کراچی(ویب ڈیسک ) اپنی گاڑی یا ذاتی گھر کے خواب رکھنے والے شہر کے متوسط طبقے کے سیکڑوں افراد کو سوشل میڈیا کے ذریعے بیوقوف بناکر لوٹا جارہا ہے۔ایسے 10 شہریوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، گزری تھانے میں مقدمہ درج کرانے والے سید طحہٰ نواز نے بتایا کہ اپنی گاڑی لینا ان کا خواب تھا، ایک پرکشش اشتہار دیکھ کر وہ ڈیفنس میں قائم کمپنی کے دفتر پہنچے، مرضی کی پرانی گاڑی کی تفصیلات لے کر انہیں 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ پر گاڑی کا جھانسہ دیا گیا۔
بتائی گئی فرضی قیمت کا 20 فیصد وصول کرکے اسٹیمپ پیپرز پر ایگریمنٹ سائن کرایا گیا، 2 گارنٹرز بھی لیے گئے، 6 دن میں کیس کی منظوری اور گاڑی دینے کا جھانسہ دیا گیا، 5 دن بعد گارنٹر کے ڈیفالٹر ہونے اور کیس ریفنڈ میں بھیجنے کا میسیج کردیا گیا، وہ اس دفتر پہنچے تو مبہم ایگریمنٹ کی شق دکھائی کہ ان کا کیس ریفنڈ میں چلا گیا ہے اور رقم 3 ماہ بعد ادا کی جائے گی جس کے بعد وہ مہینوں چکر کاٹتے رہے مگر ان کی نہیں ملی۔
اس پر سید طحہٰ نے گزری تھانے میں مقدمہ درج کرایا کچھ معصوم لڑکے لڑکیاں گرفتار کیے گئے جنہیں پولیس نے معصوم کہہ کر چھوڑ دیا جب کہ کچھ نے ضمانتیں کرالیں اور پھر کچھ عرصے بعد انہوں نے گلشن اقبال فیڈرل بی ایریا اور دیگر علاقوں میں دفاتر کھول کر ایسے ہی سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے دیگر لوگوں کو بیوقوف بنانا شروع کردیا ہے۔
لٹنے والے ایسے متعدد شہریوں کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں جن میں سمیر سے ساڑھے 4 لاکھ، عبدالمعین 4 لاکھ، راشد 2 لاکھ 15 ہزار، چنگیز 1 لاکھ 20 ہزار، جمشید علی ساڑھے 3 لاکھ، فوزیہ جہاں ساڑھے 3 لاکھ، فصیح 1 لاکھ 60 ہزار، بلال 2 لاکھ 70 ہزار، ونیش ساڑھے 5 لاکھ، عدنان اقبال 1 لاکھ 30 ہزار اور عمران سے 6 لاکھ 40 ہزار روپے کا فراڈ کیا جاچکا ہے۔
پولیس کی ملی بھگت سے فراڈ میں تیزی آرہی ہے اور سیکڑوں افراد لٹنے کے بعد خوار ہورہے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس طرح کے فراڈ میں سرغنہ محمد وسیم، حافظ مرتضیٰ، مدیحہ انصاری، شیان عرف احمد مرکزی کردار ہیں جن کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں، یہ گروہ اب نام بدل کر پرکشش ناموں سے جعلی کمپنیوں کے سوشل میڈیا پر درجنوں اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں، کراچی سمیت کئی شہروں میں دفاتر قائم کرتے ہیں اور فراڈ کا بھانڈا پھوٹنے پر کمپنیوں کے نام اور مقامات تبدیل کرلیتے ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






