا خاندان اور اس کی زندگی ہمارے ایک غیر ذمہ دارانہ دعوے سے متاثر ہو سکتی ہے ۔ ہمیں مریض کو امید ضرور دینی چاہیے لیکن جھوٹی امید نہیں ۔
آخر میں اصل ڈاکٹروں کے لیے ابن آدم کی ایک خوبصورت نصیحت ۔
مریض کو بروقت صحیح جگہ پہنچانا بھی علاج کا اہم حصہ ہے میری نظر میں طب کی اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ ہم ہر بیماری کا علاج اپنے پاس ہونے کا دعوی کریں بلکہ اس میں ہے کہ ہم علم ، تحقیق ، دیانتداری ، اخلاق اور مریض کی جان کو اپنے مفاد سے مقدم رکھیں اور عوام بھی اشتہاری ڈاکٹروں سے بچیں اور ” شفا من جانب اللہ تعالی” پر کامل بھروسہ رکھیں ۔









